ٹی وی اشتہاروں میں بے ہودگی

131

وزیراعظم عمران خان اور اْن کی میڈیا ٹیم پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل لانے کی تیاری کررہی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرلیں، کیونکہ اس پر فیک (جعلی) خبریں چلائی جاتی ہیں۔ ایسا ہی ہے، لیکن ان جعلی خبروں سے کیا ہوتا ہے؟ محض حکومت پر الزامات اور اْس کی تھوڑی بہت بدنامی۔ اس سے کسی حکومت کو کبھی فرق نہیں پڑتا۔ اُسے اپنی بدنامی کی فکر نہیں ہوتی۔ لیکن مین اسٹریم میڈیا پر کیا چل رہا ہے اس پر وزیر اطلاعات فواد چودھری، وزیراعظم عمران خان اور خاص طور پر اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توجہ دینی چاہیے۔ ٹیلی نار کے ایک اشتہار میں پاکستانی معاشرے میں بے ہودگی کا پرچار کیا جارہا ہے، رشتوں کو پامال کیا جارہا ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمر کے احترام کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ اس قسم کا اشتہار معاشرے کے اخلاقی زوال کا سبب بن رہا ہے۔ مذکورہ اشتہار تو صرف مثال کے طور پر سامنے آگیا، ورنہ میڈیا کے ڈراموں اور دیگر اشتہارات وغیرہ میں کیا ہوتا ہے، محض اسلامی اقدار کا مذاق، پاکستانی معاشرے کے بجائے ایک اباحیت پسند معاشرے کی تشہیر، خواتین کے نامناسب لباس، چاکلیٹ اور آئس کریم پر ریجھ جانے والی لڑکیاں، اور ایجنڈے کے تحت خاندانی نظام کو تباہ کرنے والے پروگرام۔ ان سب کو روکنا کس کی ذمے داری ہے؟ پیمرا کہاں ہے؟ خواتین کے احترام اور ان کے وقار کی بات کرنے والے کہاں ہیں، خواتین کی بے توقیری پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا یہ سب کسی ایجنڈے کا حصہ ہیں؟