روس ،چین ،پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ،خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

111
دوشنبے: روس، چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ ملاقات کررہے ہیں

دوشنبے / اسلام آباد( آن لائن +صباح نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے افغانستان میں امن کو ناگزیر سمجھتاہے، افغانستان میں خوراک اورادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے،پاکستان افغانستان میں امدادی سامان بھجواچکاہے،نازک مرحلے پرافغان شہریوں کوتنہانہ چھوڑاجائے۔ تفصیلات کے مطابق تاجکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم اور سی ایس ٹی او کے سربراہی اجلاسوں کے انعقاد کے موقع پر روس، چین ، پاکستان کے وزرائے خارجہ اور ایران کے نائب وزیر کی دوشنبے میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔ دوران ملاقات افغانستان کی ابھرتی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خصوصی تبادلہ خیال ہوا، شرکاء نے افغانستان اورمجموعی طور پر خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وزراء نے افغانستان میں قومی مفاہمت اور اجتماعیت کی حامل حکومت کی ضرورت پر زور دیا گیا جو ملک کی تمام نسلی وسیاسی قوتوں کے مفادات کو مدنظر رکھے۔ دوران ملاقات افغانستان کی موجودہ صورتحال اور لاحق خطرات، خاص طور پر دہشت گردی کے پھیلاؤ اور منشیات کی ترسیل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے پہلے ہی حکمت عملی اپنا لی تھی۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اس معاملے پر مشاورت جاری ہے، پاکستان افغانستان کی عبوری حکومت کا جائزہ لے رہا ہے، دیکھ رہے ہیں کہ افغان حکومت میں تمام گروپس کی شراکت کے لیے کیا کیا جارہا ہے۔ مزید برآںبرطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی آئین پاکستان کو تسلیم کرلے اور جرائم میں ملوث نہ ہو تو معافی دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکام کو تنہا کرنے کی کوشش سے معاشی بحران اور انارکی پھیلے گی ، افغانستان سے آنے والے افراد کے لیے کوئی مہاجر کیمپ نہیں بنایا جارہا۔ افغانستان سے ملحق پاکستانی سرحد پر کوئی دباؤ نہیں ہے ۔