آٹا، چینی، گھی کی قیمتیں اور عوام کی گھبراہٹ

178

آٹا، چینی اور گھی ان تین اشیاء کی بے قابو قیمتیں عام آدمی کو براہ راست اور سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہیں اور اگر کوئی کسر باقی رہ جاتی ہے تو وہ بجلی کے بل پوری کر دیتے ہیں ان بلوں کے بڑھنے کا سلسلہ مزید جاری رہا جس کی امید کی جا سکتی ہے کہ جاری رہے گا تو وہ دن دور نہیں کہ عام آدمی کو خالی پیٹ کے بجائے بجلی کے بل ادا کرنے کی زیادہ فکر لاحق ہو جائے گی۔ بجلی کے متعلق کسی الگ نشست میں سہی، آج ہم زندگی بچانے والی تین بنیادی اشیاء پر بات کر لیتے ہیں سب سے پہلی بنیادی چیز آٹا ہے جو گھر میں موجود ہو تو انسان روکھی سوکھی یا میسر ہو تو اچار یا مرچ سے بھی کھا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا سکتا ہے گزارا کر سکتا ہے۔ گھی میسر ہو جائے تو سوکھی روٹی پر تھوڑا سا لگا کر اسے کھانے اور چبانے کے لیے مزید آسانی پیدا کی جا سکتی ہے اور انسانی جسم کو چکنائی کی ضرورت بھی ایک حد تک پوری کی جا سکتی چینی میسر ہو تو پانی میں تھوڑی سی پتی اور چینی ڈال کر بغیر دودھ کے چائے پی جا سکتی ہے جسم کی شکر کی ضرورت کے ساتھ ساتھ چائے کا نشہ بھی پورا کیا جا سکتا ہے لیکن افسوس کہ یہ تینوں اشیاء حکومت کی ناقص یا کمزور پالیسیوں کی وجہ سے روز بروز مہنگی ہو کر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ معلومات کے مطابق سیکرٹری انڈسٹریز نے 30 جولائی 2021 کو چینی کا ایکس مل ریٹ 84 روپے 50 پیسے مقرر کیا تھا اور پرچون ریٹ 89 روپے 50 پیسے مقرر ہوا تھا لیکن حکومت عام مارکیٹ میں اس پر عملدرآمد کرانے کے لیے آج تک مکمل طور پر ناکام چلی آرہی ہے ڈپٹی کمشنر صاحبان کاروائیاں کر رہے ہیں لیکن ان کے اختیارات کی بھی ایک حد مقرر ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ صاحبان کا اختیار بھی زیادہ تر پرچون فروشوں تک ہی محدود ہے بڑے مگر مچھ ان کے اختیارات سے بچ نکلنے میں کامیاب چلے آ رہے ہیں۔ چینی کی زیادہ تر ملوں کے مالکان کابینہ اور حکومت میں شامل اور عوام کے مسائل کے حل کا درد لیے اسمبلیوں میں بھی موجود ہیں ذمے دار کون اس کا تعین کرنا مشکل نہیں ہے مسئلہ کہاں سے اور کس طرح حل کیا جا سکتا ہے۔
اس کو سمجھنا بھی کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے آٹے اور گھی کے لیے حکومت کی کیا پالیسی ہے یہ بھی ابھی تک واضح نہیں ہے گھی کی قیمت عوام کے لیے نامعلوم وجوہات کی بنا پر چینی کی طرح ڈبل سے بھی زیادہ ہو چکی ہے حکومت کی طرف سے کسانوں سے لاکھوں ٹن گندم خریدنے کے باوجود آٹے کی قیمت کنٹرول سے باہر ہے اور خبروں کے مطابق خریدی گئی گندم پاسکو کے اسٹوروں کے اندر اور باہر بارش سے بھیگ کر برباد ہو رہی ہے فلور مل مالکان اکثر گلہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے ان کو ضرورت کے مطابق گندم مہیا نہیں کی جا رہی بہرحال جیسے کیسے حکومت کی طرف سے عوام کو ریلیف پیکیج کے ذریعے جو آٹا مہیا کیا جاتا ہے اس میں سے عام آدمی کے لیے مضر صحت میدہ، سوجی اور دیگر اشیاء نکال لی جاتی ہیں اور فائن آٹے تک پہنچ صرف ان لوگوں کی ہے جن کی صحت کے متعلق حکومت کو بالکل فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اب گھی کے ریٹ ڈبل سے بھی زیادہ ہونے کی نہ تو حکومت کی طرف سے کوئی مستند اور قابلِ قبول منطق پیش کی جا سکی ہے نہ ہی حکومت کی پالیسی عام آدمی کو سمجھ میں آئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحبان کی طرف سے جو پرائس لسٹ جاری کی جاتی ہے اس کے مندرجات بہرحال عوام اور عام آدمی تو سمجھنے سے قطعی طور پر قاصر ہے، انتہائی ضروری ان تینوں اشیاء کی قیمت مقرر کرنے کے لیے یا تو حکومت کے پاس ابھی تک سرے سے کوئی پالیسی ہی نہیں ہے یا پھر حکومت سرمایہ داروں کے سامنے ہتھیار ڈال چکی ہے۔
بہرحال عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے حکومت کو جو بھی کرنا ہے قیمتی وقت ضائع کیے بغیر جلد از جلد کرنا ہوگا ورنہ عوام اب گھبرانے کی اجازت چاہتے ہیں بلکہ کچھ کچھ گھبرانا بھی شروع کر دیا ہے جو کنٹونمنٹ بورڈز کے پورے پاکستان میں ہونے والے الیکشن کے نتائج بالخصوص پنجاب کے نتائج سے ثابت ہو چکا ہے متوقع بلدیاتی الیکشن سے پہلے اگر حکومت نے عوام کی مزید گھبراہٹ دور کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوشش نہ کی تو شاید عوام کو گھبرانے کی اجازت لینے کی بھی ضرورت نہ رہے اور عین ممکن ہے الیکشن 2023 تک عوام مکمل طور پر گھبرا چکے ہوں۔