افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

173

تصور شیخ
تصور شیخ کے بارے میں میرا موقف یہ ہے کہ اس پر دو حیثیتوں سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ایک بجائے خود ایک فعل ہونے کی حیثیت، دوسرے ایک ذریعہ تقرب اللہ ہونے کی حیثیت۔
پہلی حیثیت میں اس فعل کے صرف جائز یا ناجائز ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے اور اس کے فیصلے کا انحصار اس سوال پر ہے کہ آدمی کس نیت سے یہ فعل کرتا ہے؟ ایک نیت وہ ہے جس کی تشریح حکیم عبدالرشید محمود صاحب نے اپنے مضمون میں کی تھی۔ اس نیت کا لحاظ کرتے ہوئے اسے حرام کہنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ دوسری نیت وہ ہے کہ جس کی تشریح مولانا ظفراحمد صاحب نے کی۔ اس نیت کا لحاظ کرتے ہوئے یہ مشکل ہے کہ کوئی فقیہ اسے ناجائز کہہ سکے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے میں کسی شخص کو اجنبیہ کے حسن کا نظارہ کرتے ہوئے دیکھوں اور اس حرکت کی غرض دریافت کرنے پر وہ مجھے بتائے کہ میں اپنے ذوق وجمال کو تسکین دے رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ مجھے کہنا پڑے گا کہ تو یقیناً ایک ناجائز کام کررہا ہے۔ دوسرے کو یہی حرکت کرتے ہوئے دیکھوں اور میرے پوچھنے پر وہ مجھے جواب دے کہ میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ اس صورت میں مجھے مجبوراً یہ کہنا پڑے گا کہ تیرا یہ فعل ناجائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے فعل کی ایک ایسی وجہ بیان کررہا ہے جسے شرعاً میں غلط نہیں کہہ سکتا۔
٭…٭…٭
اب رہی اس تصور شیخ کی دوسری حیثیت، تو مجھے اس امر میں نہ کبھی شک رہا ہے اور نہ آج شک ہے کہ اس حیثیت سے یہ فعل قطعی غلط ہے خواہ اس کی نسبت کیسے ہی بڑے لوگوں کی طرف کی گئی ہو۔ میں کہتا ہوں کہ اللہ سے تعلق پیدا کرنے اور بڑھانے کے ذرائع بتانے میں خود اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہر گز کوئی کوتاہی نہیں کی ہے۔ پھر کیوں ہم ان کے بتائے ہوئے ذرائع پر قناعت نہ کریں اور ایسے ذرائع ایجاد کرنے لگیں جو بجائے خود بھی مخدوش ہوں اور جن کے اندر ذرا سی بے احتیاطی آدمی کو قطعی اور صریح ضلالتوں کی طرف لے جاسکتی ہو؟
اس معاملے میں یہ بحث پیدا کرنا اصولاً غلط ہے کہ جب دوسرے تمام معاملات میں ہم مقاصد شریعت کو حاصل کرنے کے لیے وہ ذرائع اختیار کرنے کے مجاز ہیں، جو مباحات کے قبیل سے ہوں تو آخر تزکیہ نفس اور تقرب الیٰ اللہ کے معاملے میں ہم کیوں انہیں اختیار کرنے کے مجاز نہ ہوں؟ یہ استدلال اصولاً اس لیے غلط ہے کہ دین کے دو شعبے ایک دوسرے سے الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ ایک شعبہ تعلق باللہ کا ہے اور دوسرا شعبہ تعلق بالناس وغیرہ کا۔ پہلے شعبے کا اصول یہ ہے کہ اس میں ہم کو انہی عبادات اور انہی طریقوں پر انحصار کرنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے بتادیے ہیں۔ ان میں کوئی کمی کرنے، یا ان پر کسی نئی چیز کا اضافہ کرنے کا ہمیں حق نہیں ہے۔ کیوں کہ اللہ کی معرفت اور اس کے ساتھ تعلق جوڑنے کے ذرائع کی معرفت کا ہمارے پاس کوئی دوسرا ذریعہ کتاب اللہ و سنت رسولؐ کے سوا نہیں ہے۔ اس معاملے میں جو کمی بیشی بھی کی جائے گی، وہ بدعت ہوگی، اور ہر بدعت ضلالت ہے۔ یہاں یہ اصول نہیں چل سکتا کہ جو کچھ ممنوع نہیں ہے وہ مباح ہے۔ یہاں تو قیاس سے بھی اگر کوئی مسئلہ نکالا جائے گا تو لازماً اس کا کوئی مبنیٰ کتاب و سنت میں موجود ہونا چاہیے۔ بخلاف اس کے دوسرے شعبے میں مباحات کا باب کھلا ہوا ہے۔ جو حکم دے دیا گیا ہے اس میں حکم کی اطاعت کیجیے، جو کچھ منع کیا گیا ہے، اس سے رک جائیں اور جس معاملے میں حکم نہیں دیا گیا ہے، اس میں اگر کسی ملتے جلتے معاملے پر کوئی حکم ملتا ہو تو اس پر قیاس کر لیجیے، یا قیاس کا بھی موقع نہ ہو تو اسلام کے اصول عامہ کے تحت مباحات میں سے جس چیز اور جس طبقے کو نظام اسلامی کے مزاج سے مطابق پائے، اسے قبول کر لیجیے۔ اس شعبے میں یہ آزادی ہمیں اس لیے دی گئی ہے کہ دنیا اور انسان اور دینوی معاملات کے متعلق مصلحت کو جاننے کے عقلی اور عملی ذرائع کم از کم اس حد تک ہمیں ضرور حاصل ہیں کہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ کی رہنمائی سے مستفید ہونے کے بعد ہم کو شر سے اور صحیح کو غلط سے ممیز کرسکتے ہیں۔ پس یہ آزادی صرف اسی شعبے تک محدود رہنی چاہیے۔ اسے پہلے شعبے تک وسیع کرکے، اور جو کچھ ممنوع نہیں ہے، اسے مباح سمجھ کر، تعلق باللہ کے معاملہ میں نئے نئے طریقے نکالنا یا دوسروں سے اخذ کرکے اختیار کرلینا بنیادی طور پر غلط ہے۔ اسی غلطی میں مبتلا ہو کر نصاریٰ نے رہبانیت اختیار کرلی تھی جس کی قرآن میں مذمت کی گئی۔
(ترجمان القرآن، فروری 1952ء)