پاک، امریکا تعلقات اور وزیراعظم کا انٹرویو

227

دہشت گردی کے خلاف نام نہاد امریکی عالمی جنگ کی ناکامی کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔ امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کانگریس کی کمیٹی میں تلخ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے واضح طور پر پاکستان سے تعلقات کاازسرنو جائزہ لینے کا اظہار کردیا ہے۔ کانگریس کی کمیٹی میں ہونے والی بحث کے بعد سب سے بڑے اور اہم امریکی ٹی وی چینل سی این این نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات بالخصوص افغانستان کے حوالے سے خصوصی انٹرویو لیا ہے۔ واضح رہے کہ انٹرویو کے دوران میں کانگریس کی کمیٹی کی کارروائی بھی وزیراعظم عمران خان کو سنوائی گئی۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کی نوعیت ایسے حالات میں زیر بحث آرہی ہے جب عالمی سیاسی صف بندیوں میں واضح طور پر تبدیلیاں آرہی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ امریکی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی جنگ کی ناکامی کے بعد واحد اور سب سے بڑی سپرپاور ہونے کی حیثیت قائم نہیں رہ سکی ہے۔ بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور فیصلہ کن اداروں کا امتحان بھی سامنے آگیا ہے۔ اس امتحان کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان کی حکمراں اشرافیہ کو امریکی غلامی کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو بدترین امریکی ہزیمت اور شکست کے باوجود اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ امریکا اب بھی عالمی طاقت ہے۔ اس تناظر میں امریکی ٹی وی چینل سی این این پر وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران میں حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو بھی یاد رکھنا چاہیے جس کے مطابق امریکا کو افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد فوجی اڈوں کو دینے سے انکار کردیا گیا۔ امریکا کے اندر یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ امریکی شکست کا ذمے دار کون ہے۔ اس کے لیے ’’قربانی کے بکرے‘‘ کی تلاش جاری ہے۔ اسی مقصد کے لیے وزیراعظم عمران خان سے انٹرویو کرتے ہوئے 20 سالہ جنگ میں پاکستان کے کردار کو زیر بحث لایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سی این این کی اینکر کو انٹرویو دیتے ہوئے اشاروں میں اور واضح الفاظ میں بھی امریکا سے پاکستان کے تعلقات کی بنیادوں کو غلط قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کا اتحادی بن کر پاکستان نے بہت نقصان اُٹھایا ہے۔ نائن الیون کے وقت اگر میں وزیراعظم ہوتا تو افغانستان پر حملے کی اجازت نہیں دیتا۔ میں دوسروں کی جنگ لڑ کر اپنے ملک کو تباہ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی بنیاد ہی غلط تھی، ہم ایک طرح سے امریکا کے لیے کرائے کی فوج کا کردار ادا کرتے رہے۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کا ساتھ دینے کا جو نتیجہ نکلا اس کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’جہادی ہمارے خلاف ہوگئے، پشتون ہمارے خلاف کھڑے ہوگئے، ہم نے شہری علاقوں میں جتنے زیادہ فوجی آپریشن کیے تو اس کے اتنے ہی زیادہ نقصان ہوئے اور ایک وقت میں 50 سے زائد شدت پسند گروپ پاکستان پر حملہ آور تھے‘‘۔ عمران خان نے مزید کہا کہ ’’ان گروپوں کے حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں 480 امریکی ڈرون حملے ہوئے اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی جنگ میں کسی ملک پر اس کے اپنے ہی اتحادی نے حملہ کیا ہو‘‘۔ امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان پر پرانے الزامات کو دہرانے کی وجہ بتاتے ہوئے درست کہا ہے کہ ’’افغانستان میں کیا ہوا ہے، اس کا امریکیوں کوکچھ پتا ہی نہیں ہے وہ سب سکتے کی حالت میں ہیں۔ جب وزیراعظم سے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے افغان طالبان سے روابط کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں سب سے رابطے رکھتی ہیں، یہی ان کا کام ہے، امریکی سی آئی اے بھی افغان طالبان سے بات کرے گی، کیوں کہ انہیں بات کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس پوزیشن میں تھا کہ افغان طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا تھا۔ کیوں کہ اس وقت اندر سے پاکستانی طالبان ریاست پر حملے کررہے تھے۔ ہم سے یہ توقع رکھی تھی کہ ہم امریکا کو افغانستان میں جنگ جتوائیں جو ہم کبھی نہیں کرسکتے تھے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکا کی جنگ کا حصہ بننے کی وجہ سے یہاں جگہ جگہ بم دھماکے ہورہے ہیں، اسی دوران میں بے نظیر بھٹو بھی ایک حملے میں قتل کردی گئیں، ہماری معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے بھی امریکا سے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا اشارہ دیا اور کہا کہ ہم یک طرفہ تعلقات نہیں چاہتے، یعنی امریکا کے کرائے کے فوجی نہیں بننا چاہتے۔ ہم دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں جس طرح امریکا کے بھارت سے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم کے خیالات ہمارے پورے حکمران طبقے کے بدلے ہوئے ذہن کی عکاسی کرتے ہیں یا محض ایک ’’فرد‘‘ کی لفظی گولہ باری ہے۔ یہ مرحلہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، لیکن اجتماعی بصیرت اس کا فہم حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔ اسی سوال کے جواب میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا فیصلہ ہوگا۔