ڈالر کی قیمت میں اضافہ

107

پاکستان میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 3 مہینوں سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل تنزلی دیکھی جارہی تھی۔ اس کے باوجود کہ اسٹیٹ بینک نے روپے کی قیمت میں کمی روکنے کے لیے بینک اور مارکیٹ میں 1.2 ارب ڈالر داخل کیے ہیں۔ حکومت کے تمام تر دعوئوں کے باوجود روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 169 روپے 63 پیسے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں کمی کے اسباب کے بارے میں ماہرین معیشت بتاتے ہیں کہ افغانستان میں ڈالر کی طلب، بیرونی ادائیگیوں کا دبائو، کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافہ ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا۔ 1980ء کی دہائی میں ڈالر کی قیمت تقریباً 16 روپے تھی۔ اب اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تمام اشیا کی قیمتیں آسمان کو کیوں چھورہی ہیں۔ صرف یہ ایک مسئلہ ہماری پوری اقتصادیات کی تباہی کا سبب ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے اقتصادی اسباب سے زیادہ سیاسی اسباب ہیں اور یہ عالمی قوتوں کا عسکری حملہ ہے۔ اسے اقتصادی دہشت گردی بھی کہا جاسکتا ہے۔ گویا ہمارے ماہرین معیشت، مالیاتی ادارے، محکمہ خزانہ اقتصادی دہشت گردی کے سہولت کار ہیں۔