اٖفغان طالبان کو قبضے کے قابل پاکستان نے نہیں ٹرمپ انتظامیہ نے بنایا ،امریکی سینیٹر

75

واشنگٹن(مانیٹر نگ ڈ یسک )امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے کہا ہے کہ افغان طالبان کو قبضے کے قابل پاکستان نے نہیں ٹرمپ انتظامیہ نے بنایا۔ ڈان نیوز کے مطابق امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان کو افغانستان پر قبضہ کرنے کے قابل بنایا کیونکہ اس نے پاکستان کی حمایت کی تھی جس نے اس وقت کی امریکی حکومت کی طرف سے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کی درخواست پر 3 اعلیٰ طالبان کمانڈروں کو رہا کیا تھا۔کراچی میں پیدا ہونے والے میری لینڈ کے ڈیموکریٹ سینیٹر نے افغانستان سے امریکی انخلا پر سینیٹ کی پہلی سماعت میں دلیل دی کہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں انتشار اور خانہ جنگی کو روکے۔سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کی سماعت گزشتہ روز ہوئی،جس میں کچھ ریپبلکن قانون سازوں نے بائیڈن انتظامیہ کو افراتفری کا ذمے دار ٹھہرایا اور طالبان کے قبضے کا بھی،جو گزشتہ ماہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ہوا۔دیگر ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں ہی نے 20 سال کی جنگ کے دوران افغان طالبان کی مبینہ حمایت پر پاکستان کو نشانہ بنایا۔ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر وان ہولن نے سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کے ساتھ بات چیت کی، جو مرکزی گواہ تھے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستانی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اس عمل کے ایک حصے کے طور پر3 اعلیٰ طالبان کمانڈروں کو رہا کرے۔انٹونی بلنکن نے جواب دیا کہ یہ درست ہے۔سینیٹر وان ہولن نے عبدالغنی برادر کے رہا ہونے والوں میں شامل ہونے ، دوحا مذاکرات میں سابق افغان حکومت کو شامل نہ کرنے اور ان پر5000طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے وغیرہ جیسے کئی سوالات پوچھے،جس پر انٹونی بلنکن نے جواب دیا کہ یہ درست ہے۔امریکی سینیٹر نے اس معاہدے کو بھی اٹھایا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی افواج مئی تک نکل جائیں گی اور ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا لیکن افغان فورسز پر حملہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے جس پر انٹونی بلنکن نے کہا کہ وہ درست ہیں۔