ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کا امکان

83

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر ویانا مذاکرات 3 ہفتوں کے بعد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ عرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت میں مذاکراتی ٹیم کے تعین میں اختلاف پایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات تاخیر کا شکار ہیں۔ ایرانی حکومت عباس عراقچی کی جگہ ایک اور عہدے دار کو ان کی جگہ مقرر کرنا چاہتی ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات کی بحالی میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔ عرب ذرائع کے مطابق مذاکرات وہیں سے شروع ہوں گے، جہاں پر ختم ہوئے تھے۔ جن امور پر اتفاق رائے ہوچکا ہے ان پر مزید بات نہیں کی جائے گی۔ یاد رہے کہ سابق ایرانی صدر حسن روحانی کی سبکدوشی سے قبل ویانا میں جاری مذاکرات کا چھٹا دور 20 جون کو ہوا تھا۔ اس کے بعد مذاکرات کا عمل معطل ہے۔ روس ایران کو مذاکرات کی طرف لانے کے لیے ہرممکن کوشش کررہا ہے۔ ادھر ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایرانی نمایندے کاظم غریب آبادی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک اجلاس میں کہا کہ امریکا نے جوہری معاہدے سے دستبرداری، زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اور پابندیوں کی صورت میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کی ہے۔