طالبان حکومت پاکستان کی شکر گزار

254

کابل: طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کا کہنا ہے کہ امریکا ایک بڑا ملک اور اسے بڑے ظرف کا بھی مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ پاکستان سمیت انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امداد کرنے والے دیگر ممالک کے شکر گزار ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پریس کانفرنس میں دنیا پر امداد کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری امداد کو سیاست کی نذر نہ کرے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ نے ایک ارب ڈالر کی امداد پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مالی امداد کو مستحق افراد تک شفاف انداز میں پہنچانے کا انتظام کریں گے۔

وزیر خارجہ امیر خان متقی نے مزید کہا کہ امریکا ایک بڑا ملک اور اسے بڑے ظرف کا بھی مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ پاکستان سمیت انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امداد کرنے والے دیگر ممالک کے شکر گزار ہیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دنیا ہمارے سامنے شرائط نہ رکھے ہم اپنی مرضی کی حکومت بنائیں گے۔ جہاں نیا نظام آتا ہے وہاں اپنے اعتماد کے لوگوں کو ہی حکومت میں لایا جاتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس لیے عالمی برادری حکومت سازی پر بے جا شرائط عائد نہ کرے، طالبان افغانستان کے حکمران ہیں، اس حقیقت کو سب تسلیم کرلیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور پچھلے ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ملک میں روزگار کی فراہمی کے لیے تاجروں سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کریں اور دکانیں کھولیں۔انہوں نے اپیل کی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں جبکہ ڈونرممالک سے بھی درخواست ہے کہ افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں۔وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں نامکمل پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے فنڈز بحال کیے جائیں۔

امیر خان متقی کا کہنا تھاکہ مطلوبہ دستاویز رکھنے والے افغان شہریوں کوبیرون ملک سفرکی اجازت ہوگی، ہم تمام افغان عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے ۔ان کا کہنا تھاکہ ہم چاہتے ہیں دوسرے ممالک افغانستان پر دبا نہ ڈالیں، دبا سے افغانستان کو فائدہ ہوگا اور نہ ان ممالک کو جبکہ سب ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

عالمی برادری کے حوالے سے عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ طالبان نے امریکا سمیت غیرملکیوں کے کابل سے انخلا میں بھرپور تعاون کیا لیکن طالبان کی تعریف کے بجائے امریکا نے ہمارے قومی اثاثے منجمد کرکے مشکلات پیدا کیں، امریکا سمیت عالمی برادری کو معلوم ہوناچاہییکہ انتشارکی پالیسی کارگر نہیں ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ طالبان افغانستان کے حکمران ہیں اور اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے۔امیر متقی کا کہنا تھاکہ افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق منفی اور تعصب پرمبنی پالیسیوں کاخاتمہ ہوناچاہیے۔

جنیوا کانفرنس سے متعلق افغان عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جنیواعالمی کانفرنس میں مدد کا اعلان کرنے والے ملکوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ امداد کا اعلان کرنے والے ممالک کی فراہم کردہ رقم افغان بینک سے مستحقین تک پہنچائی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ صحت، تعلیم اور شہروں میں انفراسٹرکچر میں مدد کی ضرورت ہے لہذا امید ہے کہ عالمی برادری افغانستان کو امداد سیاسی عزائم ومقاصد سے مشروط نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھاکہ جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے ہیں، انہیں چاہیے مکمل کریں۔