تشنج: زنگ شدہ لوہے کے جراثیم، احتیاطی تدابیر

307

تشنج اُن جراثیم کو کہا جاتا ہے جو زنگ شدہ لوہے یا زنگ شدہ کیل وغیرہ میں ہوتے ہیں۔

زنگ شدہ لوہے اور کیل وغیرہ سے اگر جسم کے کسی حصے میں معمولی سا بھی زخؐ ہوجائے تو یہ جراثیم زنگ میں سے خون کے ذریعے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں اور آخرکار تشنج کا باعث بنتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے زخم کی پرواہ نہیں کی جاتی جو کہ عمر کے کسی بھی حصے میں تشنج کا سبب بن سکتے ہیں۔

احتیاط:

اگر کسی بھی زنگ شدہ کیل پتری، لوہے سے جسم پر کہیں زخم ہوجائے تو فوراً اس جگہ کو دبا کر خون کی کچھ مقدار نکال دینی چاہیے اور پھر کسی معقول ڈاکٹر یا ہسپتال سے Tetanus کا انجیکشن لگوانا چاہیے۔

اینٹی ٹیٹنس کے انجیکشن کا فائدہ یہ ہے کہ عمر کے کسی بھی حصے میں تشنج ہونے کا امکان باقی نہیں رہے گا۔ یہ انجیکشن لگاتے وقت ڈاکٹر چیک کرلیتے ہیں کہ آیا اس انجیکشن کی مریض کو ضرورت ہے یا نہیں۔

ہر بچے کو بچپن میں تمام احتیاطی ٹیکوں کا کورس پورا کروالیا جائے۔ اگر بعد میں کوئی ایسا خدشہ ہو تو احتیاطاً تیٹنس کا ایک ٹیکہ لگوالیں، یہ ٹیکہ بغیر کسی خطرے کے ہر ایک کو لگایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ جسم میں پہلے سے موجود قوت مدافعت کو تیز کردیتا ہے۔