تحریک طالبان سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں

403

قارئین جسارت کو مبارک ہو۔ امارت اسلامیہ کا احیا ہوگیا اور یہ فی زمانہ عالمی تحریک اسلامی کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔ ہم سب پر واجب ہے کہ اس تاریخ ساز واقعہ کی نوعیت کو سمجھیں اور ان اسباق کی روشنی میں جو اس کے مطالعہ سے عیاں ہوتے ہیں اپنی معاشرتی اور ریاستی حکمت عملی کی ترتیب نو کریں۔
تحریک طالبان کی ابتدا 1990 کی دہائی کے وسط سے شروع ہوتی ہے جب ملا عمرؒ کی قیادت میں افغان مدارس کے اساتذہ اور طلبہ ملک میں غلبہ دین کے لیے کارروائی شروع کرتے ہیں۔ اس زمانہ میں ملک میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی اور منظم مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں صرف شمالی اتحاد تھا۔ 1996 میں طالبان نے امارت اسلامیہ قائم کر دی۔ امارت اسلامیہ کے پہلے دورانیے میں طالبان کے قبائلی روابط مستحکم ہوتے چلے گئے۔ طالبان نے عوام کی اسلامی عصبیت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی۔ ایک مثالی شرعی عدالتی نظام ملک گیر سطح پر نافذ کیا۔ اس پورے دورمیں طالبان کو اندازہ تھا کہ جلد یا بدیر ان کا سامراج سے مقابلہ ہو گا۔ اس مقابلے کی تیاری پہلے دن ہی سے جاری تھی۔ چنانچہ جب 2001 میں سامراج حملہ آور ہوا تو پورے ملک میں ایسے کئی بیس کیمپ موجود تھے جہاں طالبان دوبارہ منظم ہو سکتے تے۔ طالبان کی یہ وقتی پسپائی اس لیے ضروری تھی کہ انہیں خوب اندازہ تھا کہ شہری عوام دشمن کے لیے تر نوالہ ثابت ہوں گے اور مزاحمت کو ابتداً ان علاقوں تک محدود رکھنا لازم ہو گا جن پر سامراج اور اس کی پٹھو انتظامیہ کی گرفت ہمیشہ واجبی رہی ہے۔
2001 سے آج تک جاری رہنے والی جہادی مہم کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں: 1۔ نہایت نامساعد حالات اور کئی بڑی پسپائیوں کے باوجود طالبان کی قیادت کبھی نصرت الٰہی سے مایوس نہیں ہوئی اور ہمیشہ عزیمت کے ساتھ اپنی عسکری اور معاشرتی حکمت عملی کی ترتیب نو کی جاتی رہی۔ 2۔ پورا انحصار افغانیوں کی اسلامی عصبیت کو ابھارنے پر کیا گیا۔ قیادت نے کبھی کوئی قوم پرستانہ، اشتراکی یا سوشل ڈیموکریٹ دعوے نہ کیے۔ 3۔ ہر مجاہد کے دل میں یہ بات اچھی طرح بٹھا دی گئی کہ جہاد کا مقصد حصول شہادت کے سوا اور کچھ نہیں۔ دونوں امرا، ملا عمر مجاہد اور ملا اختر منصور شہید ہوئے اور جب امیر المومنین ملا ہیبت اللہ سے ان کا تاثر پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ کا فضل ہے لیکن مجھے اس کا افسوس ہے کہ میں شہید نہ ہوا۔ 4۔ اس پورے دور میں افغان قبائلی نظام کے ساتھ تحریک طالبان کی انتظامی پیوستگی کو فروغ دیا گیا۔ قبائلی رسوم و رواج شرعی احکامات کے تناظر میں پرو دیے گئے اور سامراج اور اس کے پٹھوں کی معاشرتی اجنبیت کو اجاگر کیا گیا۔ 5۔ عسکری حکمت عملی عدیم المثال رہی۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس نے ایک واضح منصوبہ کے تحت وار آف پوزیشن کو وار آف مینوور میں بدلنے کی بتدریج کامیاب کوشش کی۔ نسبتاً قلیل عسکری قوت کے باوجود دشمن کے حساس علاقوں کے خلاف منظم کارروائی کی گئی۔ یاد رہے کہ غدار فوج کی نفری دو لاکھ سے زیادہ تھی اور آخری وقت اس کی فضائی برتری کا کوئی توڑ موجود نہیں تھا۔ مجاہدین کی تعداد تقریباً ہزار تھی اور انہیں کوئی فضائی دفاع میسر نہ تھا۔ 6۔ طالبان نے غدار فوج میں اپنا پروپیگنڈا جاری رکھا اور دخول کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں کئی امریکی اور غدار افغان افسران مارے جاتے رہے اور غدار فوج میں اس کا اعتماد مجروح ہوتا رہا۔ 7۔ دشمن سے کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مطالبے کو سختی سے رد کر دیا گیا۔ مذاکرات محض ایک عسکری حربہ ثابت ہوئے۔ حملے مستقل جاری رہے۔ امریکی سفارت کاروں کو بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ 8۔ دیگر اسلامی گروپوں کو جہادی عمل سے تعاون کرنے کی بھرپور کوشش جاری رہی۔ پورے دورمیں طالبان نے کئی دوسرے اسلامی گروہ کے افراد کو دشمن کے حوالے نہیں کیا۔ کبھی کسی دوسرے اسلامی گروہ پر حملہ آور نہ ہوئے۔ جب غدار حکومت کی جیلوں سے قیدیوں کو رہا کیا گیا تو اپنے اور دیگر اسلامی گروہوں کے قیدیوں میں تمیز نہ کی گئی۔ 9۔ آج بھی تمام مخلصین دین کے گروہوں سے سیاسی مشاورت جاری ہے۔ یہ واضح رہے کہ 1996 تا 2001 کے دور کی طرح آج بھی طالبان کی کوشش ہو گی کہ امارت اسلامیہ کی انتظامیہ زیادہ سے زیادہ علما کرام اور مخلصین دین کے گروہوں پر مشتمل ہو۔
تحریک طالبان کی کامیابی کے نتیجے میں عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ لیکن یہ دراڑ نہایت خفیف ہے۔ سامراج کے افغانستان سے دستبردار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نظاماتی تناظر میں افغان معیشت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ افغانستان کے سرمایہ دارانہ نظام سے انخلا سے جو خطرہ سامراج کو پیدا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ دیگر علاقائی ممالک بھی اس قسم کے انخلا کے امکانات پر غور کریں گے۔
آج عالمی سرمایہ دارانہ نظام کئی عمیق بحرانوں کا شکار ہے۔ یہ بحران بنیادی طوپر اعتقادی اور علمیاتی ہیں۔ جاہلی علمیت سائنس کی لغویاتی مابعدالطبیعات نے انسان اور کائنات کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان حالات میں کسی ایک علاقے سے سامراجی تسلط کی بے دخلی عالمی سامراجی نظام کی تسخیر کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے اور اس قسم کی بے دخلی کو امریکا برداشت نہیں کرے گا۔ وہ افغانستان میں تخریب کاری کے عمل کو جاری رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ اس تخریب کاری کے افغان آلہ کار دو ہوں گے: قوم پرست۔ لبرل اور اشتراکی دہریہ۔
قوم پرستوں کا زور غیر پختون علاقوں میں ہے، اس مہم میں کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنی جلدی غیر پختون علاقوں میں مقامی اسلامی قیادت کی تحکیم کو قائم اور مستحکم کیا جائے۔ جہاں تک لبرلوں اور اشتراکیوں کا تعلق ہے وہ تعداد میں محدود ہیں لیکن غدار حکومت نے انتظامی، اقتداری ذمے داریاں انہیں کے سپرد کی تھیں۔ یہ ایک قلیل تعداد ہے لیکن اس کے حاملین کا معاشرتی اثر و نفوذ کہیں زیادہ ہے۔ ان دہریہ طبقوں کی اب یہ کوشش ہو گی کہ اپنی انتظامی گرفت کو قائم رکھتے ہوئے عوام میں مایوسی اور احساس محرومی پھیلائیں۔ یہ شرعی احکام کی تنفیذ کی درپردہ مخالفت کریں گے۔ ہیومن رائٹس کے سامراجی بیانیہ کی تشہیر کریں گے۔ عالمی نظام سے جڑے رہنے کے قومی فوائد گنواتے رہتے ہیں گے۔ فواحش کو برداشت کرنے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔ ان دہریوں کے شر کو زائل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ: ان کے نمائندوں کو کلیدی سرکاری اداروں سے معطل کر کے ملک بدر کیا جائے۔ ان کلیدی عہدوں پر علمائے کرام، مخلصین دین اور طالبان کو مقرر کیا جائے جو پورے سرکاری عملہ کی نگرانی کریں۔اب میں اس بات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کروں گا کہ پاکستان کی اسلامی تحریکات طالبان کی جدوجہد سے کیا سبق حاصل کر سکتی ہیں۔
پاکستان سرمایہ دارانہ دنیا کا کوئی سرحدی علاقہ نہیں (جیسا کہ افغانستان تھا)۔ یہاں سرمایہ دارانہ ریاستی نظام نہایت مستحکم ہے جو اس علاقہ میں پچھلے دو سو سال سے قائم ہے۔ شہری اور دیہی آبادی دونوں جگہ سرمایہ دارانہ معاشرت پھیل گئی ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت اس ریاستی نظام سے وابستہ اور اس معاشرت سے منتشر ہے۔ ایسے میں تحریک طالبان کے تجربات سے استفادہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس لیے بھی کہ پاکستان پر سرمایہ دارانہ سامراجی غلبہ کبھی بالواسطہ نہ رہا۔ لیکن افغان جہاد کی کامیابی ہماری چند اہم کمزوریوں کی نشان دہی کرتی ہے۔ پہلی کمزوری یہ ہے کہ ہم پاکستانی ریاست و معاشرت کی سرمایہ دارانہ ہیئت کو مسخر کرنے کی کوئی حکمت عملی مرتب نہ کر سکے۔ ہمارا تخاطب عوام الناس کے لیے اجنبی اور ناقابل فہم رہا۔ تحریکات اسلامی منتشر اور غیر مربوط ہیں۔ انقلابی اور اصلاحی تحریکات میں تعاون کبھی قائم نہ ہو سکا۔ ہم عوامی رسوم و روایات کو حقارت کی نظر سے دیکھتے رہے اور ہم نے اسلامی عوامی صف بندیوں (قبائل، برادریوں، صوفی سلاسل) کو ریاستی جدوجہد میں پرونے کی کوئی کوشش نہ کی۔ یہ عوامی ادارتی سطح کی صف بندی کو کبھی فروغ نہ دے سکے۔ نہ معاشرتی سطح پر نہ ریاستی سطح پر۔
ہماری دعوت میں اپنے فطری انتخابی حلقے نظرانداز ہوگئے۔ یہ انتخابی حلقے ملک کی تقریباً پانچ فی صد آبادی پر مشتمل ہیں اور اس کی تعداد دو کروڑ ہے۔ مخلصین دین کے اس انتخابی حلقہ کو بااقتدار بنائے بغیر اس موالیاتی نظام کو منتشر نہیں کیا جا سکتا جس میں عوام پیوست ہیں۔ مسجد اور مدرسہ کی ادارتی صف بندی کے تحت عوام کو منظم نہ کر سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عملاً ہم نے دہریت کے خلاف ہتھیار ڈال دیے اور پاکستانی مذہبیت کا دائرہ انفرادی قیادت تک محدود رکھنے پر قانع ہو گئے۔ پھر ہم سرمایہ دارانہ نظام کی قیادت کے انہدام کے لیے نہیں اس میں اصلاح کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ ہم نے اشتراکیت کو تو 1970 کی دہائی میں علامتی شکست دے دی لیکن اس سے بہت قبل مسلم قوم پرستی اور سوشل ڈیموکریسی کے شکار ہو گئے۔ وہ کون سی اسلامی جماعت ہے جو ہیومن رائٹس کے فاسد فلسفہ کی وکیل نہیں۔ جو قومی مفاد کی دہائی نہیں دیتی۔ جس کا منشور سوشل ڈیموکریٹ دعووں اور وعدوں سے بھرا پڑا نہ ہو۔ درست ہے کہ طالبان نے عسکری جدوجہد کا جو طریقہ اختیار کیا وہ پاکستان جیسے ممالک میں خود کشی کرنا ہے۔ جہاد کا یہ طریقہ صرف ان ممالک میں کامیاب ہو سکتا ہے جہاں ریاستی اور معاشرتی نظام سرمایہ دارانہ مراکز سے غیر وابستہ ہے اور جہاں سامراجی تحکم کو قائم رکھنے والی قوت بیرونی سامراجی ہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جیسے ممالک میں ہم سرمایہ دارانہ غلبے کو دائمی طور پر قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ ہر ملک میں انقلابی اسلامی عمل کو جاری رکھنے کا طریقہ وہاں کے حالات کو پیش نظر رکھ کر مرتب کرنا چاہیے۔ مثلاً ایران میں علما نے جو انقلاب برپا فرمایا وہ طالبان کے انقلابی طریقہ سے مختلف تھا۔ پاکستان میں جو انقلابی عمل کا طریقہ وضع کیا جائے گا وہ ایران اور افغانستان دونوں سے مختلف ہو گا۔مثلاً ہم جمہوری عمل میں شرکت پر مجبور ہیں۔ ایسا نہ ایران میں 1979 سے پہلے تھا نہ افغانستان میں۔ برصغیر میں انتخابی عمل بیسویں صدی کی ابتدا سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور اس عمل کو رد کرنے کا کوئی موقع یہاں موجود نہیں۔ ہمیں ایک ایسا طریقہ ایجاد کرنا ہے جس کے ذریعے اس موالیاتی نظام کو منتشر کیا جا سکے جس کا سہارا لے کر سرمایہ دارانہ تغلب قائم کیا جاتا ہے۔