تعلیم کا جنازہ

126

بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع کرنے کے لیے دسویں اور بارہویں کے فیل طلبہ کو 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا۔ یعنی کسی طالب علم کو فیل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ سن کر سب خوش ہو جاتے ہیں کہ حکومت کتنی رحمدل ہے اور بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔ لیکن پورے ملک میں کورونا کی آڑ میں تعلیم، مذہب اور چھوٹے کاروبار کے ساتھ جو مذاق کیا گیا ہے وہ نہایت سنگین ہے۔ تعلیم کا بیرہ غرق کر دیا گیا ہے۔ حکمرانوں کو خود پتا نہیں کہ اسکول کھولنے ہیں یا نہیں۔ کب سے کھولنے ہیں۔ امتحان کیسے لینے ہیں۔ نتائج کیسے مرتب کرنے ہیں۔ بلکہ سرکار نے آسان حل یہ سوچا کہ اسکول بند کر دینے چاہئیں۔ چنانچہ اسکول بند کر دیے گئے۔ پورے ملک میں اساتذہ، اسکول کے دیگر عملے کو تنخواہیں ملتی رہیں۔ لیکن طلبہ کو تعلیم نہیں ملی۔ اگر حکمرانوں کو قوم کے مستقبل سے کوئی تعلق ہوتا تو بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔ 33 نمبر دے کر پاس کرنے کا مطلب یہ ہے کہ محنت کر کے پاس ہونے والا اور فیل طالب علم ایک ہی معیار کے قرار پائیں گے۔ اسکولوں کی مجموعی تعطیلات سال بھر میں 130 سے 150 دن تک ہوتی ہیں چند اہم مواقع عیدین وغیرہ کو نکال دیں تو بھی 130 تک چھٹیاں ہوتی ہیں۔ ایسے ہنگامی حالات میں چھٹیاں منسوخ کرکے اسکولوں کا دورانیہ بڑھا دیا جاتا۔ صبح آٹھ سے پانچ تک اسکول کھولے جاتے۔ ہر کلاس کے طلبہ کا گروپ بنایا جاتا۔ ہر گروپ کو ہفتے میں دو تین دن بلایا جاتا اور ان کو چند مخصوص مضامین ضرور پڑھائے جاتے۔ اردو، اسلامیات وغیرہ گھروں میں پڑھائی جاتی، انگریزی، حساب، جنرل سائنس وغیرہ پر اسکولوں میں زور دیا جاتا۔ لیکن چونکہ سرکاری اسکولوں میں سیاسی بھرتیاں ہوتی ہیں اس لیے انہیں گھر بیٹھے تنخواہ ملتی رہی۔ پرائیویٹ اسکولز حکومت کی پابندی کی وجہ سے بند رہے۔ اور حکومت کو خود نہیں معلوم کہ اسکول کب کھولنے ہیں اور کب بند کرنے ہیں۔ ہر کام کے تو وہ پیسے وصول کرتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ یہ بڑا سنگین مذاق ہے۔ سندھ کے وزیر تعلیم کہتے ہیں خدارا اراکین اسمبلی لیکچرار کے تبادلے کی سفارش نہ لائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہ لائیں۔ سفارش پر بھرتی ہونے والے لیکچرار اپنی مرضی کی جگہ تعیناتی بھی چاہتے ہیں۔ اس کام کے لیے پیسے بھی دیتے ہیں۔ پھر یہ پیسے وصول بھی کرتے ہوں گے۔ تو پھر تعلیم کون دے گا کاروبار ہی چلے گا۔ یہ اراکین ہیں کس کے، اس کا بھی پتا چلنا چاہیے۔