افغانستان میں طالبان، برطانیہ میں اتھل پتھل

381

افغانستان میں طالبان کی فتح ایک ایسا زلزلہ ثابت ہوا ہے جس کے جھٹکے برطانیہ میں نہایت شدت سے محسوس کیے گئے ہیں جن کے نتیجہ میں سیاسی اتھل پتھل پیدا ہوئی ہے۔ یہ افغانستا ن میں برطانیہ کی ناکامی تھی جس کی بنا پر وزیراعظم بورس جانسن نے کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کر کے وزیر خارجہ ڈومنک راب کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ اس وقت جب افغانستان میں طالبان قبضہ کر رہے تھے وزیر خارجہ اپنے خاندان کے ساتھ تعطیلات منا رہے تھے اور وہ افغانستان میں برطانوی افواج کے انخلا کے مسئلے کے حل کے لیے فی الفور لندن نہیں آئے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے افغانستان میں طالبان کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی تھی۔ گو بڑی حد تک افغانستان کی صورت حال کے بارے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دوش دیا جارہا ہے لیکن سارا نزلہ وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ پر گر رہا ہے اور وزیر خارجہ ڈومنک راب پر الزام لگایا جارہا ہے کہ انہوں نے افغانستان سے برطانوی افواج کے انخلا کے بارے میں کوئی موثر حکمت عملی تیار نہیں کی تھی جس کی وجہ سے برطانوی افواج کے انخلا میں بہت تاخیر ہوئی اور برطانوی مفادات متاثر ہوئے۔
بورس جانسن کو خطرہ تھا کہ وزیر خارجہ ڈومنک راب کی برطرفی کی وجہ سے حکمران ٹوری پارٹی میں بغاوت بھڑک اٹھے گی اس لیے انہوں نے ڈومنک راب کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کے بعد انہیں کابینہ سے نہیں نکالا اور انہیں وزیر قانون مقرر کر دیا اور اشک شوئی کے طور پر نائب وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز کردیا۔ بورس جانسن ہندوستانی نژاد وزیر داخلہ پرتی پٹیل کو بھی برطرف کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے خلاف اپنے افسروں سے سخت درشت رویہ کے شکایات تھیں لیکن کابینہ میں ہندوستانی لابی بڑی با اثر ہے جو اقتصادی مفادات کے بنا پر پرتی پٹیل اور وزیر خزانہ رشی سوناک کی حمایت کرتی ہے۔ بورس جانسن نے وزیر تعلیم گیون ولیم سن کو بھی برطرف کردیا ہے اور ان کی جگہ ندیم زہاوی کو مقرر کیا ہے۔ البتہ مبصرین کو تعجب ہوا ہے کہ لز ٹرس کو وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ بورس جانسن نے اپنی کابینہ میں ردو بدل در اصل اگلے عام انتخابات کے پیش نظر کیا ہے اور ایک مضبوط کابینہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسی کے ساتھ انہیں اگلی سردیوں میں کورونا وبا کی آنے والی لہر کی بھی تشویش ہے جس کے پیش نظر انہیں لاک ڈاون نافذ کرنا پڑے گا اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس خطرے کے پیش نطر حکومت نے کورونا کی وبا پر قابو پانے کے لیے بارہ سال سے لے کر پندرہ سال کے جوانوں کو ویکسین لگانے کا پروگرام مرتب کیا ہے۔ طبی ماہرین کی رائے ہے کہ سردیوں میں کورونا کی وبا کی لہر بے حد خطرناک ہوگی۔ بیش تر مبصرین کو اس پر تعجب ہے کہ اس وقت جب کہ کورونا وبا اور اس کے نتیجے میں سنگین اقتصادی بحران کا خطرہ ہے برطانیہ نے امریکا اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر چین کے خلاف فوجی اتحاد قائم کیا ہے۔ مبصرین یہ سوچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا اس کا تعلق افغانستان میں طالبان کے قبضہ سے ہے؟