ہم متحدہ ہیں ،افغان طالبان نے قیادت میں اختلافات کی تردید کردی

150

کابل (خبر ایجنسیاں) افغان طالبان نے قیادت کے درمیان اختلاف کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری بیان میں طالبان رہنما انس حقانی نے کہا کہ امارت اسلامی کے خلاف تمام افواہیں پروپیگنڈا ہیں اور قیادت میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمنوں کا مذموم پروپیگنڈا اس اتحاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، امارت اسلامی متحدہے، اسلامی اور افغان اقدارکا احترام کرتی ہے۔انس حقانی کا کہنا تھاکہ ہم افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی لانے کیلیے متحد ہیں۔ اس سے قبل افغانستان کے نائب عبوری وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ قندھار میں اپنی رہائشگاہ پر صحیح سلامت ہیں۔ طالبان قیادت کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں، کسی کام کے باعث میڈیا سے دور رہے۔ انہوں نے طالبان رہنماؤں سے اختلافات اور زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم سفر میں تھے، اس لیے میڈیا تک رسائی ممکن نہیں تھی۔علاوہ ازیںاقوام متحدہ کی ایلچی نے افغانستان کے نئے وزیر داخلہ سے ملاقات کی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی سربراہ ڈیبورا لیونز اور سراج الدین حقانی کے درمیان ہونے والی ملاقات انسانی امداد پر مرکوز رہی۔انہوں نے کہا کہ سراج الدین حقانی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے اہلکار بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام انجام دے سکتے ہیں اور افغان عوام کو امداد پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری کے ساتھ مشترکہ تعلقات پر زور دیا۔دریں اثناء افغان آرمی چیف قاری فصیح الدین نے طالبان کی پیشہ ور فوج بنانے کا اعلان کردیا ہے۔قاری فصیح الدین کے مطابق فوج ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے گی جبکہ طالبان کے خلاف لڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔افغان آرمی چیف نے مزید کہا کہ نئی فوج اہل افسران پر مشتمل ہوگی جن میں گذشتہ حکومت کے فوجی بھی شامل کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ جنھوں نے تربیت حاصل کی ہے اور پیشہ ور ہیں وہ ہماری نئی فوج میں استعمال ہوسکیں گے۔ ہمیں امید ہے یہ فوج مستقبل قریب میں تشکیل دی جائے گی۔