کراچی میں رواں برس 355 قتل ، 11سو گاڑیاں چھینی گئیں ، ڈاکے اور چوریاں

92

کراچی (اسٹاف رپورٹر) حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروںکے دعووں کے برعکس کراچی کے شہری بدستور جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر ہیںرواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران مختلف واقعات میں 355 افرادکوقتل اور 842 کو زخمی کیاگیا، شہریوںسے35ہزار کے قریب موٹرسائیکلیں اور11سوکے قریب گاڑیاں اسلحے کے زور پرچھین کر لے گئے ، وارداتوں کا نشانہ بننے والوں میں پولیس اورقانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔سی پی ایل سی کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران 355 شہری ڈکیتی مزاحمت اور دیگر واقعات میں قتل ہوئے جبکہ 842 افراد زخمی ہوئے۔ آٹھ ماہ میں 35 ہزار کے قریب موٹر سائیکلیں اور 1061 کاریں چھینی گئیں یا چوری ہوئیں جب کہ تین ہزار 187 شہری قیمتی 125 موٹر سائیکل سے محروم ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے اگست تک 27 ہزار 821 شہریوں کی 70 سی سی موٹر سائیکل جب کہ 825 رکشے چوری ہوئے یا چھینے گئے۔رہزنی کی وارداتوں کے دوران سڑک پر گھر کے باہر 16 ہزار 591 موبائل چھینے گئے۔سی پی ایل سی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کراچی میں اغوا برائے تاوان کی 12، بھتے کی 20 وارداتیں جب کہ بینک ڈکیتی اور بینک لاکر چوری کی ایک ایک واردات ہوئی پورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینک لاکر کی چوری کے دوران کروڑوں روپے کا سونا اور سامان لوٹا گیا جب کہ بینک کی خطیر رقم 20 کروڑ 50 لاکھ بھی چوری کیے گئے سی پی ایل سی کی مرتب کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ راہزنی کی وارداتوں میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس اور دیگر افراد بھی لٹنے والوں میں شامل ہیں۔ان آٹھ ماہ کے دوران سابق کمشنر کراچی کی والدہ کے گھر بھی ڈکیتی کی بڑی واردات سمیت کراچی کے تمام ڈسٹرکٹس میں ہزاروں ڈکیتی اور چوری کی وارداتیں رونما ہوئیں اور ان کارروائیوں کے دوران اربوں روپے کی نقدی اور زیورات لوٹ لیے گئے ۔