تہذیب ہے حجاب

227

 

جماعت اسلامی حلقہ خواتین تہذیب ہے حجاب کے عنوان سے ایک مہم چلا رہی ہے۔ ویسے تو یہ بات خود ایک سوال پیدا کرتی ہے کہ ہر اچھے کام کی ابتدا جماعت اسلامی ہی کیوں کرتی ہے۔ حیا اور حجاب تو ایسا نازک موضوع ہے کہ جس کو چھیڑنا بھی شہد کی مکھی کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ صرف مغرب زدہ گھرانوں یا حکمرانوں کی مغربی کلاس کی خواتین اس پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہیں جو حجاب، حیا، پردے اور اسلامی احکامات سے متعلق ہیں، بلکہ مسلم معاشرے میںعام مسلمان گھرانے بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ یہاں خواتین کے حقوق کے نام پر جو مطالبات کیے جاتے ہیں ان پر غیر مسلم ممالک کا ریکارڈ بہت ہی خراب ہے۔ بہرحال جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے تہذیب ہے حجاب کا عنوان دے کر جو مہم شروع کی ہے اس میں حجاب اور پردے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے رہن سہن، معاملات، مرد و زن کی حدود اور کاموں کی تقسیم سمیت تمام امور کا احاطہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک کانفرنس بھی اسی عنوان سے منعقد کی گئی جس کا مقصد بھی یہی تھا کہ حجاب اور حیا کے بارے میں جو غلط فہمیاں مسلم معاشرے میں پھیلائی گئی ہیں ان کی اصلاح اور خاتمہ کیا جاسکے۔ اس کانفرنس میں جو نکتہ سب سے اہم تھا اور اسے خاص طور پر نوٹ کیا جانا چاہیے کہ حیا اور حجاب محض ڈیڑھ دو گز کے دوپٹے کا نام نہیں۔ مرد و زن پر یہ اصول یکساں لاگو ہوتا ہے۔ اسلامی اقدار کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں نے نہایت چالاکی سے یہ بات پھیلائی ہے کہ پردہ یا حجاب عورت پر ظلم ہے۔ اسے زبردستی قید کیا جاتا ہے لیکن اسلامی احکامات تو اس حوالے سے بھی اور ہر حوالے سے مرد و زن پر یکساں نافذ ہوتے ہیں۔ جہاں عورتوں کو چہروں پر اوڑھنیاں ڈالنے اور جسم ڈھانپنے کا حکم ہے اور نظریں نیچی کرنے کا تو مردوں کو بھی یہی حکم ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ اگر حدود اللہ کے نفاذ کا معاملہ ہو تو بھی چوری کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہی کے لیے یکساں سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس کانفرنس سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خواتین کے حقوق کے نام نہاد چیمپئن امریکا کا اصل چہرہ پیش کیا اور بتایا کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ امریکا میں گزشتہ ایک برس کے دوران 1181 خواتین کو ان کے شوہروں نے قتل کیا، 48 لاکھ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، اس طرح ہزاروں خواتین کے ساتھ زیادتی کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے خواتین کے لیے اہم مسائل پر توجہ دلائی کہ پاکستان میں لاکھوں خواتین ٹھیکیداری نظام کے تحت نوکری کرنے پر مجبور ہیں، حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کرتی۔ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ نہیں انہیں چنگچی میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس حوالے سے بے حسی ہے حکمران اور خواتین کے حقوق کی ٹھیکیدار تنظیمیں ان معاملات پر خاموش ہیں۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین اس حساس موضوع کو اٹھا کر اپنے گھروں کو بھی محفوظ کررہی ہے اور پاکستان کے مستقبل کی نسل کے تحفظ کی جدوجہد کررہی ہے۔ اللہ انہیں ہر قدم پر کامیابی عطا فرمائے۔ اس مہم کے دوسرے پہلو کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ این جی اوز اتنی بے چین کیوں ہیں۔ حال ہی میں ایک خبر برطانوی جریدے ٹائم نے جاری کی اس کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کے اسلامی لباسوں کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں ایک ترک کمپنی موڈانیسا کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اس کا کام پہلے صرف ترکی میں تھا اب مشرق وسطیٰ امریکا اور یورپ تک پھیل گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کمپنی کی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہونے پرلباس کا فیشن شو کرانے والی کمپنیاں بھی اس کمپنی کی مصنوعات کو اپنے شو میں استعمال کرنے لگی ہیں۔ مغرب چونکہ صرف پیسہ کمانے اور پیسے کا غلام بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے اس لیے اسے یہ فکر کھانے لگی ہے کہ اگر اسلامی لباس اس تیزی سے ترقی کرے گا تو پوری دنیا پر اس کے اثرات ہوں گے، اس لیے این جی اوز کو اس ایجنڈے پر لگادیا گیا ہے صرف ایک کمپنی کی کارکردگی نے مغرب کے ہوش نہیں اڑائے ہیں بلکہ ایسی درجنوں اور کمپنیاں ہیں۔ پاکستان میں کیا اثرات ہورہے ہیں اس کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اسکولوں، کالجوں، بازاروں اور گھروں میں خواتین کے اندر یہ پیاس پیدا ہوگئی ہے کہ اسلام خواتین کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔ خواتین کو تحفظ صرف اسلام ہی میں ہے اور خواتین یہ نکتہ جان بھی گئی ہیں۔ حال ہی میں سندھ اسمبلی کی رکن نصرت سحر عباسی نے بھی حجاب لے لیا۔ باقاعدہ پردہ کرنے لگیں، اس پر کچھ حلقوں نے تنقید کی لیکن وہ اپنے فیصلے میں اٹل ہیں اور انہوں نے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس طبقے کی خاتون کا اس طرح تبدیلی لانا نہایت خوش آئند ہے۔ نصرت سحر عباسی کو اللہ استقامت دے اور انہیں اس جانب خواتین اور بچیوں کو راغب کرنے کی توفیق بھی دے۔ یہ ساری جدوجہد یہ سارے نتائج ایک دن میں نہیں آئے ہیں۔ اگر مغرب کی طرف سے چالیں چلی جارہی ہیں تو اللہ کے دین کے نفاذ کی جدوجہد کرنے والے بھی تو تدبیریں کرتے ہیں، طویل جدوجہد کے نتیجے میں لوگوں تک یہ پیغام پہنچتا ہے۔ یقینا جماعت اسلامی کی مساعی کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں تک پیغام پہنچا، لاکھوں لوگوں کے کانوں تک کچھ نہ کچھ پہنچا ہے اس کے اثرات تو ہوں گے۔ ہر گھر میں یہ آواز پہنچ چکی ہے۔ اور دوسرے لوگ جو اس کام میں مصروف ہیں اللہ ان کی مساعی کو بھی قبول فرمائے۔ ایک صالح معاشرہ ہی خواتین کے لیے محفوظ معاشرہ ہے۔