پیوٹن اور بشار الاسد کی ترکی اور امریکی پر تنقید

94
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بشار الاسد ملاقات کررہے ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے شام کے آمر بشار الاسد نے ماسکو میں ملاقات کی، جس میں شام میں دیگر غیر ملکی افواج کی موجودگی پر سخت تنقید کی ہے۔2015ء کے بعد بشار الاسد کی اپنے ایک طاقتور دیرینہ اتحادی ملک روس کے صدر کے ساتھ ماسکو میں یہ ملاقات پیر کے روز ہوئی۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس سے قبل 2018 ء میں بحیرۂ اسود کے پُر فضا مقام سوچی میں اپنی صدارتی رہایش گاہ پر بشارالاسد سے ملاقات کی تھی۔روسی فضائیہ نے شامی تنازع کا دھارا کافی حد تک بشار الاسد کے حق میں کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور سے 2015 ء میں روس نے شام میں بشار الاسد کے ہاتھوں سے نکل جانے اور مزاحمت کاروں کے زیرانتظام آنے والے علاقوں کی بازیابی اور انہیں دوبارہ سے بشار الاسد کے قبضے میں دینے کے عمل میں بہت مدد کی تھی۔ اس وقت روسی فضائیہ نے اپنے دستے شام میں تعینات کیے تھے۔ برسوں سے خانہ جنگی سے دوچار عرب ریاست شام کے کئی علاقے اب بھی اسدی کنٹرول میں نہیں ہیں۔ شام کے بیشتر شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں ترک افواج تعینات ہیں۔ اس علاقے کو اسد مخالف مزاحمت کاروں کا آخری گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ادھر کردوں کے زیر کنٹرول شام کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقے میں امریکی فوجی تعینات ہیں۔ 2011 ء میں جب سے شام کی خانہ جنگی کا آغاز ہوا ہے، ایران اور روس کے حلیف بشارالاسد نے چند بیرونی ممالک کے دورے کیے۔ ماسکو میں اپنے شامی ہم منصب کے دورے کے دوران روسی صدر نے اقوام متحدہ کے کسی فیصلے یا مینڈیٹ کے بغیر غیر ملکی افواج کی شام میں تعیناتی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام شام کے استحکام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بشارالاسد نے روسی صدر کی شام کے لیے مدد اور نام حزب اختلاف کی مسلح مزاحمت کو روکنے کے ضمن میں روس کے اقدامات کا شکریہ ادا کیا۔ بشارالاسد کا کہنا تھا کہ روس اور شام کی افواج نے مقبوضہ شامی علاقوں کو آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بشار نے کچھ ممالک کی طرف سے شام پر پابندیاں سخت کرنے کو غیر انسانی اور ناجائز عمل قرار دیا۔