کرکٹ کا قتل

198

۔17ستمبر پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے بھارتی خوشنودی کے لیے عین موقع پر سیکورٹی خدشات کو جواز بنا کر پاکستان کا دورہ اچانک ختم کردیا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز ملتوی کردی گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مغرب نے افغانستان کا غصہ کرکٹ پر نکالا ہے۔ نیوزی لینڈ امریکا کا نان ناٹو اتحادی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے تین روز قبل ہی پاکستان کو دھمکیاں دی تھیں جبکہ پاکستان کی جانب سے افغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلا میں بھرپور طریقے سے مدد کی جس کا صلہ یہ دیا گیا کہ پاکستان میں کرکٹ کے امیج کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ بلاشبہ متنازع فیصلہ کرکٹ کی تاریخ میں نیا سیاہ باب ہے۔ نیوزی لینڈ نے سیکورٹی خدشات کا بے سروپا جواز گڑھ کر کے دنیا بھر میں شائقین کرکٹ کو حیران، افسردہ اور مایوس کردیا۔ اس کے پس پردہ کچھ عوامل ایسے بھی ہیں جن پر غور کیا جانا ضروری ہے، مثلاً نیوزی لینڈ کے نمائندے گریگ بارکلے جن کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا چیئرمین بنایا گیا ہے اور بھارت کی آشیر باد کے ذریعے گزشتہ برس نومبر میں تین سال کے لیے گریگ بارکلے آئی سی سی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کی سخت مخالفت کی تھی۔ نیوزی لینڈ کرکٹ اور حکومت کے متنازع فیصلے سے بھارت کی خوشنودی کے لیے عین وقت پر دھوکا دیا گیا۔
پاکستان میں کرکٹ کی رونقیں بحال ہورہی تھی جس پر بھارت میں ایک کہرام مچا ہوا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی لاکھوں مداحوں کے چہروں پر مسکراہٹ لا رہی تھی اور پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے کرکٹ بورڈ اور حکومت نے بڑی محنت کی تھی۔ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین سیکورٹی فورس موجود ہے اور اس قبل ہونے والے میچوں میں بھی ان ٹیموں کو بہترین فول پروف سیکورٹی فراہم کی گئی تھی۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی خود نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن سے بھی فون پربات کی اور انہیں سمجھایا کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسی دنیا کے بہترین انٹیلی جنس ایجنسیوں میں شامل ہے اور ان کی رائے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے تاہم نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے احتیاط کی پالیسی کے پیش نظر دورہ ملتوی کرنے کی استدعا کی۔
18برس کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان میں سیریز کھیلنے کے لیے آئی تھی اور ٹیم کی آمد سے قبل نیوزی لینڈ کی سیکورٹی ٹیم نے بھی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان نے بھی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی حفاظت کے لیے بھرپور اور فول پروف انتظامات کیے تھے اور ٹیم کی سیکورٹی کے لیے ایس ایس جی اور انفینٹری اور چار ہزار پولیس اہلکار موجود تھے۔ نیوزی لینڈ ٹیم انچارچ سے بغیر تماشائیوں کے میچ کھیلنے پر بھی بات کی گئی لیکن وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے۔ ادھر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے دورہ پاکستان بنا کوئی میچ کھیلے ختم کیے جانے کے بعد اب انگلینڈ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ انگلش بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ٹیموں کے دورہ پاکستان کے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔ شیڈول کے مطابق مرد اور خواتین کی انگلینڈ کی ٹیمیں 9اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں گی۔ خاص بات یہ کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ نے ایک ہی سیکورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ اس سال ویسٹ انڈیز نے بھی پاکستان کا دورہ کرنا ہے جبکہ اگلے سال جنوری میں پاکستان سپر لیگ سیون ہونی ہے اور اس کے فوراً بعد آسٹریلوی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ ان حالات میں مغربی دنیا پاکستان کے خلاف صف آراء ہوچکی ہے اور بقول وزیر داخلہ شیخ رشید دستانے پہنے ہوئے ہاتھ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔
بلاشبہ مغربی بلاک پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے کوشاں ہے اور پاکستان کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ افغانستان میں اپنی مرضی کے مطابق کام کرایا جاسکے۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا نے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو دھمکی دی ہے کہ آپ ہمارا موقف آئی سی سی میٹنگ میں سنیں گے۔ سیکورٹی کے حوالے سے یہ یکطرفہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہندوستان کا میڈیا پاکستان کے خلاف اس وقت شدید زہر اُگل رہا ہے۔ افغانستان میں ہونے والی بدترین شکست سے ان کے عذائم خاک میں مل گئے ہیں اور اربوں ڈالر کا انہیں نقصان پہنچا ہے۔ کورونا کے بدترین حالات کی وجہ سے بھارت میں کرکٹ کی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں اور پاکستان میں ہونے والی کرکٹ کی سرگرمیوں پر وہ تلملا رہا ہے اور پاگل ہوچکا ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس اہم معاملے کو اعلیٰ سطح پر بین الاقوامی فورم میں پیش کرے اور اس حوالے سے جو بھی حقائق ہوں انہیں قوم کے سامنے لایا جائے۔