امریکا سے دشمنی بہتر

317

میسا چوسٹس سے نمائندے بل کیٹنگ نے انٹونی بلنکن سے سوال کیا کہ ’پاکستان نے گزشتہ 20 سال کے دوران بڑا متحرک اور بعض اوقات بڑا منفی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان طالبان کو بنانے میں کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئی ایس آئی کے حقانی نیٹ ورک سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بیان دیا تھا کہ افغانستان میں غلامی کی بیڑیاں توڑ دی گئی ہیں۔ امریکا خطے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے تو ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو کس طرح دیکھیں گے؟ وہ 6ستمبر 2021ء کو ایوان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سامنے افغانستان سے انخلا کے معاملے پر ارکان کی جرح کا سامنا کر رہے تھے۔
اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ’پاکستان کے گزشتہ 20 سال کے دوران کردار کے بارے میں آپ نے درست نشاندہی کی ہے۔ لیکن اب پاکستان کو اپنے آپ کو عالمی برادری کے ساتھ کھڑا کرنا ہوگا تاکہ وہ افغانستان کے حوالے سے عالمی برادری کی توقعات پر پورا اُتر سکے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی برادری کی توقعات پاکستان سے صرف یہی ہیں پاکستان امریکا کے کہنے پر اندرون ملک اور افغانستان میں مسلمانوں کا قتل ِ عام کرتا رہے۔ پاکستان کو بھی اس بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
21اگست 2021ء کو بیجنگ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کو 120 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں دہشت گردی کا شکار افراد، خاندانوں سے اظہار یکجہتی کی۔ عوام گزشتہ 2 دہائیوں میں دہشت گردی کا نشانہ بنے، پاکستان کے 70 ہزار افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے، ملک کی حفاظت کے لیے ہزاروں جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حقیقت میں یہ سب کچھ تو اعداد وشمار کے نتیجے میں سامنے آیا ہے اور اس میں بہت کچھ پوشیدہ بھی ہے۔ امریکا کے ڈرون حملے اور مدارس اور مساجدو امام بارگاہوں میں بم دھماکوں کے اعداد وشمار درست نہیں ہیں۔ وزیر خارجہ نے جواعداد وشمار پیش کیے ہیں ان میں لال مسجد اور دیگر مدارس میں مارے گئے بے گناہ لوگوں کو شمار نہیں کیا گیا، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ نام نہاد دہشت گردی کی امریکی جنگ میں ہونے والے اخراجات کا تخمینہ بھی بہت کم لگایا گیا اس کو درست کر نے کی اشد ضرورت ہے۔
انٹونی بلنکن نے کہا کہ پاکستان ’حقانی گروپ سمیت طالبان کے ارکان کو مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ انسداد دہشت گردی اور افغانستان کے بارے میں ہمارے مفادات کا ٹکراؤ بھی ہوا۔ اس موقع پر بھی انہوں بھارت کو دوست بتاتے ہوئے کہا کہ انڈیا افغانستان میں بہت اہم ادا کررہا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کانگریس کے قانون سازوں کے تنقیدی اور چبھتے ہوئے سوالات کے جواب میں اس بات پر اسرار کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان میں بدترین حالات کی بھی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی لیکن افغان فوج اور حکومت نے مایوس کیا۔ بلنکن کانگریس کے سامنے دو روز تک جرح کا سامنا کرتے، رہے لیکن وہ اپنے سیاسی حریفوں کو یہ بتانے میں ناکام رہے کہ طالبان کی تیزی سے جیت کی وجوہ کیا تھیں کس وجہ سے صدر جو بائیڈن نے 20 سالہ امریکی فوجی مشن کا اختتام کر دیا ہے۔ افغانستان سے اتنی عجلت میں انخلا اور وہاں سے نکلنے کے کئی خواہش مندوں کو پیچھے چھوڑے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جب انہوں نے ذمے داریاں سنبھالیں تو انہیں ایک اسپیشل امیگریشن ویزہ پروگرام ملا تھا جو ان لوگوں کے لیے تھا جنہوں نے افغانستان میں امریکا کی مدد کی تھی۔ لیکن وہ مہینوں سے بند اور غیر فعال تھا جسے انہوں نے زیادہ افرادی قوت اور مستعدی کے ساتھ شروع کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ سے سوال کیا گیا جب وہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے دیگر معاہدوں کو جن میں پیرس معاہدہ بھی شامل ہے ختم کرسکتے ہیں تو پھر انخلا کے معاہدے پر کیوں کاربند رہے جس کی وجہ سے جانوں کا نقصان بھی ہوا اور کئی افغان پیچھے چھوٹ گئے اور عالمی برادری کے سامنے امریکا کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا؟
اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان سے معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ نے کیا تھا جس میں ڈیڈ لائن طے کر دی گئی تھی اور طالبان نے کئی بار یہ واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ انخلا کے لیے طے کی گئی ڈیڈ لائن پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے ورنہ وہ اس معاہدے کو منسوخ سمجھیں گے جو ٹرمپ انتظامیہ سے کیا گیا تھا اور وہ حملے شروع کر دیں گے جو انہوں نے روک رکھے تھے۔ اگر ہم معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرتے تو طالبان ہم پر حملے کرتے جس کے جواب میں ہمیں وہاں مزید فورسز پانچ یا 10 سال کے لیے بھیجنی پڑتیں۔ اور امریکا کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔
انخلا کے بعد وہ افغانستان میں اس بات کو کیسے یقینی بنائیں گے کہ وہ پھر سے دہشت گردی کا مرکز نہ بن جائے اس سوال کے جواب میں انٹونی بلنکن نے کہا کہ ’افغانستان میں القاعدہ کو اس کی امریکا یا دیگر ممالک پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کیا ہے۔ طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ اگر وہ یہ کرتے ہیں تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔ لیکن ہم ان کے وعدوں پر انحصار نہیں کر رہے ہم نظر رکھیں کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے اور ہم یہ دیگر ممالک میں بھی کرتے ہیں جہاں ہمارے ’بوٹس آن گراؤنڈ‘ نہیں ہوتے۔ ہم ’ہائپر وجیلنٹ‘ رہیں گے۔ انہوں نے کمیٹی کے سامنے اس بات کا انکشاف کیا کہ افغان فورسز کو 20 سال کے دوران بہت سارا اسلحہ دیا گیا اور جب وہ ناکام ہوگئے تو سارا اسلحہ طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا لیکن ان کے مطابق اس اسلحے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ پڑوسی ممالک کے لیے خطرناک نہیں ہیں۔
امریکا کی کانگریس میں پیش کی گئی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے پاکستان کو فوجی اور معاشی معاونت کے لیے 2001 سے 2013 تک 25 ارب ڈالرز سے زائد رقم دی۔ فوجی معاونت کے لیے پاکستان کو 18 سے 20ارب ڈالر سے زائد اور معاشی معاونت کے لیے آٹھ ارب ڈالرز سے زائد رقم فراہم کی گئی۔ لیکن یہ رقم کہاں ہے اس بارے میں پاکستانی عوام کے سامنے اسٹیبلشمنٹ کو جواب دینے کی ضرورت ہے اس لیے کہ عام لوگوں کو حکمران یہی سمجھاتے رہے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی ہی ملک کی بقا و سلامتی اور معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
افغانستان کا ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے 18 سال تک جاری رہنے والی افغان جنگ کے پاکستان پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان نے اس جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا تو امریکا مخالف شدت پسند گروپ بھی پاکستان کے دْشمن بن گئے۔ پاکستان میں خود کش حملے شروع ہوئے تو وہیں پاکستانی حکام کے مطابق ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہونے کی بدولت امریکا نے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔ لیکن اس تعاون نے پاکستان کو تباہی کے دھانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے اب مزید تعاون ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے تباہ کن ہوگی۔