سید گیلانی… ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی! 2

282

’’سید علی گیلانی کو جماعت اسلامی نے اس طرح اپنی طرف کھینچا جس طرح مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ وہ اپنی معلمی کے دوران ہی جماعت اسلامی میں متعارف ہوگئے تھے اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتابیں ان کے زیر مطالعہ رہنے لگی تھیں۔ مولانا مودودیؒ کے بارے میں انہوں نے اپنی رائے کا اظہار اِن الفاظ میں کیا ہے۔ اسلام کو اپنے منبع اور مخرج کے حوالے سے علامہ مودودی نے ایک مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ انسانی معاشرہ، بالخصوص مسلم معاشرہ کسی صورت حال اور کسی اہم ترین مسائل سے دوچار ہے۔ ان کا کامیاب اور قابل عمل حل انہوں نے پیش کیا ہے۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اگر ان کی فکر اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کے دیے گئے خطوط کار کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنایا اور عملایا جائے تو اکیسویں صدی کا مسلمان آج بھی اپنا کھویا ہوا مقام و مرتبہ دوبارہ حاصل کرسکتا ہے‘‘۔ (ولر کنارے جلد دوم)
آخر 1953ء میں سید علی گیلانی جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے معلمی کی سرکاری ملازمت سے استعفا دے دیا اور اپنے آپ کو ہمہ وقتی کارکن کی حیثیت سے تحریک اسلامی کے لیے وقف کردیا۔ مولانا سعدالدین اس وقت جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے امیر تھے وہ جوہر شناس اور انتہائی زیرک انسان تھے۔ انہوں نے علی گیلانی کے اندر چھپے ہوئے جوہر کو فوراً بھانپ لیا اور انہیں جماعت میں اہم ذمے داریان سونپنا شروع کردیں۔ گیلانی صاحب جماعتی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کے ترجمان بھی بن گئے اور ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کھلم کھلا تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔ جماعت اسلامی کے اجتماعات میں وہ قابض بھارتی فوج کے مظالم کو تفصیل سے بیان کرنے اور اپنی پُرجوش خطابت کے ذریعے اپنے ہموطنوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کرتے، اس طرح وہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی نظر میں آگئے۔ آخر 28 اگست 1962ء کو انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ سید علی گیلانی کی یہ پہلی گرفتاری تھی لیکن انہوں نے بڑی پامردی اور صبرو استقامت سے قید کا سامنا کیا۔ بھارتی ایجنٹ جیل میں ان سے ملاقاتیں کرکے انہیں ورغلاتے رہے کہ اگر وہ معافی مانگ لیں اور حکومت کو اپنی وفاداری کا یقین دلائیں تو انہیں بھی رہا کیا جاسکتا ہے۔ انہیں ہر ماہ بھاری وظیفہ دینے کی بھی پیش کش کی گئی۔ ان سے کہا گیا کہ بے شک وہ جماعت اسلامی میں رہیں حکومت پر ہلکی پھلکی تنقید بھی کریں لیکن کشمیر پر بھارت کے قبضے کو متنازع نہ بنائیں اور بھارتی یونین کے اندر رہتے ہوئے اپنے ہموطنوں کے لیے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ راوی کا بیان ہے کہ سید علی گیلانی نے ان لوگوں کو بڑا خوبصورت جواب دیا ’’میں تو اپنی جان و مال کا سودا اپنے ربّ سے کرچکا ہوں، میں بکائو مال نہیں ہوں، یہ پیش کش کسی اور کو کرو‘‘۔ گیلانی صاحب تیرہ ماہ بعد رہا کردیے گئے لیکن یہ پیش کش ان کا تعاقب کرتی رہی۔
کانگریسی حکومتیں کشمیریوں میں اپنے حامی بنانے کے لیے یہی طریقہ واردات اپناتی تھیں، ان کا کشمیری لیڈروں سے کوئی لمبا چوڑا مطالبہ نہیں ہوتا تھا، بس ایک ہی خواہش ہوتی تھی کہ کشمیر میں بھارت کی عملداری کو چیلنج نہ کیا جائے، بے شک بھارت پر کڑی سے کڑی تنقید کی جائے، بھارتی فوج کے مظالم کو بھی نمایاں کیا جائے لیکن ’’ریڈزون‘‘ میں دخل اندازی نہ کی جائے۔ بہت سے کشمیری لیڈر اس ٹریپ میں آجاتے تھے اور ان کے لیے مراعات کا دروازہ کھل جاتا تھا۔ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے مراعات میں جوں جوں اضافہ ہوتا بھارت پر ان کی تنقید دم توڑتی چلی جاتی۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی حربہ تھا جس کے آگے بہت کم کشمیری لیڈر ٹھیر پائے اور کانگریسی حکومتوں نے بھارت نواز کشمیری لیڈروں کی ایک قابل ذکر تعداد اپنے گرد جمع کرلی لیکن وہ سید علی گیلانی اور ان کے رفقا کو اس جال میں نہ پھنسا سکیں اور قید و بند ان کا مقدر بن کر رہ گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد جماعت اسلامی نے ان پر بہت بڑی ذمے داری ڈال دی اور انہیں جماعت کا سیکرٹری جنرل بنادیا گیا۔ یہ منصب بہت زیادہ تحرّک کا تقاضا کرتا تھا۔ چناں چہ گیلانی صاحب اس ذمے داری کو پورا کرنے کے لیے غیر معمولی طور پر سرگرم ہوگئے۔ ان کی خانگی اور گھریلو زندگی بھی متاثر ہوئی لیکن وہ تو اپنے ربّ سے اپنی جان و مال کا سودا کرچکے تھے۔ یہ نقصان ان کے نزدیک کی اہمیت رکھتا تھا۔ انہوں نے جماعت اسلامی کو مقبوضہ ریاست کی مقبول ترین جماعت بنانے میں اپنا تن من کھپا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عوام میں آزادی کے شعلے کو بھی ہوا دیتے رہے۔ اجتماعات میں بھارتی استعمار کے خلاف کھل کر بولتے اور برملا کہتے کہ اہل کشمیر بھارت کے ساتھ ریاست کے نام نہاد الحاق کو تسلیم نہیں کرتے، وہ ذاتی طور پر بھارتی سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں، اگر اس جرم میں انہیں پھانسی کا پھندا بھی چومنا پڑا تو وہ اسے اپنی سعادت سمجھیں گے۔ گیلانی صاحب ان اجتماعات میں پاکستان کے ساتھ بھی کھل کر اپنی محبت کا اظہار کرتے اور کہتے کہ کشمیر کے تمام دریائوں کا رُخ پاکستان کی طرف ہے یہاں چلنے والی ہوائوں کی منزل پاکستان ہے۔ ہم پاکستانی ہیں اور ہمارا وطن پاکستان ہے۔ ہم اہل پاکستان کے ساتھ اسلام کی مضبوط رسّی سے بندھے ہوئے ہیں جسے نہ کوئی توڑ سکتا ہے نہ کاٹ سکتا ہے۔ جب ان کی یہ تقریریں بھارت کے لیے ناقابل برداشت ہوگئیں تو انہیں مئی 1965ء میں پھر گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد گرفتاری اور چند دنوں کے لیے رہائی ان کی زندگی کا معمول بن گئی۔ اس دوران بھارتی ایجنٹ بھی ان کا تعاقب کرتے رہے، انہیں غیر مشروط طور پر مالی امداد کی پیش کش کی گئی اور کہا گیا کہ ہم آپ سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرتے، ہماری خواہش ہے کہ یہ امداد آپ قبول کرلیں تا کہ آپ کو عُسرت بھری زندگی میں آسانی پیدا ہو اور آپ جیل جائیں تو آپ سے بیوی بچے آرام سے رہ سکیں، لیکن گیلانی صاحب نے اس دام ہمرنگ زمین میں پھنسنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے 1963ء سے 1977ء تک زیادہ عرصہ جیل ہی میں گزارا لیکن اپنے نظریات پر کوئی سمجھوتا نہ کیا۔
مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کے بارے میں اگرچہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کا موقف بالکل واضح تھا، وہ اسے متنازع علاقہ سمجھتی تھی جس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا ابھی باقی تھا، تاہم جماعت اسلامی مقبوضہ علاقے میں موجود سسٹم کو بھی نظرانداز کرنے کے حق میں نہ تھی اور اس کا خیال تھا کہ اس سسٹم میں بھی جماعت کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ چناں چہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا اور 1972ء میں پہلی مرتبہ جماعت نے ان انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کیے، اگرچہ سرکاری سطح پر انتخابات میں زبردست دھاندلی ہوئی لیکن عوام نے جماعت کے امیدواروں کی خوب پزیرائی کی اور سید علی گیلانی اپنے چار ساتھیوں سمیت ریاستی اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسمبلی میں نمائندگی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج کے مظالم کو بے نقاب کیا جائے اور کشمیریوں کے حق خودارادی کی حمایت میں آواز بلند کی جائے۔ پولیس کی کوشش تھی کہ گیلانی صاحب اسمبلی سے خطاب نہ کرنے پائیں، لیکن گیلانی صاحب پولیس کو جُل دے کر ایوان میں پہنچ گئے۔ ارکان اسمبلی سے خطاب کیا اور باہر نکل کر گرفتاری دے دی اور کافی عرصہ جیل میں رہے۔ 5 سال بعد 1977ء کے انتخابات میں گیلانی صاحب پھر منتخب ہوگئے اور انہیں ہرانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔ مارچ 1985ء میں گیلانی صاحب کو گرفتار کرکے پھر جیل بھیج دیا گیا۔ وہ ابھی جیل ہی میں تھے کہ کشمیر کی آزادی میں دلچسپی رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے ’’مسلم متحدہ محاذ‘‘ کے نام سے ایک سیاسی اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور طے پایا کہ 1987ء کے ریاستی انتخابات ’’مسلم متحدہ محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم سے لڑے جائیں گے اور اسمبلی پہنچ کر کشمیر کی آزادی کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ مولانا محمد عباس انصاری متحدہ مسلم محاذ کے کنوینر اور غلام قادر موانی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ متحدہ مسلم محاذ نے اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کیں تو پورے مقبوضہ علاقے میں بھونچال آگیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس بھی بوکھلا گئی، وہ فوج اور انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ سے ہمیشہ بازی لے جاتی تھی لیکن اب متحدہ محاذ کے آگئے اس کا چراغ بجھتا نظر آرہا تھا۔ عوام کا تمام تر رجوع متحدہ محاذ کی جانب تھا اور اس کے جلسے خوب رش لے رہے تھے۔ ان جلسوں میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے فضا گونجتی رہتی۔ سید علی گیلانی 22 ماہ بعد جیل سے رہا ہوئے تو حالات کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ ان کے انقلابی مزاج کو یہ رنگ سازگار تھا۔ چناں چہ وہ بھی اسی رنگ میں رنگے گئے اور متحدہ مسلم محاذ کے جلسوں میں گرجنے برسنے لگے۔ چوں کہ جماعت اسلامی محاذ کی سب سے اہم اتحادی تھی اس لیے محاذ کے جلسوں کو لوگ جماعت اسلامی ہی کے جلسے سمجھتے تھے۔ اس طرح جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
(جاری ہے)