معیشت مضبوط کرنے کا مقصد بھیک مانگنے سے بچنا ہے،شوکت ترین

103

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ معیشت کو مضبوط بنانا میرا پہلا مقصد ہے تاکہ آئی ایم ایف اوردوسرے مالیاتی اداروں سے بھیک نہ مانگنی پڑے، چاہتا ہوں کہ تنقید کرنے والوں کا منہ اپنی کارکردگی سے بند کروں انشاء اللہ اسی طرف گامزن ہوں۔ ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک معیشت کو مضبوط کرنا میرا مقصد اولین ہے تاکہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے دوسرا مقصد یہ ہے کہ غریب جو 70 سالوں سے صرف امید لگائے بیٹھا ہے ان کے لیے کچھ کیا جائے چاہتا ہوں کہ غریبوں کے لیے اتنا کچھ کیا جائے کہ مہنگائی کا ان پر اثر نہ پڑے۔جب تک معیشت نہیں بڑھے گی تب تک لوگوں کی آمدنی نہیں بڑھے گی ہم چاہتے ہیں معیشت مسلسل بڑھتی رہے اس کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ہم نے پہلی دفعہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ہے کہ تاکہ معیشت کا پیہہ چلتا رہے اور معیشت فروغ پاتی رہے پہلے کی طرح نہ ہو کہ معیشت چار پانچ سال بڑھے پھر رک جائے ہمارے ٹھوش اقداما کی بدولت شرح نمو بڑھ رہی ہے ہماری کوشش ہے کہ اگر اس سال شرح نمو 5فیصد تک جائے تو اگلے سال 7 اور پھر 9یا 10 پرچلے جائیں اور اس میں رکاوٹ نہ آئے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مخالفین تنقید تو کرتے رہتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ مخالفین کی تنقید کا جواب اپنی کارکردگی سے دوں تاکہ نقادوں کے منہ بند ہوں انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میںزراعت کا بڑا کردار ہے مگر افسوس کہ ماضی میں زرعی شعبے کی طرح کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔نتیجتاًزرعی اجناس درآمد کرنا پڑیں جس سے اشیائے خورونوش مہنگی ہو گئیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کو زرعی اجناس سے خود کفیل بنانے کے لیے کسانوں کو مزید سہولیات دینے کی ضرورت ہے موجودہ حکومت بیچ کے لیے نئے سینٹرقائم کررہی ہے پانی کے لیے ڈیم بنا رہی ہے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دے رہے ہیں تاکہ اڑھتی ہے ان کی جان چھوٹ جائے اور زرعی آلات اور بیج اور کھاد لے سکے۔کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت کسانوں کو زراعت اور کاروبار کے لیے منافع فری قرضہ دیں گے ان کو گھر بنا کر دیں گے اور صحت کارڈ بھی دیں گے مڈل مین کو درمیان سے نکال دیں گے کیونکہ مڈل مین زیادہ فائدہ اٹھا لیتا ہے اور نچلے طبقے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔کمرشل بینکوں سے سستے قرضوں کی فراہمی کا آغاز کیا گیا۔ بینکنگ کے شعبے میں اصلاحات لارہے ہیں۔