سیرت سیدنا عمرؓ: چند واقعات

177

وقت قیمتی اثاثہ:سیدنا عمرؓ اپنی رعایا کے ہر معاملے میں دل چسپی لیتے تھے، جس طرح والدین اپنی اولاد کے جملہ اْمور کی نگرانی کرتے ہیں۔ آپ اس بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ لوگ اپنے وقت کا استعمال کس طرح کرتے ہیں۔ کبھی آپ انھیں پیار سے سمجھاتے اور کبھی سختی سے انھیں تاکید کرتے تھے۔ رات کو دیر تک جاگنا آپ کو ناپسند تھا۔ آپ لوگوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ جلد سونے کی عادت ڈالیں تاکہ جلد اْٹھ سکیں اور اگر توفیق ملے تو تہجد کی سعادت حاصل کریں۔
آپ کی خلافت میں فضول کاموں کی کوئی گنجایش نہ تھی۔ آپ جانتے تھے کہ وقت بہت قیمتی متاع ہے اور کام بے شمار ہیں جن کی تکمیل کے لیے وقت کا ایک ایک لمحہ احتیاط سے استعمال میں لانا چاہیے۔ اگر لوگ عشاء کی نماز کے بعد قصے کہانی سننے سنانے کے لیے بیٹھ جاتے تو سیدنا عمرؓ انھیں سرزنش فرماتے اور کہتے: ’’پہلی رات کہانی قصوں کی نذر کر دیتے ہو اور پچھلی رات لمبی تان کر سو جاتے ہو، عشاء کے بعد کراماً کاتبین کو بھی ذرا آرام کرنے دیا کرو‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے تخلیق کائنات میں بڑی حکمت ملحوظ رکھی ہے۔ وہ بندوں کے نفع و نقصان کو خوب جانتا ہے۔ اس نے دن کو کام کاج اور تلاش معاش کے لیے اور رات کو آرام و راحت کے لیے پیدا کیا ہے۔ رات کو جلدی سو جانے والا شخص اگلے دن اپنے کاموں میں پوری چستی اور نشاط کے ساتھ صبح سویرے مشغول ہوجاتا ہے۔ راتوں کو لمبی محفلین جماکر بیٹھے رہنا، انسان کے لیے ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ نبی اکرمؐ سے ثابت ہے کہ آپؐ عشاء کی نماز سے قبل سونے اور عشاء کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند فرمایا کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے جب لوگوں کو یہ حکم دیا کہ ’’رات کو جلد سو جایا کریں‘‘ تو آپؐ کے پیش نظر یہی حدیث ِ رسول اور حکمِ ربانی ہوگا:
’’بے شک (پچھلی) رات کو اْٹھنا اور (عبادت میں مصروف ہو جانا) نفسِ امارہ کو کچلنے اور صحیح اور سچی بات کہنے کی عادت ڈالنے کے لیے مفید ہے‘‘۔ (المزمل: 6)
رات کی خاموشی اور تنہائی میں اللہ کی اطاعت و عبادت کا جو لطف آتا ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔ سکونِ قلب حاصل ہوتا ہے۔ خاموش فضا میں دل و دماغ، آنکھیں اور کان، سوچ اور دھڑکن ہرچیز اللہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ رات کی سیاہ زْلفیں خشوع و خضوع سے دل کی دْنیا بھر دیتی ہیں اور رکوع و سجود، قیام وقعود، دْعا و مناجات ہر مرحلہ کیف و سْرور سیمالامال کردیتا ہے۔
سیدنا عمرؓ نوجوانوں کے اندر قوت، صحت اور مردانگی کے آثار دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان نوجوان ظاہر و باطن ہر لحاظ سے اسلام کی شوکت و قوت کا مظہر بن جائیں۔ ایک نوجوان کو مریل چال چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا: ’’کیا تم بیمار ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں امیرالمومنین، میں بالکل تندرست ہوں‘‘۔ اس پر آپ نے دُرہ لہرایا اور فرمایا: ’’پھر یہ مُردنی تم پر کیوں چھائی ہوئی ہے؟ جواں مَردوں کی طرح چلو‘‘۔
سیدنا عمرؓ اپنی رعایا کے ہر خاص و عام کو تذکیر ونصیحت کرتے رہتے تھے۔ اْمہات المومنینؓ کا مقام و مرتبہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ عمرؓ نے نماز پڑھاتے ہوئے سورئہ احزاب کی تلاوت کی اور ان آیات پر پہنچے، جن میں ربّ العزت نے اَزواجِ مطہرات کو یا النساء النبی کہہ کر خطاب کیا ہے تو آواز بلند ہوگئی۔ نماز کے بعد لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو بتایا: ’’اْمہات المومنین کو وہ عہد یاد دلانا مقصود تھا، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے خصوصی طور پر نازل فرمایا تھا‘‘۔ سچی بات یہ ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں تذکیر اور یاد دہانی سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’نصیحت کیا کرو، بے شک نصیحت سے اہلِ ایمان کو نفع پہنچتا ہے‘‘۔ (الذاریات: 55)