شعیب اختر اور عاقب جاوید بچے ہیں ، سمجھدار ی کا مظاہرہ کریں ، وقار یونس

152

کراچی (اسٹاف رپورٹر)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق بولنگ کوچ وقار یونس نے شعیب اختراورعاقب جاوید کے بھاگ جانے اور کوچنگ سیکھنے کے بیانات کو بچکانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا چاہیے مگر جب کوئی ذرا سا دباو میں آتا ہے تو اس طرح کے الفاظ کہے جاتے ہیں،دونوں اچھے کرکٹر تھے، شعیب میری قیادت میں کھیلے بھی ،عمر کے ساتھ انسان سمجھدار ہوتا ہے مگر یہ دونوں شاید ابھی تک بچے ہیں،امید ہے کہ آئندہ سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے۔اپنے ایک انٹرویو میںقومی ٹیم کے سابق بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا کہ فیملی سے دوری اور کورونا جیسے مسائل تو تھے پھر جب پی سی بی میں نئے چیئرمین آئے تو لگ رہا تھا کہ وہ نیا سیٹ اپ اور لوگ لانا چاہ رہے ہیں،اس صورتحال میں مناسب یہی تھا کہ استعفی دے دیتا۔ اگر استعفی نہ دیتا تو شاید اس سے بھی بڑے مسائل ہوتے،میں پی سی بی اور کرکٹ کے معاملات کو اچھی طرح جانتا ہوں،روایت بھی یہی ہے کہ کسی تبدیلی کی صورت میں ایسا ہی ہوتا ہے،اسی لیے کہوں گا کہ بورڈ اور ملک کیلیے یہی دانشمندانہ فیصلہ تھا،نئے لوگوں کیلئے جگہ چھوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے پلانز پر عمل درآمد کرسکیں، بہتر نہیں کہ رونا دھونا شروع کردیا جائے۔انھوں نے کہا کہ میں قومی ٹیم سے وابستگی کے دور میں میڈیا پر بہت کم آیا،مجھے اپنی کوششوں سے آگاہ کرنا چاہیے تھا مگر میں خاموشی کے ساتھ پوری ایمانداری سے ذمہ داری نبھانے میں مصروف رہا۔رمیز راجا کی جانب سے دوبارہ کام کی پیشکش قبول کرنے کے سوال پر وقار یونس نے کہا اگر پی سی بی میں کوئی اسامی خالی ہو اور فیصلہ ساز سمجھیں کہ میں اس کام کیلیے موزوں ہوں تو بھاگوں گا نہیں،یہ میرا حق ہے اورمیں ذمہ داری لینے کیلیے تیار ہوں گا۔وقاریونس نے شعیب اختراورعاقب جاوید کے بھاگ جانے اور کوچنگ سیکھنے کے بیانات کو بچکانہ قرار دے دیا،انھوں نے کہاکہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا چاہیے مگر جب کوئی ذرا سا دبائو میں آتا ہے تو اس طرح کے الفاظ کہے جاتے ہیں،دونوں اچھے کرکٹر تھے، شعیب میری قیادت میں کھیلے بھی ہیں،عمر کے ساتھ انسان سمجھدار ہوتا ہے مگر یہ دونوں شاید ابھی تک بچے ہیں،امید ہے کہ آئندہ سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے۔