پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہے،وزیراعظم

230
دوشنبے: وزیراعظم عمران خان ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے مصافحہ کررہے ہیں،دوسری جانب بیلا روس کے صدر ایلگزینڈر لوکاشینکو وزیر اعظم کو تحفہ پیش کررہے ہیں۔چھوٹی تصویر میں وزیر اعظم قازقستان کے صدر قاسم جومارٹ اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے محو گفتگو ہیں۔

دوشنبے (آن لائن+اے پی پی ) وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے بجلی بہت مہنگی ہے، امید کرتے ہیں کاسا 1000 توانائی منصوبے سے ہمیں بھی تاجکستان کی بجلی سے فائدہ پہنچے گا،اس منصوبے کی جلد تکمیل چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دوشنبے میں پاکستان اور تاجکستان کے مابین کاروباری شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط بڑھانا ہے، پاکستان سے مختلف شعبوں کی 67 کمپنیاں تاجکستان آئی ہیں، پاکستان کی تاجر برادری تاجک کاروباری طبقے کو مدعو کرے گی اورپاکستان میں ان کی آمد سے صنعتی سرگرمیاں بڑھیں گی اور اس ضمن میں انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین جتنی تجارتی سرگرمیاں ہوں گی، دونوں ممالک کو اتنا ہی فائدہ ہوگا،پاکستان میں تاجر برادری کو درپیش متعدد مسائل دور کردیے ہیں اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید فعال اور ان کے لیے بہتر حالات پیدا کرنے کے لیے مزید کوششیں جاری ہیں۔ عمران خان کے بقول دو طرفہ تجارت سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں کئی سال کے تنازع کے بعد امن قائم ہو گا، پاک تاجک تجارت کے لیے افغانستان میں امن قیام ضروری ہے تاکہ نقل و حمل بہتر ہوسکے، تاجک صدر اور میں مل کر افغان امن کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے ، خصوصا دو بڑی برادریوں پشتون اور تاجک کو قریب لانے اور مخلوط حکومت کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے پوری کوشش کریں گے۔ بعد ازاں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی قازقستان،ازبکستان، ایران اور بیلاروس کے صدور سے اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ایرانی صدر ابراہیمی رئیسی سے ملاقات میں پاک ایران تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بیلاروس کے صدر الیگزینڈر سے ملاقات میں بیلا روس کے صدر نے عمران خان کو سووینئر پیش کیے۔قازقستان کے صدر سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، عالمی و علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا جبکہ تجارت،سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر گفتگو بھی کی گئی۔ وزیراعظم نے سہ ملکی ریلوے منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور قازقستان کو منصوبے میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔ عمران خان نے بتایا کہ پاکستان کا وژن سینٹرل ایشیا پالیسی کے تحت وسط ایشیاسے وسیع تعلقات چاہتاہے، پاکستان وسطی ایشیائی ملکوں کوسمندری تجارت کے لیے مختصر روٹ اور بندگاہیں فراہم کرسکتا ہے۔ریلوے منصوبہ ازبک شہر ترمیز سے مزارشریف،کابل،جلال آباد تا پشاور ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر سیاسی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے قازقستان کے صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جس کے جواب میں قازقستان کے صدر نے بھی وزیراعظم کو اپنے ملک کے دورہ کی دعوت دی۔علاوہ ازیں وزیر اعظم نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال کیا۔