میرپور خاص، آبادکاری کیخلاف قومی عوامی تحریک کی احتجاجی ریلی

67

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) قومی عوامی تحریک کی جانب سے سندھ میں افغان آبادکاری، وفاق کی جانب ملازمین کی ملازمتوں سے برطرفی، پانی کی چوری، زمینوں پر قبضوں اور سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے سمیت دیگر مسائل کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ اسٹیشن چوک سے پریس کلب تک نکالی جانے والی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ قومی عوامی تحریک کی جانب سے سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کیخلاف اسٹیشن چوک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ اس موقع پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ارباب نوحانی، مجید بگھیو، نثار احمد بھرگڑی، انور نوحانی، کامریڈ رازو مل اور دیگر نے کہا کہ سندھ میں افغانوں، بنگالیوں اور بہاریوں کو آباد کرکے سندھیوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ وفاق کی جانب سے 16 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے برطرف کر کے بے روزگار کردیا گیا ہے۔ سندھ کے حصے کا پانی چوری کر کے سندھ کی زمینوں کو بنجر بنایا جارہا ہے، سمندری جزیروں پر قبضے کیے جارہے ہیں لیکن ہم شدید مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ سے سوتیلی ماں والا سلوک بند کیا جائے۔ سندھ سے فوری طور پر غیر سندھیوں کو نکالا جائے سندھ کو اس کے حصے کا پورا پانی دیا جائے۔ سمندری جزیروں سے قبضہ ختم کیا جائے دیگر صورت میں احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلا دیا جائے گا۔ اس موقع پر مظاہرین سندھ کے حقوق کے لیے فلک شگاف نعرے بازی بھی کرتے رہے۔