نائن الیون کے 102 منٹ مسلمانوں کے لیے عذاب

274

نائن الیون کے 102 منٹ 20برسوں تک دنیا بھر میں 5کروڑ سے زائد مسلمانوں کی شہادت کا سبب بن چکے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ چار امریکی طیارے اغوا کرنے والوں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ بھی تھے۔ جو طیارے اغوا کیے گئے تھے ان میں امریکن ائرلائنز اور یونائیٹڈ ائرلائنز کے دو بوئنگ 767 اور دو بوئنگ 757 طیارے شامل تھے۔ امریکا کی بے ہنگم رپورٹ کے مطابق یہ طیارے امریکا کے مشرقی علاقوں سے مغربی علاقوں کے لیے طویل دورانیے کی پرواز کر رہے تھے اور ان میں اسی تناسب سے زیادہ ایندھن بھی موجود تھا۔ ان دہشت گرد حملوں کا پہلا ہدف نیویارک کے فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر تھا جس کے دو ٹاورز کو امریکن ائرلائنز اور یونائیٹڈ ائرلائنز کے دو بوئنگ 767 طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ امریکی ریاست میسا چوسٹس کے شہر بوسٹن کے لوگن ہوائی اڈے سے لاس اینجلس کے لیے پرواز بھرنے والی امریکی ائرلائنز کی پرواز 11 اغوا کیے جانے کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح 08 بج کر 46منٹ پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرائی۔ طیارے نے ٹاور کی 93ویں سے 99 ویں منزل کو نشانہ بنایا۔ دنیا ابھی اس جھٹکے سے سنبھل ہی نہیں پائی تھی کہ 18 منٹ بعد دنیا میں کروڑوں افراد نے اپنی ٹی وی اسکرینوں پر لوگن ہوائی اڈے ہی سے پرواز کرنے والی یونائیٹڈ ائرلائنز کی پرواز 175 کو 09 بج کر 03منٹ پر جنوبی ٹاور سے ٹکراتے دیکھا۔ اغوا کیے جانے والے تیسرے طیارے نے ریاست ورجینیا کے واشنگٹن ڈیلس ہوائی اڈے سے پرواز کر کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کا رخ کیا اور وہاں امریکی محکمہ دفاع کی مشہورِ زمانہ عمارت پنٹاگون کے مغربی حصے پر نشانہ بنایا۔ نووارک کے ہوائی اڈے سے اڑنے والے چوتھے طیارے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا ہدف واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت یعنی کیپٹل ہل تھی لیکن وہ راستے میں ریاست پینسلوینیا کے مغربی علاقے میں شینکس ویل کے مقام پر گر کر تباہ ہو گیا جب طیارے کے مسافروں نے دیگر حملوں کی خبر سننے کے بعد مزاحمت کی۔ ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں کے علاوہ 2,977 افراد مارے گئے جن میں سے اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں نیویارک میں ہوئیں جہاں ان حملوں کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہوگئے۔ ٹوئن ٹاورز سے طیاروں کے ٹکرانے اور پھر ان کے انہدام کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 2606 تھی۔ مرنے والے افراد کا 77 مختلف ممالک سے تعلق تھا۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی ان 77ممالک میں اسرائیل شامل نہیں تھا اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہوگئے۔
امریکا کے مطابق بیس سال قبل القاعدہ نے عالمی طاقت امریکا کو للکارا تھا۔ زخمی قوم نے War on Terror یعنی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا اعلان کر دیا۔ لیکن اس جنگ کا مرکز صرف اور صرف اسلامی ممالک تھے جن میں افغانستان کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ عراق، شام، لیبیا اور لبنان میں مسلمانوں کو کارپیٹ بمباری سے 5کروڑ اور گلی کوچوں میں شہید، معذور ہونے والے مسلمانوں کی تعداد بھی کم و بیش اتنی ہی ہے۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بْش کی اعلان کردہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کبھی نا ختم ہونے والی جنگ بن کر رہ گئی تھی لیکن 20سال بعد 9/11/2021 کو یہ جنگ امریکا کی شکست اورکابل پر طالبان کا جھنڈا لہرانے کے بعد ختم ہو گئی ہے امریکا ایک ایسی جنگ جس کی نہ وقتی نہ ہی جغرافیائی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ یہ بس عالمی سطح پر لڑی جا رہی تھی۔ برلن میں قائم ایک تھنک ٹینک ایس ڈبلیو پی سے منسلک ایک ماہر روہانس تھم کے بقول، ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 9 لاکھ تیس ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ تمام افراد براہ راست جنگ میں مارے گئے۔ ان میں سے قریب چار لاکھ عام شہری تھے‘‘۔ ’’پوری دنیا پر اس کے اثرات سے قطع نظر امریکا کو عراق اور افغانستان میں اس دیوانی جنگ سے بہت بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا‘‘۔ اْدھر امریکی مؤرخ اسٹیفن ورتھ ہائم کا کہنا ہے کہ ’’امریکا اپنی اتنی بڑی آبادی اور وسیع وسائل کو نائن الیون کے حملوں کے تخریبی رد عمل کے بجائے متعدد تعمیری کاموں پر صرف کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا‘‘۔
امریکا میں گیارہ ستمبر 2001ء میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بیس سال مکمل ہونے پر نیویارک کے گراؤنڈ زیرو پر ایک نئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز کھڑے کیے جا رہے ہیں ساتھ ہی ان حملوں کے اْن تین ہزار متاثرین کی یادگار بھی تعمیر کی جا رہی ہے جنہوں نے امریکا سمیت تمام دنیا کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ امریکا سے لے کر مشرق وسطیٰ کے وسیع تر حصے اور ہندو کش کی ریاست افغانستان تک کچھ بھی پہلے جیسا باقی نہیں رہا۔ طالبان کے ترجمان ملا ہیبت اللہ کا کہنا ہے کہ 2001ء میںجب 9/11 کا سانحہ پیش آیا تو طالبان کے رہنما ملا عمر نے امریکا سے کہا تھا کہ وہ اس سانحہ میں اُسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے ثبوت دے لیکن امریکا آج 20سال گزرنے کے باوجود 9/11 کے سانحہ میں اُسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ تقریب کے دوران بھی طالبان نے امریکا سے یہی مطالبہ کیا کہ ’’امریکا فوری طور پر 9/11 کے مجرموں کو سزا دے‘‘ اور امریکا میں تمام ٹی وی چینلوں نے طالبان کے بیان کا ٹیکر امریکی صدر بائیڈن کی تقریرکے دوران چلا کر یہ مطالبہ کر دیا کہ صدر ِ امریکا تقریر کے بجائے عملی اقدامات کریں۔
جرمن شہر ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والے ایک مؤرخ بیرنڈ گرائنر نے ڈوئچے ویلے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئی ایس کا عروج 2003ء میں صدام حسین کی حکومت گرنے کا براہ راست نتیجہ تھا‘‘۔ داعش کے جنگجوؤں کی پہلی نسل کا ایک بڑا حصہ صدام حسین کی پرانی فوج سے تعلق رکھتا تھا۔ ’’صدام کی فوج کو امریکا نے فوراً سے پیش تر ختم کر دیا جس کے نتیجے میں لاکھوں نوجوان بغیر کسی مستقبل اور روزگار کے امکانات کے سڑکوں پر کھڑے تھے‘‘۔ یہ سب کچھ انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے رجحان کی تربیت کے لیے کھاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب تک اس سانحے کے ایک ہی پہلو کو اجاگر کیا گیا لیکن عالم اسلام کے حکمرانوں کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ’’نائن الیون کے 102 منٹ کی قیمت کروڑوں مسلمانوں کو ذبح کر کے لی گئی۔ اس کا خسارہ کون پورا کرے گا۔