اسلام سے متصادم قانون سازی نا قابل قبول ہے ، ذکر اللہ مجاہد

58

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اسلام سے متصادم قانون سازی آئین سے غداری اور اسلام دشمنی ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں اسلام سے متصادم قانون سازی ناقابل قبول ہے۔جماعت اسلامی پاکستان غیر آئینی اور اسلام مخالف قوانین کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی قانون اسلام سے متصادم بنانے کی اجازت بالکل نہیں مگر بدقسمتی سے مدینہ کی ریاست کے دعویدار حکمرانوں نے ماضی قریب سے وفاق اور صوبوں میں بالخصوص پنجاب اور سندھ میں مختلف قوانین بنائے جو قرآن وحدیث کے صریح خلاف اور آئین پاکستان سے متصادم ہیں جنہیں ہر کلمہ گو مسترد کرتا ہے۔ ایک کے بعد ایک اسلام دشمن اور آئین پاکستان سے متصادم بل ملک میں پاس ہونا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے مدینہ کی ریاست کے دعویدار ہی اصل میں اسلام دشمن اقدامات کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میں قبول اسلام بل کی منظوری پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے ایک ایسا کالا اور شرمناک قانون منظور کیا جو اسلامی تعلیمات اور احکامات کے بالکل منافی ہے۔ سندھ اسمبلی میں منظور کیے گئے بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر افراد کا قبول اسلام معتبر نہیں ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کا شخص 21 روز تک قبول اسلام کا اعلان نہیں کرسکتا۔ایسی صورت میں اسلام قبول کرانے والے یعنی کلمہ پڑھانے والے اور نکاح خواں کے لیے کم از کم 5 سال یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، کلمہ اور نکاح پڑھانے والے شخص کی مذکورہ مقدمہ میں ضمانت بھی نہیں ہو سکے گی۔امیر لاہور نے کہا کہ نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان کی دشمن لابی حکومت کی گود میں بیٹھ کر غیر اسلامی قانون سازی کی ڈوریں ہلا رہی ہے۔ پوری پاکستانی قوم نظریہ پاکستان اور اسلام دشمن بل پاس کرنے والے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے مکروہ عزائم کو پوری طرح پہچان چکی ہے۔امیر لاہور نے کہا کہ ایسے قوانین کا مقصد صرف اسلام کی ترویج و اشاعت روکنے کی کوشش کرنا ہے کیونکہ اس وقت اسلام واحد مذہب ہے جو تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ بڑی تعداد میں اسلام کی حقانیت سے غیر مسلم متاثر ہو کر اسلام قبول کر رہے ہیں۔ جس سے غیر مسلم طاقتوں اور ملک میں موجود ان کے آلہ کاروں کو کافی تکلیف لاحق ہے۔سندھ میں موجودمغربی لابی کے لوگ، این جی اوز اور سندھ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے غیر مسلم خصوصاً ہندو ارکان نے نومسلموں کے ساتھ تعاون اور ان کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اداروں اور علماء کو ڈرانے کیلیے مذکورہ قانون پاس کیا ہے جس کی پوری قوم مذمت کرتی ہے۔میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قبول اسلام بل کو فی الفور واپس لیا جائے امیر لاہور نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل پارٹیاں یا چہرے بدلنے کے بجائے نظام کی تبدیلی میں ہے۔