پی ٹی آئی حکومت بلدیاتی انتخابات سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرے،سراج الحق

128
لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق منصورہ میں مرکزی پارلیمانی بورڈکے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں، امیر العظیم بھی موجود ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرے۔ بلدیاتی الیکشن نہ کرا کر پی ٹی آئی نے ثابت کر دیا کہ اس کے جمہوریت کی بالادستی کے دعوے سراسر جھوٹ ہیں۔ جماعت اسلامی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ الیکشن میں بھی ایماندر اور قابل افراد کو آگے لائے گی اور خصوصی طور پر نوجوانوں کو قیادت کازیادہ سے زیادہ موقع فراہم کیا جائے گا۔منصورہ میں منگل کو کئی گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں مختلف حلقوں میں امیدواران کی پرفارمنس کا جائزہ لیا گیااور آئندہ الیکشن میں ان کو قومی و صوبائی اسمبلی کے ٹکٹس جاری کرنے سے متعلق مشاورت ہوئی۔ اجلاس میں سیکرٹری جنرل امیر العظیم سمیت دیگر قیادت شریک تھی۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ہماری سیاست کا واحد مقصد فرد کے ذریعے معاشرے کی اصلاح ہے۔ جماعت اسلامی انسانوں کی دنیا وی واخروی کامیابی و کامرانی چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنان اور دیگر جماعتوں کے ورکرز میں واضح فرق ہے۔امیر جماعت نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن میں جماعت اسلامی نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ انھوں نے کہا ان شاء اللہ ہم آئندہ بھی اس تسلسل کو بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کامیاب امیدواران اور جماعت اسلامی کے مقامی قائدین اور کارکنان کو ایک دفعہ پھر مبارکباد دی۔سراج الحق نے حکومت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے قوم کے 3 سال بربادکر دیے ہیں۔ ہرشعبے میں زوال آیا ہے۔ پی ٹی آئی اب میڈیا کو بھی اپنے نرغے میں لینا چاہتی ہے ،جماعت اسلامی یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ میڈیا پر قدغن قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نہ صرف معیشت بلکہ نظریاتی محاذ پر بھی ملک کا ستیاناس کیا۔ ثابت ہو گیا ہے کہ موجودہ اور سابق حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر حکومت اور نام نہاد بڑی اپوزیشن جماعتوں میں جنگ جاری ہے اور عوام اور ملک کی کسی کو فکرنہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی الیکشن سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرے۔ بلدیاتی الیکشن نہ کرا کر پی ٹی آئی نے ثابت کر دیا کہ اس کے جمہوریت کی بالادستی کے دعوے سراسر جھوٹ ہیں۔ وزیراعظم ماضی میں مسلسل اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا راگ الاپتے رہے، مگر اقتدار میں آتے ہی انھوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ انھوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کا قیام، آزاد الیکشن کمیشن، آزاد پارلیمان ، عدلیہ اور آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی اقدار ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ تصور نہیںپنپ سکا۔ چند خاندان ملک کے وسائل پر قابض ہیں۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں گنے چنے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور وڈیروں کا راج ہے۔ حکمران اشرافیہ کے محلات یورپ اور دبئی میں ہیں، ان کے بچے دنیا کے مہنگے ترین کالجز اور یونیورسٹیز میں پاکستان پر حکمرانی کے لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملک میں کروڑوں بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جا پا رہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 3 سالہ دور میں بے روزگاری کا طوفان آیا اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی۔ اشیا ئے خورونوش کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے، معیشت کا پہیہ جام، غریبی اور بے کسی ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ہر روز ڈالر اوپر اور روپیہ نیچے جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں۔امیر جماعت نے کہا کہ پاکستان کو صرف اور صرف قرآن و سنت کے نظام کی ضرورت ہے اور یہی قوم چاہتی ہے، مگر اسٹیٹس کو کے علمبردار ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں کیوںکہ اس سے ان کے مفادات کی سیاست اور دکانداری بند ہو جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالے گی اور عوام کے لیے خوشحالی کے دروازے کھولے گی۔ ہمارا مطمع نظر قوم کی فلاح و بہبود ہے۔ جماعت اسلامی ایک اصلاحی اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور ہم یہ کوشش منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔