فرانس امریکا پر برہم ،چین کارڈ کھیل گیا

201

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا اور برطانیہ کی جانب سے آسٹریلیا کو جوہری آبدوز ٹیکنالوجی دینے کے اعلان کے بعد فرانس اور یورپی یونین امریکا پر سخت برہم ہوگئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق معاہدے کی تفصیلات جاری ہونے کے بعد فرانس کی جانب سے اس پر سخت تنقید کی گئی۔ پیرس حکومت کی جانب سے جاری بیان میں امریکی ریاست بالٹی مور میں ہونے والے اجلاس کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ تقریب گزشتہ روز منعقد ہونا تھی، تاہم اچانک فیصلے کے بعد فرانسیسی بحریہ کے اعلیٰ افسر ملک لوٹ گئے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لودریاں نے کہا کہ ہم نے آسٹریلیا کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کیا اور اس اعتماد کو دھوکادیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ اس طرح کا کوئی معاہدہ ایک دو دن میں تیار نہیں ہوتا ۔ افسوس ہے کہ کسی نے ہم رجوع نہیں کیا۔ یورپی یونین نے بھی اہم معاہدے میں نظر انداز کرنے پر سخت مذمت کی ۔فرانس کی جانب سے سخت بیانات کے بعد امریکی وزیر خارجہ پیرس حکام کو منانے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب ہند بحرالکاہل عالمی طاقتون کے لیے توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی حکومت نے آسٹریلیا کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد غیر متوقع طور پر اچانک ایشیا پیسفک معاہدے میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سی پی ٹی پی پی نامی تجارتی معاہدہ دراصل امریکانے خطے میں چین کے اثررسوخ کو کم کرنے کے لیے بنایا تھا ، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 ء میں اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔ چین کے وزیر کامرس وانگ وینٹاؤ نے بتایا کہ آزاد تجارتی معاہدے کا حصہ بننے کے لیے نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت کو خط لکھ دیا گیاہے۔ نیوزی لینڈ اس معاہدے کے انتظامی امور سنبھالتا ہے۔ ادھر یورپی یونین نے بھی پہلی بار ہند بحرالکاہل خطے کے لیے حکمت عملی کا اعلان کردیا۔ یورپی یونین کے ترجمان جوزف بوریل نے اپنے بیان میں تائیوان کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے اور خطے میں اپنی بحری سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین تجارت اور سرمایہ کاری کے لحاظ سے ہند بحرالکاہل کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ وہاں بڑیآبی گزرگاہیں واقع ہیں، جو یورپی یونین کی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔