لاڑکانہ، گریجویشن امتحانات میں بیشتر امیدواروں کی امتحانی سلپس غائب

66

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور انتظامیہ کا کارنامہ، گریجویشن امتحانات میں بیشتر امیدواروں کی امتحانی سلپس غائب، امتحانی سلپس جاری نہ ہونے کے باعث گرلز ڈگری کالج میں فیمیل امیدواروں کا سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے متاثرہ امیدواروں پارس، کلثوم و دیگر نے دہائی دیتے ہوئے کہنا ہے کہ سالانہ امتحانات کے لیے فارم فل کیا، 7 ہزار تین سو پچاس روپے کا چالان بھرا آج امتحان ہے لیکن سلپ نہیں دی جارہی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ 2 بجے بی ایس سی پارٹ ون کا پیپر شروع ہونا ہے، سلپس مانگ رہی ہیں کہا جا رہا ہے آپ کی سلپس نہیں آئین ہمارا سال ضائع ہوا تو کون ذمے دار ہوگا، پرنسپل گورنمنٹ گرلز کالیج لاڑکانہ کا کہنا ہے کہ بالکل بڑا مسئلہ ہے پہلے تو مینوئل کلرکس یونیورسٹی جا کر اپلائے کرتے اور سلپس لے آتے تھے،اس بار کالیج کی جانب سے یونیورسٹی کے بنائے گئے سافٹ وئیر میں اپلائے کیا گیا تھا اور ان کے مطابق انہیں فارم نہیں ملے، جبکہ ہمارے پاس سب ثبوت موجود ہیں سید اصغر شاہ صدر سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ صرف گرلز کالج کی 90 شاگرد امیدواروں کی امتحانی سلپس نہ آنا باعث افسوس ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کو ایسوسی ایٹ ڈگریز امتحانات کے پراسز کے لیے 8 ماہ کا وقت ملا تھا، آن لائن پراسز کے چکر میں دو سال میں چار مرتبہ امتحانات کا شیڈول ملتوی کر کے اساتذہ اور شاگردوں کو پریشان کیا گیا،یونیورسٹی انتظامیہ ہر سال امتحانات میں شاگردوں کو پریشان کرتی ہے، سید اصغر شاہ کا انکشاف کیا کہ مبینہ طور پر جان بوجھ کر فیمیل امیدواروں کو پریشان کیا جاتا ہے، کلرکس بعد میں مبینہ رشوت لے کر سلپس جاری کرتے ہیں، یونیورسٹی کنٹرولر محمد حسن ذمے دار ہیں، انہی کی ذمے داری بنتی ہے۔ اس حوالے سے گرلز کالج کے کلرک طارق کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث وہ پچھلے دو ہفتوں سے یونیورسٹی کے چکر کاٹ رہے ہیں صبح سویرے جاتے ہیں اور رات 2 بجے واپس آتے ہیں، اتنی پریشانی ہے کہ بتا نہیں سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف گرلز کالج میں ایم اے کی 450، بی اے کی 260 جبکہ بی ایس سی پارٹ ون کی 12 سو فیمیل شاگردوں کے فارم پر کیے آن لائن اپلائے کیا لیکن اب تک 90 فیمیل شاگردوں کی سلپس نہیں ملیں جو کہ نہ صرف شاگردوں بلکہ ہمارے لیے بھی پریشانی اور اذیت کا باعث ہیں۔