آسڑیلوی پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ، 270 گرفتار

166
سڈنی: آسٹریلیا میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف جاری احتجاج کے دوران پولیس مظاہرین پر تشدد کررہی ہے

سڈنی (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلیا میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے جھڑپوں میں بدل گئے اور پولیس نے 270 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق آسٹریلیا کے شہر میلبورن اور سڈنی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کررکھے تھے۔ پابندیوں کے باوجود سیکڑوں افراد مظاہروں کے لیے سڑکوں پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق میلبورن میں 235 اور سڈنی میں 32 افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔آسٹریلیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے شہر میں پرتشدد جھڑپوں میں کئی پولیس افسران بھی زخمی ہوئے ۔ پولیس نے مظاہرین پر مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا ۔ ادھر پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ 6افسران کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ترجمان نے الزام عائد کیاکہ مظاہرین کا گروہ آزادی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے نہیں ، بلکہ صرف پولیس کے ساتھ لڑنے کے لیے آیا تھا۔ پولیس نے شہر کے وسط تک رسائی کو کم کرنے ، سڑکوں کو بند کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو روکنے کی کوشش کی ،تاہم مارچ کرنے والے اپنے راستے تبدیل کرتے گئے۔ پولیس کی بھاری نفری نے سڈنی میں ایک پارک کو گھیر لیا ، جہاں سے احتجاج جلوس روانہ ہونا تھا۔ نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر میں 20سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ واضح رہے کہ سڈنی کورونا وائرس کی ابتدا کے بعد سے اپنے چھٹے لاک ڈاؤن سے گزر رہا ہے ۔آسٹریلیا نے کورونا وائرس کے تناظر میں بند بین الاقوامی سرحدوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کو ختم کرنے کی کوشش شروع کی تھی کہ ڈیلٹا ویرینٹ کے باعث ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگادیا گیا۔ آسٹریلیا کے 2بڑے شہرسال کے شروع سے شدید متاثر ہیں اور حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کررکھی ہے۔