زیادہ فراغت انسانی فلاح و بہبود کیلئے نقصاندہ، جدید تحقیق

265

بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی مصروفیات کی فہرست بہت لمپبی ہے لیکن ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بہت زیادہ فراغت بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

ریسرچ کی ایک سیریز میں محققین نے پایا کہ یا تو بہت کم یا بہت زیادہ فارغ وقت لوگوں کی فلاح و بہبود ختم کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مسلسل فارغ وقت کا دباؤ اور اس سے جو ذہنی تناؤ پیدا ہوتا ہے، وہ متاثرہ شخص کی فلاح و بہبود پر اثر ڈال سکتا ہے۔

فلاڈیلفیا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں مارکیٹنگ کی اسسٹنٹ پروفیسر ماریسا شریف کے مطابق ضرورت سے زیادہ فارغ وقت فلاح و بہبود کے احساس تک کو کم کر سکتا ہے کیونکہ اُس شخص کو لگتا ہے کہ وہ کارآمد یا اس کی زندگی نتیجہ خیز نہیں ہے۔

شریف نے کہا کہ مصروفیت آج کے معاشرے میں ایک “اسٹیٹس سمبل” بن گئی ہے،  یہ اس بات کی علامت ہے کہ ایک شخص اہم ہے۔