بھارت کا مکروہ چہرہ

237

پاکستان نے خطے میں بھارتی دہشت گردی اور اس کے جنگی جرائم کا پردہ چاک کر دیا ہے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وفاقی وزیرانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ بھارت داعش کے کیمپ چلا رہا ہے ۔ کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے ۔ کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال میں ملوث ہے جبکہ جبری گمشدگیوں اور جھوٹے جنگی آپریشن کر رہا ہے ۔ ان وزراء نے کہا ہے کہ ہم نے ان جرائم سے متعلق شواہد پر مشتمل ڈوزئیر تیار کر لیے اور بھارت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے ۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا سختی سے نوٹس لے کر تحقیقات کرنی چاہیے ۔ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ڈوزئیر میں بھارت کا دہشت گرد چہرہ صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔ ان ڈوزیئرز کے 3باب ہیں، یہ 131صفحات پر مشتمل ہے ۔ پہلے میں جنگی جرائم ، دوسرے میں فالس فلیگ آپریشن اور تیسرے میں سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کا ذکر ہے ۔ ان ڈوزیئرز کے مستنداور غیر جانبدار ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ ان میں موجود113حوالوں میں سے صرف14 پاکستان کے ہیں جبکہ26 بین الاقوامی میڈیا سے اور41خود بھارتی تھنک ٹینکس کے ہیں ۔ جبکہ دیگر ذرائع سے بھی بھارتی دہشت گردی کی تصدیق ہو گئی ہے ۔ ان میںبھارت کے جنگی جرائم کے3232واقعات میں ملوث ہونے کے ثبوت ہیں جبکہ بھارتی فوج کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں جو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث تھے ۔ ان میں میجر جنرل بریگیڈیئر اور دیگر سینئر افسران شامل ہیں۔ ان شواہد میں خواتین کی بے حرمتی کے ثبوت بھی ہیں جبکہ بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی جلائی جانے والی املاک کی تفصیل کے مطابق ایسی املاک کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ وزیر خارجہ نے یورپی ممالک کے دوہرے معیار کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بالکل خاموش ہیں ۔ یہ وہ ممالک ہیں جو دنیا میں کسی ایک فرد کے خلاف کسی سرکاری اقدام پر آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں ، مسلمان ممالک میں قادیانیوں اور توہین رسالت کرنے والوں کے تحفظ کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن کشمیر میں لاکھوں لوگوں کو 2سال سے زیادہ عرصے سے لاک ڈائون کر رکھا ہے ۔ ہزاروں کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے اور حریت رہنما سید علی گیلانی کی میت کی جبری تدفین کر کے میت کی توہین بھی کی ہے اور ان کی زندگی اور موت کے بعد بھی ان کو حقوق سے محروم کیا گیا ہے ۔ کشمیر جیسا ایک واقعہ کسی مسلمان ملک میں پیش آجائے تو یہ یورپی ممالک ایسے بے چین ہو جاتے ہیں جیسے ان کے کسی بچے کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو ۔ ان کو تواسرائیل ، میانمر اور چین کے ایغور مسلمانوں پر مظالم ہی نظر نہیں آتے ۔ اگر دنیا کے کسی ملک میں ایک سو افراد کی اجتماعی قبر د ریافت ہو تو شور مچ جاتا ہے لیکن بھارت میں8ہزار سے زیادہ اجتماعی قبریں دریافت ہو گئیں اور دنیا کو سانپ سونگھا ہوا ہے ۔ ان میں سے15قبروں میں دو دو افراد اور23قبروں میں سترہ سترہ افراد کی لاشیں موجود تھیں ۔ بوسنیا کے تنازع کے دوران اجتماعی قبروں کے انکشاف اوران پر افسوس و تشویش یورپ کا فیشن تھا ۔ اور آج کل دہشت گردی اور داعش اس کا فیشن ہے لیکن حیرت ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں داعش کا ایک دہشت گرد موجود ہونے کی اطلاع پر بھی یہ ممالک تڑپ اُٹھتے ہیں اس ملک کو داعش کی جنت اور دہشت گردوں کا سر پرست قرار دینے لگتے ہیں لیکن بھارت داعش کے5 کیمپ چلا رہا ہے اس پر ان ممالک کو سانپ سونگھ گیا ہے ۔ شاید وہ داعش سے خوفزدہ ہیں یا یہ سارے کام بھارت ان کی مرضی سے کر رہا ہے ۔کم از کم ان الزامات اور ثبوتوں پر تحقیق کرنا تو ان عالمی اداروں کی ذمے داری ہے ۔ کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے نام پر امریکا عراق پر چڑھ دوڑا ، تباہی پھیلائی اور ایک بھی کیمیاوی ہتھیار برآمد نہ ہوا اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا ثبوت بھی ہے ۔ پاکستانی حکومت نے بھارت کے خلاف لگنے والے الزامات اور بھارتی جرائم کو منظم اور بہترین انداز میں مربوط کیا ہے اور یہ ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے جائیں گے ۔ لیکن کیسے…یہ کام محض تین وزراء یا چند بیورو کریٹس کا نہیں ہے اس کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ کی قوت درکار ہو گی ۔ اپوزیشن اور حکومت کو ایک صف میں کھڑا کر کے ان کی قوت کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔پھر بین الاقوامی سطح پر منظم مہم چلانی ہو گی ۔ پارلیمنٹ کو بھی اس معاملے میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ یورپی یونین کے اہم ممالک تک بہترین اور مدلل گفتگو کرنے والے افراد کو بھیجنے کی ضرورت ہے ۔ سلامتی کونسل یا اقوام متحدہ اور دیگر اداروں تک پہنچنے سے قبل بین الاقوامی سطح پر بھارت کی چیرہ دستیوں کے خلاف فضا ساز گار کرنی ہو گی ۔ پھر جا کر پاکستان کی مہم کا کوئی اثر ہو گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکمرانوں کو اپنے ملک کی خبر بھی لینی ہو گی ۔ اپنی ناک کے نیچے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاںحکمرانوں ،وی آئی پیز اوربڑے سرداروں وڈیروں کی غنڈہ گردیوں ان کی نجی جیلوں ، خواتین اور غریب ہاریوں کے ساتھ ان کے مظالم کو بھی کنٹرول کرنا ہو گا ۔ حکومت کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لوگوں کے لا پتا ہونے کا سلسلہ بھی روکنے کی ضرورت ہے تاکہ جب دنیا میں بھارت کے خلاف ثبوت لے کر نکلیں تو پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہو۔