امت مسلمہ کا حصہ

226

ہم نے انہی کالموں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ امریکا افغانستان سے بھاگ تو گیا ہے مگر جوتے چھوڑ گیا ہے جو تعفن کا باعث بن سکتے ہیں ان جوتوں میں دال بٹنے کا بھی امکان تھا اور اب وہی ہورہا ہے جوتوں میں دال بٹ رہی ہے اور تاثر یہ پھیل رہا ہے طالبان نے اپنی حکومت بنا لی ہے اور کام بھی شروع کرلیا ہے مگر دنیا کے دیگر ممالک جو امریکا کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان حالات میں مولانا فضل الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مشورہ دیا ہے کہ طالبان کی حکومت کو فوراً تسلیم کرلینا چاہیے۔ مگر شاہ کے وفاداروں نے شاہ کے خوشنودی کے حصو ل کے لیے بیان داغا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ ہمیں مشورہ دیں یا مطالبہ کریں کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلیا جائے۔ ہم ابھی تیل دیکھیں گے اور تیل کی دھار کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ گویا وہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہم طالبان کی حکومت کے بارے میں وہی فیصلہ کریں گے جس کا حکم ملے گا۔ بات تو درست ہے اگر درآمد ہدایت پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ان کی اپنی حکومت خطرے میں پڑ جائے گی۔
شیخ رشید قدو قامت کے اعتبار سے آئیڈیل ہیں انہیں دیکھ کر دل پشوری ہوجاتا ہے اگر دل پشوری نہ بھی ہو تو آنکھیں ضرور ٹھنڈک محسوس کرنے لگتی ہیں اور ٹھنڈک بھی ایسی کہ رسا چغتائی یاد آجاتے ہیں۔ ٹھنڈک اس کے ہاتھوں کی۔۔۔ ٹھنڈا پانی چشمے کا
کشادہ پیشانی روشن چمک دار آنکھیں صاف ستھرا لباس بولتے ہیں تو خیال و فکر کے دریچے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ شیخ صاحب جب سے تحریک انصاف سے متاثر ہوئے ہیں ان کے چاہنے والے عمران خان کے متاثرین میں شامل ہوتے جارہے ہیں۔ اگر معاملہ ایسا رہا تو شیخ جی کے متاثر خان صاحب کے متاثرین میں شامل ہوجائیں گے اور شیخ جی نہ ادھر کے رہیں گے اور نہ ادھر کے۔ مثال صنم کی آرزو کی صنم کے خواب ہی دیکھتے رہیں گے اور ان کا یہ خواب لال حویلی کی پری کو بھی پرے پرے کردیے گا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ شیخ رشید ہر معاملے میں کبھی اپنی ٹانگ اڑاتے ہیں اور کبھی اپنی ناک کو زحمت دیتے ہیں۔ ان کے ارشاد گرامی کے مطابق طالبان کو مشورہ دیا گیا تھا وہ اپنی حکومت اپنی کابینہ میں حامد کرزئی اور عبد اللہ عبد اللہ کو شامل کرلیں مگر جواب ان کی توقع کے خلاف ملا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ایسا کڑاکے دار ملاکہ ان کے کڑاکے نکل گئے، طالبان نے کہا آپ اپنی کابینہ میں سابق صدر آصف زرادری سابق وزیر میاں نواز شریف کو شامل کرلیں تو ہم بھی حامد کرزئی اور عبداللہ عبد اللہ کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
شیخ جی کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کے لیے اپنی شرائط منوانا چاہتے تھے۔ حد ہوگئی شیخ جی، شیخ جی نے اتنا بھی سوچنا گواراہ نہ کیا کہ جنہوں نے امریکا اور دنیا کی دیگر بڑی طاقتوں کی شرائط نہ مانیں وہ پاکستان کی ڈکٹیشن پر کیسے اور کیوں سر تسلیم خم کریں گے۔ ہمارا قومی المیہ یہی ہے کہ وطن عزیز کا بااختیار اور با اثر طبقہ سوچنے سمجھنے کی زحمت گوراہ ہی نہیں کرتا۔ بس وہی کرتا ہے جس کی ہدایت ملتی ہیں۔ ہم حامد کزرئی کے قرضئی ہیں نہ عبد اللہ عبد اللہ کے عبد ہیں سو، یہ ہماری تجویز ہوسکتی نہ ہماری خواہش ہوسکتی ہے۔ گویا یہ سارا کھیل درآمد ہدایات کے مطابق کھیلا جارہا ہے۔ مگر ہمیں اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ طالبان ایسا کھیل نہیں کھیلتے اور جہان تک طالبان کی حکومت کا سوال ہے سو اسے تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور شاہ کے جو وفا دار کہ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کون ہوتے ہیں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرنے والے۔ یہ کام حکومت کا ہے جو تسلیم کرتی ہے یا نہیں اس سوال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تم کون ہو یہ کہنے والے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا ان کی مرضی کے تابع ہے۔ انہیں اس حقیقت کو بھی تسلیم کرلینا چاہیے کہ تابع دار کا بھی کوئی تابع نہیں ہوتا۔ طالبان ایک ایسی حقیقت ہے جنہیں تمہارے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ تمہاری اپنی حیثیت مشکوک ہوجائے گی۔ قوم کو سوچنا پڑے گا کہ تم امت مسلمہ کا حصہ ہو یا کسی منافقت کا ویسے وطن عزیز کے عوام طالبان کی حکومت سے خوش ہیں۔ بات خوشی کی بھی ہے کہ طالبان نے ثابت کیا ہے کہ جنگ بچوں کا کھیل نہیں۔ جنگ کسی خاص مقصد کے لیے لڑی جاتی ہے۔ اپنی آزادی اور اپنے ملک کی خود مختاری کے لیے جو جنگ لڑی جائے جو جہاد کہلاتی ہے اور جہاد کے لیے مضبوط فوج اور جدید ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہوتی ایمان کی مضبوطی اور خدا پر یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکا اپنی فوجی قوت اور جدید انسان دشمن ہتھیاروں پر یقین رکھتا ہے سو زمین چھاٹنا اس کا مقسوم بن چکا ہے۔