الیکشن کمیشن اپنے سربراہ کے فیصلوں پر نظرثانی کرے،حکومت

156
اسلام آباد: وفاقی وزراء فواد چودھری اور شبلی فراز مشترکہ پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت+صباح نیوز) وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کی زبان بول رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے اراکین اپنے سربراہ سکندرسلطان راجا کے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا کہ جو بھی بات کرتا ہوں وہ حکومت کی ترجمانی ہوتی ہے، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن 2 مختلف چیزیں ہیں، چیف الیکشن کمشنرحکومتی اصلاحات کے مخالف ہیں، اپنی ساکھ کھوبیٹھے ، سکندر سلطان راجا کے رویے پر تحفظات ہیں، انہوں نے الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں سے متعلق دانستہ طور پر اعتراضات اٹھائے،اپنی رپورٹ میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حق میں نکات نکال دیے ۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر خود کو تنازعات سے الگ کریں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو استعفا دے کر سیاست میں آئیں، وہ اپنے پاؤں سے آگے کی سوچ رکھیں۔ فواد چودھری کے بقول 2023ء کے انتخابات اصلاحات کی بنیاد پر ہوں گے ، کوئی اور راستہ نہیں ہے،ہر شہری متفق ہے کہ موجودہ انتخابی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے پاکستان کے اندر اپوزیشن انتہائی نالائق بچوں پر مشتمل ہے جنہوں نے زندگی میں اپنی کلاس میں کبھی کوئی کام نہیں کیا ہوتا،اپوزیشن رہنماؤں کی دلچسپی صرف اپنے مقدمات میں ہے، ان کی ہٹ دھرمی سے لوگوں کا جمہوریت سے اعتماد ختم ہوگا، اپوزیشن ہر اس کام کے خلاف کھڑی ہوجاتی ہے جو حکومت کو کرنا ہے، شیطان بھی دھرنا دے تو مریم نواز ساتھ کھڑی ہوں گی اور بلاول تالیاں بجائیں گے۔اس موقع پر شبلی فراز نے الیکشن کمیشن کو خبردار کیا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا منصوبہ 2028 ء پرنہیں جانے دیا جائے گا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس بل کو منظور کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں، عدالتی فیصلوں میں بھی کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں کوئی حرج نہیں،حکومت نے شفاف انتخابات کے لیے سنجیدہ کوشش کی ہے، بد قسمتی سے الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں تعاون نہیں کیا۔ بعد ازاں نجی ٹی وی کو انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہچیئرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے عمران خان اپوزیشن لیڈر کے ساتھ کسی قسم کی مشاورت کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ شہباز شریف خود ملزم ہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ملزم سے ہی پوچھیں کہ کر اگلا چیئرمین کو ن ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بطور چیئرمین نیب بڑا زبردست کام کیا ہے اور بڑی ریکوریز بھی کی ہیں، نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے حتمی رائے وزیر قانون، اٹارنی جنرل سے مشاورت کے بعد دیں گے کیونکہ اس وقت تولگ رہا ہے کہ ہم بالکل بند گلی میں پہنچ گئے ہیں جہاں پر موجودہ قانون کی تشریح کرنا مشکل ہو گیا ہے۔فواد چودھری نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں ملا جب نوٹس ملے گا تو وہ جواب جمع کروادیں گے، یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ الیکشن کمیشن کے تمام فیصلے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پہلے جاری ہوتے ہیں اور حکومت تک بعد میں پہنچتے ہیں،سیاستدان اگر وہ متنازع ہو جائے گا تو کوئی بات نہیں ،اگر جج یا الیکشن کمیشن متنازع ہوجائے گا تو وہ اپنے کردار سے انحراف کرے گا۔