پاکستان میں تیر اندازی کا مستقبل روشن دیکھ رہا ہوں ، ذوالفقار علی شاہ

115

(انٹرویوسید وزیر علی قادری)پاکستان میں تیر اندازی کو لڑکیوں میں معتارف کرانے والے سید ذوالفقار شاہ سے بات چیت میں انہوں نے اپنی بچیوں سے ملاقات کروائی اور بتایا کہ میں نے سنت نبوی صل اللہ علیہ وسلم سمجھ کر اس شعبے کو منتخب کیا اور بحیثیت مسلمان الحمداللہ اسی وجہ سے اس کومشن سمجھ کر اپنے گھر سے اس کا آغاز کیا۔ نمائندہ جسارت نے ان سے انٹرویو کیا جو قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لیے پیش ہے۔ انہوں نے 1993میں تیر اندازی شروع کی۔ انہیں قومی سونے کا تمغہ اپنے نام کرنے کا ہی اعزاز حاصل نہیں بلکہ پاکستان میں تیراندازی کی اکیڈمی قائم کرنے والے پہلے شخص ہیں۔ ذوالفقار شاہ آرمی سے 2015میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے۔ وہ اس دوران پاک آرمی کی تیر اندازی کی ٹیم کا بھی حصہ رہے۔ذوالفقار علی شاہ کی کاکول، ایبٹ آباد میں آرمی کا قائم اسکول آف فزیکل ٹریننگ میں تعیناتی ہوئی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ تیراندازی کے الات سے واقفیت پائی۔ محمد سلیم ان کے ٹرینر تھے۔ انہیں خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی اس کھیل کو سیکھوں۔ لہذا انہوں نے بھی مشقیں شروع کردیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں نیوی سے تعلق رکھنے والے صدر اور سیکریٹری جنرل نے اس کھیل تیر اندازی کو آگے بڑھایا۔ 1997,1998میں 2مرتبہ نیوی نے قومی سطح پر تیراندازی کی چیمپئن شپس منعقد کیں۔ اور خوش قسمتی سے آرمی نے دونوں مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ذوالفقار شاہ کو آگے بڑھنے کا موقع ملا ، جو وہ سیکھنا چا ہتے تھے وہ انہوں نے سیکھا۔ یہ ہی نہیں بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے کر وطن عزیز پاکستان کا نام اور جھنڈا اونچا کیا جس کے لیے دن اور رات محنت کی۔ بنگلا دیش میں منعقد ہونے والے ایونٹ میں پہلا ایشیائی کھلاڑی بنے۔تیر اندازی فیڈریشن نے جب دوبارہ 2011میں اس کھیل کو شروع کیا تو اس وقت محمد وصال خان سیکریٹری جنرل اور ملک مجید خیبر پختون خوا سے صدر کے عہدوں پر منتخب ہویے۔ ان دنوں ڈیپارٹمنٹس کی ٹیمیں بنیں جن میں آرمی، واپڈا، ریلوے، پولیس، کسٹمز، صوبہ پنجاب، سندھ، بلوچستان ، کے پی کے اور فاٹا شامل ہیں۔ 2011میں ایک مرتبہ پھر چیمپئن شپ منعقد ہوئی اور ذوالفقار علی شاہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ وہ اس ٹیم کے کپتان بھی تھے۔2015میں جب وہ آرمی سے ریٹائرڈ ہوئے تو انہوں نے پکا ارادہ کرلیا کہ وہ اپنی تیر اندازی کی اکیڈمی بنائیں گے۔ الحمداللہ وہ اس مشن میں کامیاب بھی ہویے۔ پاکستان آرچرز اور ارچرز اکیڈمیز کے نام سے مشقیں جاری ہیں۔ پہلے قذافی اسٹیڈیم میں اور بعد ازاں بحریہ ٹائون لاہور میں ٹریننگ شروع کرائی جو اب بھی جاری ہے۔ اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر ڈیپارٹمنٹس میں بھی جاکر انہوں نے اس کھیل کی ٹریننگ دی۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے رشک ہے کہ میری PAAL اکیڈمی جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں انٹر اسکول، کالجز، یونیورسٹیز اور ڈیپارٹمنٹس کی طرف سے مختلف ٹورنامنٹس میں حصہ لے کر کامیابی کی منزل کو چھو رہے ہیں۔ ان کامیاب کھلاڑیوں کو وظیفے بھی دیے جارہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں کہ کیا آپ کرکٹ اور دوسرے کھیلوں کی طرح تیراندازی کھیل کا مستقبل بھی روشن دیکھ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بالکل، اس میں دو رائے ہیں ہی نہیں۔ ہمارے کھلاڑی کسی بھی عالمی سطح پر نام پیدا کرنے والوں سے پیچھے نہیں۔ اس وقت 35بہترین کوچز پاکستان میں اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ممالک بھارت، بنگلادیش اولمپکس میں حصہ لے کر کارکردگی دکھا رہے ہیں اور ہمیں پاکستان آرچری فیڈریشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی توجہ درکار ہے۔ اگر یہ ہمیں مالی معاونت کریں یا اسپانسرز دستیاب ہوں تو ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ایک اور سوال پر کہ کیا تیر اندازی کے آلات پاکستان میں تیار ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ’ نہیں’۔ ہمیں دوسرے ممالک سے یہ درامد کرنا پڑتے ہیں جن میں چین، برطانیہ، کوریا اور امریکا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ یہ آلات اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ ہر کوئی اس کی قوت خرید نہیں رکھتا۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی اتنی بھاری دینا ہوتی ہے کہ ہر ایک کی بساط سے باہر ہے۔ انہوں نے جسارت کے توسط سے میری حکومت وقت سے اپیل ہے کہ وہ اتنی زیادہ کسٹم ڈیوٹی کو یا تو یکسر ختم کردیں یا بہت کم اس پر ڈیوٹی لگائیں تاکہ یہ کھیل مزید وسعت پاسکے۔ میرا تو اس سے بڑھ کر کہنا ہے کہ تمام کھیلوں کے سامان پر کسٹم اور دیگر ٹیکسزو ڈیوٹیز کو معاف کردیا جائے ۔یقینا اس سے کھیلوں کو فروغ ملے گا نوجوان نسل کھیلوں کے ذریعے مثبت خیالات کو پروان چڑھائے گی اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوگا۔پاکستان آرچری فیڈریشن سے مطمئن والے سوال پر سید زوالفقار علی شاہ کا کہنا تھا کہ کافی حد تک مطمئین ہوں لیکن ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ میں اس فورم سے کھلاڑیوں کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ وہ کھیل اور صرف کھیل پر توجہ مرکوز رکھیں، کلب، اکیڈمیز، ایسوسی ایشن اور فیڈریشن کے معاملات میں نہ تو مداخلت کریں اور نہ ہی کسی کے آلہ کار بنیں۔ اسی طرح ان بڑوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہویے کھیل اور کھلاڑی کی ترویج اور ترقی کے لیے تمام زرائع بروئے کار لائیں تاکہ کھلاڑی بہتر نتائج دے سکیں۔ اسی طرح کسی کو بھی ان کھیلوں کی سرگرمیوں کو چلانے والوں کے خلاف کسی بھی قسم کی منفی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جو مملکت خداداد پاکستان میں کھیلوں کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔ منظور نظر کھلاڑی ہو یا عہدیدے دار کسی بھی صورت میرٹ سے ہٹ کر ہر عمل کی بے خنی ہونی چاہیے۔ ایک سوال پر کہ کیا خواتین کے لیے بھی تیر اندازی کھیل موزوں ہے؟ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک چھوٹی بچیوں یا کم عمر خواتین کے لیے یہ کھیل بہت اچھا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بڑی عمر کی خواتین کا اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ تو خاندان کی بنیاد پر بھی بہت بہترین کھیل ہے۔ اس کو کھیلتے وقت آپ عام سے کپڑے بھی پہن سکتے ہیں۔ اس موقع پر میری والدین سے گزارش ہے کہ وہ بچیوں، لڑکیوں کو ضرور کھیلوں سے قریب لائیں ۔ رب کریم کے حکم اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہویے کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دیں ورنہ بے جا پابندیوں سے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتی ہیں۔ حکم ربی اور شریعت کی پباندی تو مردوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ بہرحال دین اسلام ہماری ترجیح ہے ، ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم اسوہ حسنہ پر عمل کریں جس میں دین و دنیا کی بھلائی ہے۔