نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی

159

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے ساتھ پیر سے شروع ہونے والی کرکٹ سیریز عین آخری لمحات میں منسوخ کر دی۔ مہمان ٹیم کے سیکیورٹی حکام نے پیر کے روز پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے بتایا کہ انہیں سیکیورٹی تھریٹ ہے، اس لیے وہ پاکستان میں کرکٹ نہیں کھیلیں گے۔ پاکستانی حکام نے جب سیکورٹی تھریٹ کی تفصیل اور نوعیت سے متعلق استفسار کیا تو نیوزی لینڈ کی جانب سے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا گیا۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے انہیں ہر ممکن یقین دہانی کرائی کہ ہمارے تمام متعلقہ ادارے پوری طرح چوکس ہیں اور انہیں ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جائے گا مگر نیوزی لینڈ کی سوئی سیریز نہ کھیلنے ہی پر اٹکی رہی، انہیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ بغیر شائقین اور تماشائیوں کے کھیل جاری رکھا جائے مگر انہیں نہ ماننا تھا نہ مانے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خاں جو ان دنوں تاجکستان کے دورے پر ہیں اور خود بھی کرکٹ کی دنیا میں نام کما چکے ہیں، انہیں تاجکستان میں صورت حال کی نزاکت سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے ذاتی طور پر رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہترین اور ہر لحاظ سے قابل اعتماد ہے مگر یہ رابطہ بھی مثبت نتائج نہ دے سکا اور نیوزی لینڈ ٹیم کی واپسی کی ضد جاری رہی چنانچہ اب اطلاعات کے مطابق تحفظ و سلامتی کی ہر طرح کی یقین دہانیوں پر اعتماد سے انکار کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم منگل کو خصوصی پرواز کے ذریعے اپنے وطن واپس اڑان بھرنے والی ہے۔ پاکستان میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر لاہور کے قذافی سٹیڈیم کے قریب ہونے والی تخریب کاری اور دہشت گردی کی ایک کارروائی کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ شدید بحران سے دو چار چلی آ رہی تھی حتیٰ کہ پاکستان کو اپنی پی ایس ایل سیریز بھی بیرون ملک منتقل کرنا پڑی، دس گیارہ برس تک کوئی بیرونی ٹیم پاکستان میں کھیلنے کے لیے نہیں آ سکی تاہم ہمارے سلامتی اداروں نے شب و روز کی انتھک محنت اور بے شمار قربانیوں کے بعد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر اور قابل اعتماد بنایا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر اپنی قوم اور عالمی برادری کا اعتماد بحال کیا جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ پی ایس ایل کا پاکستان کی سرزمین پر انعقاد ممکن ہوا بلکہ سری لنکا، بنگلہ دیش، زمبابوے اور جنوبی افریقہ جیسی کرکٹ ٹیموں نے بھی مختلف میچ کھیل کر پاکستان میں امن و امان کے حالات کو قابل اعتماد قرار دیا اور وطن عزیز میں کھیل کے میدان آباد ہوتے محسوس ہونے لگے، اب نیوزی لینڈ ٹیم کی آمد سے قبل ان کے سیکیورٹی سے متعلق اہلکاروں نے پاکستان کا دورہ کیا اور یہاں ٹیم کے تحفظ سے متعلق انتظامات پر اعتماد کا اظہار کرنے کے بعد ٹیم کو دورے کی اجازت دی اور 18 سال بعد نیوزی لینڈ ٹیم پاکستان پہنچ گئی ٹیم کے کھلاڑی گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے اسلام آباد میں گھوم پھر رہے تھے اور مکمل محفوظ تھے۔ ٹیم کو یہاں پریکٹس میں بھی کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔ سترہ ستمبر کو دونوں ٹیموں کے مابین سیریز کے پہلے میچ کے تمام انتظامات مکمل تھے، کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے پاک فوج، ایس ایس جی اور پولیس کے دستے مکمل طور پر چوکس اور ڈیوٹیوں پر موجود تھے، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی، جو دنیا میں ممتاز مقام رکھتی ہیں، اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دے رہی تھیں اور ان کی جانب سے کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی سے متعلق کسی قسم کے خدشات و خطرات کا کوئی اظہار کسی مرحلے پر نہیں کیا گیا، گرائونڈ میں بھی تیاریاں مکمل تھیں، دور و نزدیک سے کرکٹ کے شائقین بھی پہنچنا شروع ہو گئے تھے کہ اچانک ان پر نیوزی لینڈ کی ٹیم کے مبہم سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ بم بن کر گرا جس سے کرکٹ شائقین کو شدید دھچکا لگا اور انہیں غیر متوقع صورتحال میں مایوسی اور پریشانی سے دو چار ہونا پڑا… اب اطلاعات ہیں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی سیریز کھیلے بغیر واپسی کے بعد برطانیہ کی ٹیم بھی اپنے آئندہ دورۂ پاکستان سے متعلق نیوزی لینڈ کی ٹیم ہی کے انداز میں اور انہی خطوط پر سوچ رہی ہے گویا اب برطانوی ٹیم کا دورہ بھی مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف ٹیموں کے کھلاڑیوں نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کے کسی ٹھوس ثبوت اور معقول جواز کے بغیر سیریز کھیلنے سے انکار پر حیرت کا اظہار بھی کیا ہے اور پاکستان کے اپنے دور وں کی خوشگوار یادوں کا تذکرہ بھی۔ ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے کہا ہے کہ وہ چھ سال سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں انہیں یہاں کبھی سیکیورٹی خدشات لاحق نہیں ہوئے بلکہ پاکستان کے عوام کی جانب سے بے پناہ پیار اور محبت کا اظہار ان کی یادوں میں بسا ہوا ہے۔ سری لنکا کے ممتاز کھلاڑی اینجلو پریرا نے بھی پاکستان کو ہر لحاظ سے محفوظ قرار دیتے ہوئے اپنے دو سال پرانے دورہ پاکستان کو یاد گار قرار دیا ہے۔ کرکٹ کمیٹیٹرز روشن اے سنگھے اور مائیک بیسمین نے بھی کیویز ٹیم کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا۔ مائیک بیسمین نے کہا کہ وہ پہلے ون ڈے پر تبصرہ کرنے کے لیے گرائونڈ میں پہنچ چکے تھے جہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا اور کہیں خطرے کی بو محسوس نہیں ہوئی۔ اس طرح پاکستان ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی کرکٹ سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کے فیصلے کی تائید نہیں کی جہاں تک سیکیورٹی کے مبہم خدشات کا تعلق ہے، پاکستان کیا، دنیا کے کسی بھی ملک میں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ خود نیوزی لینڈ میں جب کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا تو بنگلہ دیش کی ٹیم وہاں کے دورے پر تھی جو اس واقعہ کو جو رونما ہو چکا تھا، جواز بنا کر دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس گئی نہ آئندہ کے لیے کسی دوسری ٹیم نے نیوزی لینڈ سے نہ کھیلنے کے لیے اس واقعہ کو جواز بنایا جب کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے فول پروف سیکیورٹی فراہم کئے جانے کے باوجود کسی غیر مصدقہ اطلاع کا بہانہ بنا کر اپنا پورا دورہ ہی منسوخ کر دیا۔ بدقسمتی سے اس وقت کھیل جیسے شعبہ میں بھی بین الاقوامی سطح تک سیاست در انداز ہو چکی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنی ہنگامی پریس کانفرنس میں کیویز کے دورہ کی منسوخی کے پس پردہ سازش اور دستانے پہنے ہوئے ہاتھوں کا ذکر کیا ہے۔ ان ہاتھوں کا تعلق صرف کرکٹ تک محدود سمجھا جانا درست نہیں ہو گا بلکہ اس وقت افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جس طرح سرخرو کیا ہے امریکہ کے ذلت و خواری کے بعد کابل سے انخلاء کے بعد پاکستان کو جو اہم کردار خطے میں ادا کرنے کا موقع ملا ہے وہ بعض علاقائی اور عالمی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا چنانچہ وہ پاکستان کو زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتیں۔ اس ضمن میں بعض حلقوں نے برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر کی جانب انگلیاں اٹھائی ہیں جس کی تردید ان کی طرف سے کی گئی ہے، بھارت کے ذرائع ابلاغ کیویز کے دورہ کی منسوخی سے پیدا شدہ صورت حال پر جس طرح شادیانے بجانے میں مصروف ہیں، اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔