مولانا عبدالعزیز کیخلاف پولیس کو دھمکانے سمیت 2 مقدمات درج

99

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ نمائندہ جسارت) لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز، ان کے ساتھیوں اور طلبہ کے خلاف 2 مختلف مقدمات درج کرلیے گئے۔ تفصیلات کے مطابقنام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دارالحکومت انتظامیہ اور پولیس حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ مولانا کی بیوی کے زیر انتظام جامعہ حفصہ کی چھت پر طالبان کے جھنڈے لہرانے کے بعد درج کیا گیا، 21 اگست کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ یونیورسٹی کی چھت پر کم از کم 5 سفید جھنڈے لہرانے کے بعد ایک مدرسے پر افغان طالبان کے جھنڈے لہرائے گئے۔اطلاع ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے پولیس دستہ بھیجا جس نے مدرسے کو گھیرے میں لے لیا،پولیس کا مقابلہ کرنے کیلیے مدرسے کے کئی طلبہ چھت پر چڑھ گئے، دیگر طلبہ اور اساتذہ عمارت کے باہر پہنچ گئے اور کچھ لوگ جن میں مولانا عبدالعزیز بھی شامل تھے اور مسلح تھے انہوں نے پولیس کو للکارا اور مذاق اڑایا، مدرسے کے منتظم مولانا عبدالعزیز نے کھلے عام ٹی ٹی پی کا نام استعمال کرتے ہوئے پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، مولانا عبدالعزیز کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک وڈیو میں یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ ’’آپ ہمیں چھونے کی ہمت نہ کریں ورنہ آپ کو پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) سبق سکھائیں گے اسے ذہن میں رکھیں‘‘۔انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس حکام نے مولانا سے بات کی، جو مذاکرات کے بعد چھت سے جھنڈے ہٹانے پر راضی ہوگئے۔ حکام نے بتایا کہ یہ مقدمہ دارالحکومت انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کی ہدایت پر اے پی اے کی دفعات 124A (بغاوت) اور 188 (ایک سرکاری ملازم کے حکم کی نافرمانی) کے تحت درج کیا گیاتاہم ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک اور مقدمہ چودھری عبدالطیف چیئرمین انتظامیہ کمیٹی جامع مسجد الفلاح کی طرف سے درج کرایا گیا ہے۔ انہوں نے ایم ایم نیوز سے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ 14 ستمبر بروز منگل مسجد کے خادم نے اطلاع دی کہ صبح ساڑھے 6 بجے مولانا عبدالعزیز اپنے ساتھیوں ادریس اور دیگر افراد کے ساتھ اسلحہ سے لیس تھے، دروازے پر دستک دی، مسجد کے خادم نے دروازہ کھولا تو زبردستی مسجد کے اندر گھس آئے، انہیں منع کیا گیا تو انہوں نے اسلحے کے زور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔