بھارت ،گزشتہ برس مذہبی فسادات میں اضافہ

118

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران عوامی نقل وحرکت محدود ہونے کے باوجود مذہبی فسادات میں اضافہ ہوا۔ تشدد کے سب سے زیادہ واقعات دارالحکومت دہلی میں رپورٹ کیے گئے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح بھارت میں بھی 2020ء کا بیشتر حصہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں گزرا۔ اس دوران نقل وحمل کی وسیع تر پابندیوں کے باعث دیگر جرائم میں تو کمی آئی، لیکن مذہبی بنیادوں پر ہونے والی جھڑپوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ بھارت میں گزشتہ برس 25 مارچ سے 31 مئی تک ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ رہا۔ حالیہ سرکاری رپورٹ کے مطابق 2020 ء میں مذہبی فسادات کے واقعات کی تعداد 2019 ء کے مقابلے میں دوگنا ہوگئی۔ جرائم کا ریکارڈ جمع کرنے والے قومی دفتر کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ ’کرائم ان انڈیا 2020ء‘ کے مطابق گزشتہ برس ملک میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 مقدمات درج کیے گئے ،جب کہ 2019 ء میں ان کیسوں کی تعداد 438 اور 2018 ء میں 512 تھی۔ اس کے علاوہ ان مذہبی فسادات میں سے 520 واقعات محض نئی دہلی میں پیش آئے، جو متنازع شہری قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا مرکز بنا رہا تھا۔ نئی دہلی میں گزشتہ برس فروری کے دوران مذہبی فسادات کے بدترین واقعات دیکھے گئے۔ یہ پرتشدد فسادات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی جانب سے منظورکردہ متنازع شہریت بل کے نفاذ کے نتیجے میں شروع ہوئے تھے۔ دہلی کے شمال مشرقی علاقے فسادات سے شدید متاثر ہوئے ، جہاں ، مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ 2روز تک جاری دنگوں میں 53 افراد ہلاک اور 200زخمی ہوگئے۔ متاثرین میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی۔