اعتراضات مسترد، 37 میں سے 27 اعتراضات الیکشن کمیشن کے اپنے خلاف چارج شیٹ ہیں، وفاقی وزراء

224

اسلام آباد: حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر لگائے گئے اعتراضات کو مسترد کردیا ہے۔

وفاقی وزراء چوہدری فواد حسین اور سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور اپوزیشن ایک ہی زبان بول رہے ہیں، الیکشن کمشنر نے اپنی رپورٹ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حق میں مواد کو غائب کیا ، الیکشن کمشنر کے اعتراضات ٹیکنالوجی سے نابلد ہونے کی مثال ہے، الیکشن کمیشن کے 37میں سے 27اعتراضات ان کے اپنے خلاف چارج شیٹ ہیں،صرف10اعتراضات ای وی ایم کے حوالے سے ہیں جو درست نہیں، وزیراعظم انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں، ضروری نہیں کہ یہی مشین استعمال کی جائے یہ تو صرف تجویز ہے، اپوزیشن اپنے پائوں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے،اپوزیشن نے سوچ لیا ہے کہ حکومت کے ہر کام کی مخالفت کرنی ہے، موجودہ اپوزیشن انتہائی نالائق بچوں پر مشتمل ہے، اگر شیطان بھی دھرنا دے دے تو مریم نواز اور بلاول بھٹو زراری شیطان کے دائیں اور بائیں دھرنے میں بیٹھ جائیں گے۔

وفاقی وزیر سائنس ایند ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ میں جو بھی کہتا ہوں میری ذاتی رائے نہیں حکومت کی ترجمانی ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر دونوں الگ چیزیں ہیں، الیکشن کمیشن ایک ادارہ ہے، چیف الیکشن کمشنر جب سے آئے ہیں ان کے رویے پر ہمیں تحفظات ہیں، اپوزیشن اور چیف الیکشن کمشنر ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشنر نے اپنی رپورٹ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حق میں مواد کو غائب کیا ‘ ایسے اعتراضات لگائے جس سے لگتا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ خلاف رپورٹ بنانی ہے، الیکشن کمشنر کے اعتراضات ٹیکنالوجی سے نابلد ہونے کی مثال ہے، چیف الیکشن کمشنر حکومتی اصلاحات کے مخالف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سمارٹ میٹک کمپنی نے الیکشن کمیشن کو ای وی ایم استعمال کرنے والے ممالک کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، فلپائن میں 2010 کا الیکشن ای وی ایم کے ذریعے ہوا جس کا نتیجہ چند گھنٹوں میں آگیا اس پر زیادہ اعتراضات بھی نہیں ہوئے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ای وی ایم پر2011 سے بات ہورہی ہے شفاف الیکشن کے لئے ای وی ایم کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے لئے پائلٹ الیکشن ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن نے ای وی ایم پر 37اعتراضات لگائے ان میں سے صرف دس ای وی ایم سے متعلق ہیں۔

رپورٹ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر دانستہ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں،الیکشن کمیشن نے اہم مواد کو اپنی رپورٹ میں شامل نہیں کیا اور اسے نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنے پائوں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت پیدا کریں، اپوزیشن نے بغیر دیکھے سوشل میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کی مخالفت کی دھرنے میں جا کر بیٹھ گئے بعد میں ان کو خود شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن نے سوچ لیا ہے کہ حکومت کے ہر کام کی مخالفت کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابی اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے، موجودہ اپوزیشن انتہائی نالائق بچوں پر مشتمل ہے، اگر شیطان بھی دھرنا دے دے تو مریم نواز اور بلاول بھٹو زراری شیطان کے دائیں اور بائیں دھرنے میں بیٹھ جائیں گے،اپوزیشن کو بڑی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابی اصلاحات کا نفاذ چاہتے ہیں اپوزیشن کو ہماری ترامیم منظور نہیں تو اپنی ترامیم لے آئیں ایسا ماحول نہ پیدا کریں جس سے لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد کمزور ہو۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے اس موقع پر کہا کہ 2010کی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ واضح ہے کہ الیکشن میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاسکتا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ای وی ایم بنائی۔ اپوزیشن آئے اور اپنی تجاویز دے۔ الیکشن کمیشن نے حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 37 میں سے 27 اعتراضات ان کے اپنے خلاف چارج شیٹ ہیں، صرف دس اعتراضات ای وی ایم کے حوالے سے ہیں جو درست نہیں۔ الیکشن کمیشن نے بالکل غلط اعتراضات لگائے۔ الیکشن کمیشن نے ای وی ا یم کے استعمال کے لئے کوئی پائلٹ پراجیکٹ نہیں کئے، ان کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کرنے کی نیت ہی نہیں ہے یہ بہت تشویشناک ہے۔ اپوزیشن انتخابی نظام کو غیر متنازعہ بنانا ہی نہیں چاہتی، انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال ضروری ہے، وزیراعظم انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں، ضروری نہیں کہ یہی مشین استعمال کی جائے یہ تو صرف تجویز ہے۔