روشن مستقبل اور عوام کی حالت زار

178

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ دنیا عمران خان کی مرید بنے۔ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ حکومت تین سال میں مثبت تبدیلیاں لائی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کا مستقبل انتہائی روشن دیکھ رہا ہوں۔ ملک نئی اور مثبت سمت میں گامزن ہے۔ مثبت اقتصادی اشاریے حکومتی کارکردگی کا ثبوت ہیں۔ صدر مملکت نے شکوہ کیا کہ حکومت کے خلاف جو بھی بتایا جارہا ہے وہ سب جھوٹ ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ گویا پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پی ایم ڈی اے کا بل لانے کی تیاریاں ہیں۔ اس پر صدر مملکت کا یہ مشورہ ہے کہ اپوزیشن انتخابی اصلاحات میں ساتھ دے، جعلی خبروں سے چھٹکارے کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران صحافیوں کو پریس گیلری میں نہیں جانے دیا گیا۔ گیلری بند رہی، صحافی کیفے ٹیریا تک محدود رہے۔ گویا حکومت نے صدر مملکت کے خطاب کے وقت ہی سے پی ایم ڈی اے نافذ کردیا ہے۔ اس پر صحافیوں نے احتجاج کیا اور مارشل لا نامنظور کے نعرے لگائے۔ یہ اور بات ہے کہ اصلی مارشل لا لگا ہوتا تو شاید احتجاج اور نعرے بازی کرنے والے صحافی بھی معدودے چند ہوتے۔ صدر مملکت نے اس کے بعد جو خبر سنائی اسے جعلی کہا جائے یا اس کا کوئی اور نام رکھا جائے۔ ان کا دنیا بھر کے لیے یہ مشورہ خوب ہے کہ وہ پاکستان پر تنقید کے بجائے عمران خان کی تقلید کرے۔ ایک اخبار نے اسے عمران خان کا مرید بننے کا مشورہ لکھا ہے۔ صدر مملکت نے جعلی خبروں کی بات بھی کی اور حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ حالاں کہ ملک بھر میں عوام کی سہولت کے لیے پل باندھنا حکومت کی ذمے داری ہے جو وہ پوری نہیں کررہی۔ صدر صاحب کی تقریر میں ملک کو درپیش چیلنجز کے حل اور عوام کی سہولت کے اقدامات پر گفتگو محض اعلانات اور اشاروں تک محدود رہی۔ لیکن اپوزیشن پر تنقید میں صدر مملکت، عمران خان کابینہ کے وزرا کی طرح حدود پار کر گئے۔ کہنے لگے کہ اپوزیشن میری بات سنے تو اسے بھی عقل آئے، انتخابی اصلاحات ضروری ہیں، الیکٹرونک ووٹنگ مشین کو سیاسی فٹبال نہ بنایا جائے۔ صدر صاحب یہ بھی جانتے ہوں گے کہ فٹبال میں دو ٹیمیں کھیلتی ہیں اور کھیل جب ہی ہوتا ہے جب دونوں کک مارتے ہیں۔ تو جناب صدر اپنی ٹیم کو بھی مشورے دیا کریں کہ بیان بازیاں کم کریں۔ صدر کا یہ جملہ فواد چودھری کی طرح کا ہے کہ اپوزیشن میری بات سنے تو اسے عقل آئے گی۔ گویا وہ بے وقوف اور حکمران عقلمند ہیں۔ اب ذرا اقتصادی اشاریوں کی بات کرلیں حکومت کے اپنے ادارے کے اشاریے مہنگائی کی اطلاع دے رہے ہیں جو مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ اب اگر پٹرول، آٹا، تیل، دودھ، گوشت، چینی، دالوں، چاول وغیرہ کا ذکر کریں تو یہ تکرار در تکرار ہوگا۔ لیکن یہ ہے تو حقیقت۔ صدر مملکت کو اس کے باوجود تمام اقتصادی اشاریے اچھے لگ رہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل روشن ترین دیکھ رہے ہیں۔ صدر کے خطاب میں اہم قومی امور کے بجائے زیادہ زور حکومت اور عمران خان کی تعریفوں پر صرف کیا گیا۔ جب کہ صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب قومی امور پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے رہنمائی ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ صدر حکمران پارٹی ہی کا بنتا ہے لیکن پارلیمانی روایات کے مطابق کم از کم ارکان پارلیمنٹ کو کچھ باتیں گوش گزار کردی جاتیں۔ صدر کے خطاب کے دوران ہنگامہ اور نعرے بازی کا تعلق ہے تو یہ روایت بڑی قبیح ہے۔ اس سے اچھا تاثر نہیں اُبھرتا۔ غیر مہذب پارلیمنٹ اور غیر مہذب اراکین اسمبلی کا الزام درست ثابت ہونے لگتا ہے۔ اپوزیشن نے ہنگامہ کرکے اچھا نہیں کیا، اگر واک آئوٹ ہی کرنا تھا تو ایک آدمی بات کرتا اور باقی ساری اپوزیشن واک آئوٹ کرتی۔ یہ پارلیمانی طریقہ تھا لیکن ایوان کا وقار مجروح کرنا کسی طور درست نہیں۔ اپوزیشن اس کے نتیجے میں میڈیا میں اجاگر ہوجاتی ہے لیکن پاکستان کا چہرہ خراب ہوجاتا ہے۔ فرض کریں اس اپوزیشن کو کل حکومت مل جاتی ہے اور یہ اپنا صدر منتخب کرالیتی ہے۔ تو کیا وہ یہ گوارا کریں گے کہ ان کے صدر کے خطاب کے دوران بھی ایسا ہنگامہ کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں جمہوریت اور سیاستدانوں کی مخالف قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں اور خود پورے ملک کا نظام ہائی جیک کرنے والے سیاستدانوں کا چہرہ خراب دکھاتے ہیں۔ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو ان کی پارٹی بھی یہی کچھ کرتی تھی بلکہ عمران خان نے تو مخالف رہنمائوں کے نام بگاڑنے اور اوئے جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ یہی صدر عارف علوی صاحب کلفٹن میں حکومت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹواتے ہوئے ’’تمہارے باپ کی روڈ ہے‘‘ کہتے نظر آتے تھے۔ سیاست اور پارلیمنٹ کے وقار کا لحاظ رکھنا بھی ان سب جماعتوں کا کام ہے ایسا نہیں کریں گے تو بے وقعت رہیں گے۔