روس نے سائبر حملوں کی روک تھام نہیں کی ، امریکا کا شکوہ

85

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے کہاہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک میں سائبر مجرمان کو پناہ دینے کے انتباہ کے باوجود اس معاملے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے معاون ڈائریکٹر پال اباٹے نے اپنے بیان میں کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ روسی حکومت نے تاوان وصول کرنے والے ہیکروں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی کی ہو۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن کے قریب منعقدہ انٹیلی جنس کی سربراہ کانفرنس سے خطاب کے دوران بتائی۔ اباٹے نے کہا کہ وہ لوگ جو روس میں ہیں، ہم نے ان سے مدد اور تعاون کی درخواست کی تھی۔ روس میں موجود ملزمان کے بارے میں ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں، لیکن ہم نے کسی کے خلاف کارروائی ہوتے ہوئے نہیں دیکھی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر کے ساتھ 2 بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا، جس میں ان پر زور دیا تھا کہ روس میں موجود سائبر ملزمان کے خلاف قدم اٹھایا جائے۔ ان میں ایک ٹیلی فون رابطہ جون میں جنیوا میں منعقدہ سربراہ اجلاس کے دوران کیا گیا، جب کہ دوسرا رابطہ ایک ماہ بعد کیا گیا۔ ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو کے بعد بائیڈن نے اخباری نمایندوں کو بتایا تھا کہ میں نے ان پر یہ بات واضح کر دی کہ امریکا یہ توقع رکھتا ہے کہ جب ان کی سرزمین سے ہیکنگ برائے تاوان کی کارروائی ہوگی ، تو ہم انہیں تفصیلی اطلاع دیں گے اور انہیں ملوث عناصر کے خلاف اقدام کرنا ہو گا۔ چاہے اس میں ریاست ملوث ہو یا نہ ہو ۔ ابتدائی مذاکرات کے بعد وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ اہل کاروں نے یہ بات نوٹ کی کہ سائبر حملوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ، حالاں کہ روس کی جانب سے کسی اقدام کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوا۔ امریکی نیشنل سائبر کے سربراہ کرس انگلیس نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ جرائم پر مبنی کارروائیوں میں کمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کسی ٹھوس نگرانی کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر اس کے پیچھے اب بھی مالی فوائد وابستہ ہیں۔