افغان حکومت تسلیم کرنے نہ کرنے کا دبائو نہیں،امریکی بیان مایوس کن ہے،پاکستان

161

اسلام آباد(صباح نیوز)ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی دبائو نہیں، پاکستان کسی بھی دبائو کے بغیر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان بلاکس کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا ، پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں،یورپی یونین اور دیگر کے ساتھ تعلقات بھی کلیدی ہیں،بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے،بھارت کو افغانستان سے نہیںجو کچھ کشمیر میں کیا اس سے خوف زدہ ہونا چاہیے۔ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے جائزے سے متعلق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر حیرت اور مایوسی ہوئی،پاکستان افغان تنازع کے سیاسی حل کا خواہاں ہے ، افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پر کوئی دبا ئونہیں ، پاکستان کسی بھی دبا ئوکے بغیر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے افغان عمل میں سہولت کاری کی ہے اور ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے ، روس اور چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعلقات شراکت داری پر مبنی ہیں۔دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر کوئی بات نہیں کر سکتا۔عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت میں ایٹمی مواد کی غیر قانونی فروخت کا معاملہ خود بھارتی میڈیا نے اٹھایا ہے، پاکستان کو اس معاملے پر شدید تشویش ہے،اس معاملے کو پاکستان متعلقہ فورمز پر اٹھائے گا، بھارت سے جوہری مواد کا غیرقانونی کاروبار پاکستان ہی نہیں خطے کے لیے خطرہ ہے،بھارت میں غیرقانونی جوہری کاروبارسے اس کی جوہری صلاحیت پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری ہے ، پاکستان نے 12 ستمبر کو عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈوزیئر جاری کیا، عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر پر سوچ بچار کرنا ہو گی، بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔