افغانستان کی خوشحالی اور طالبان کا عروج

173

آج سے بیس سال قبل نائن الیون کے سانحے نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی تھی، طاقت کے نشے میں چُور امریکا عالمی طاقتوں کو ساتھ لے کر ایک کمزور ملک افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا اور طالبان حکومت کو بزورِ طاقت ختم کردیاتھا ۔تاہم رواں برس جب امریکا میں نائن الیون کی 20 سالہ یاد منائی گئی تووہی طالبان جنہیں امریکا نے نیٹو اور عالمی طاقتوں کی مدد سے بزور طاقت پہاڑوں میں دھکیل دیا تھا، ایک مرتبہ پھر پورے جاہ و جلال کے ساتھ افغانستان پر حکمراں ہیں۔ ماضی کی نسبت افغانستان میں طالبان کا راج نہ صرف پہلے سے زیادہ مستحکم ہوچکا ہے بلکہ وادی پنج شیر سمیت وہ علاقے جنہیں ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، طالبان کی یلغار کا مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ میںجنگ سے تباہ حال افغانستان میں حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں کہ دنیا دم بخود نظر آتی ہے۔ افغانستان سے موصول اطلاعات کے مطابق طالبان نے آخرکار ایک عبوری حکومت اور کابینہ کا اعلان کردیا ہے جبکہ افغانستان کوایک مرتبہ پھر 20 سال پراناسرکاری نام امارات اسلامیہ افغانستان دے دیا گیا ہے۔
ملا محمد حسن اخوند تحریک طالبان کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انہیںنائن الیون کے بعد امریکا کے کہنے پر اقوام متحدہ نے بلیک لسٹ کیا تھا۔ آج وہ افغانستان کی نئی حکومت کے سربراہ ہیں۔ اسی طرح نئے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی آج بھی امریکی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی)کی جاری کردہ مطلوب افراد کی لسٹ میں سرفہرست ہیں۔ گونتانامو کی بدنام زمانہ جیل کاٹنے والے متعدد طالبان رہنمابھی اپنی نئی حکومتی ذمے داریاں سنبھال رہے ہیں۔ طالبان نے فاتح پنجشیر قاری فصیح الدین بدخشانی کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا ہے۔ اس اہم ترین عہدے پر ایک غیر پختون تاجک النسل کا تقرر اس امر کا ثبوت ہے کہ طالبان نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے میرٹ کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
افغانستان سے امریکا کا انخلا دنیا کی واحد سپرپاور کے زوال کا آغاز ہےجبکہ طالبان کی واپسی افغانستان میں خانہ جنگی نہیں بلکہ ملک کو متحد کرنے کا باعث بنے گی۔ چند ماہ قبل جب اس طرح کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں تو اس وقت تمام عالمی مبصرین امریکا کے انخلا کو علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دے رہے تھے۔ اس حوالے سے افغانستان میں خانہ جنگی سمیت ہمسایہ ممالک کی طرف سےمہاجرین کی آمد کے خدشات ظاہر کیے جارہے تھے۔ اس وقت کے افغان صدر اشرف غنی کی امریکی صدر جوبائیڈن سے ٹیلیفونک گفتگو بتاریخ 23جولائی کی آڈیوبھی منظرعام پر آچکی ہے جس میں صدر بائیڈن امریکی حکومت کی مالی امداد سے تربیت یافتہ افغان مسلح افواج کی تعریف کرتے ہوئے اشرف غنی کا حوصلہ بڑھارہے ہیں۔
قبل ازیں، امریکی صدر واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بھی طالبان کو شکست دینے میں کافی پراعتماد نظر آتے تھے۔ انہوں نے طالبان کی اقتدار میں واپسی کے امکان کو مکمل رد کردیا تھا۔تاہم سپر پاور امریکا کے حکمراں سمیت عالمی تجزیہ کاروں کی رائے کے برعکس آسمانوں پر ستاروں کی چال دیکھنے والے افغانستان کا مستقبل کچھ اور ہی دیکھ رہے تھے۔ وہ افغانستان میں صورتحال کی جس تبدیلی کا عندیہ دے رہے تھے اس پر یقین کرنا بہت مشکل تھا، تاہم وقت نے ثابت کردیا کہ طالبان افغانستان کے طول و عرض پر تیزی سے اپنا جھنڈا لہراتے چلے گئے۔
سوشل میڈیا پروائرل تصویر میں کابل میں واقع امریکا کے سفارتخانے کی بیرونی دیوا ر کو طالبان کے سفید پرچم سے رنگ دیا گیا ہے۔ کابل میں واقع امریکا کےسفارتخانے کو دنیا کا سب سے بڑا امریکی سفارتخانہ قرار دیا جاتا تھا جو آج امریکا کی شکست کا نوحہ پڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ صحافیوں نے جوبائیڈن سے ویتنام سے امریکا کے انخلا کی ناپسندیدہ صورتحال کے تناظر میں بطور خاص سوال پوچھا تھا جس پر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکیوں کو کبھی سفارتخانے کی چھت سے بذریعہ ہیلی کاپٹر نہیں نکالا جائے گا، لیکن وقت نے برسوں بعد وہی نظارہ ایک مرتبہ پھر دکھا دیا جب عملے کو کابل سے امریکی سفارتخانے کی چھت سے ریسکیو کرنا پڑا۔
گزشتہ چار دہائیوں سے جنگ، خانہ جنگی اور غیرملکی تسلط کے شکار افغان عوام کی مشکلات کا طویل دور اختتام پذیر ہوا چاہتا ہے۔ طالبان کے زیراقتدار افغانستان کا حقیقی معنوں میںعروج شروع ہو رہا ہے۔ افغان عوام نے گزشتہ عرصے میں جتنے سخت اور مشکل حالات کا سامنا کیا ہے، اب اس سے کہیں زیادہ ترقی و خوشحالی ان کی منتظر ہے۔ افغانستان نہ صرف اندرونی استحکام سے ہمکنار ہوگا بلکہ معاشی طور پرمضبوط اقتصادی طاقت میں ڈھل جائے گا۔ ماضی کے برعکس طالبان کی حکومت تنہائی کا شکار نہیں ہوگی بلکہ افغانستان ایشو پر پاکستان، چین ، ایران اور روس باہمی طور پر قائدانہ کردار ادا کریں گے۔ سفارتی محاذ پر دنیا کے ہر ملک کی ترجیح افغانستان سے قریبی تعلقات استوار کرنا قرار پائے گی۔دوسری طرف سپرپاور امریکا کے ستارے گردش میں آچکے ہیں۔ امریکی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ صدر جوبائیڈن اپنی مدت صدارت مکمل کرتے نظر نہیں آرہے۔ افغانستان سے انخلا امریکا میں اندرونی طور پر سیاسی بے چینی کا باعث بنے گا۔ مستقبل قریب میں امریکا کے عالمی اتحادی بالخصوص بھارت بھی سخت مشکلات میں گھِرے نظر آتے ہیں۔ بھارت کی حالیہ بے چینی بھی اسی تنہائی کا منظر ہے۔