گداگری ضرورت، پیشہ یا پھر۔۔۔ صنعت

112

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نبی مکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے سوال کیا۔ آپؐ نے اس سے فرمایا، کیا تمہارے پاس گھر میں کچھ ہے۔ اس نے کہا کیوں نہیں۔ ایک چادر ہے جس کا کچھ حصہ ہم بچھاتے ہیں اور کچھ حصہ ہم اوڑھتے ہیں، اور ایک پیالہ ہے جس میں پانی پیتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ دونوں چیزیں لے کر میرے پاس آئو، تو وہ انصاری دونوں چیزیں لے آیا۔ آپؐ نے دونوں چیزوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور صحابہ کرام سے پوچھا کون ان چیزوں کو خریدے گا۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ میں یہ چیزیں ایک درہم میں خرید لوں گا۔ آپؐ نے صحابہ سے پوچھا کون ان چیزوں کو اس سے زیادہ میں خریدے گا۔ آپؐ نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی تو ایک صحابی نے عرض کیا کہ میں یہ دونوں چیزیں دو درہم میں خرید لوں گا۔ آپؐ نے وہ چیزیں اس صحابہ کو دے کر دو درہم لیے اور اس انصاری صحابی کو دے دیے، اور فرمایا کہ ان میں سے ایک درہم سے کھانا خرید کر اپنے گھر لے جا اور دوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آ۔ اس انصاری صحابی نے ایسا ہی کیا۔ آپؐ نے وہ کلہاڑی لے کر اپنے دست مبارک سے اس میں ایک لکڑی کا دستہ لگایا اور فرمایا جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹ کر بیچ اور پندرہ دن تک نظر نہیں آنا۔ پس وہ انصاری صحابی محنت پر لگ گیا اور لکڑیاں کاٹ کر بیچنے لگا۔ جب وہ دوبارہ اللہ کے نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ کئی درہم حاصل کرچکا تھا۔ آپؐ نے فرمایا، اس میں سے کچھ درہم سے کھانا خرید لے اور کچھ سے اپنے گھر والوں کے لیے کپڑے خرید لے۔ آپؐ نے فرمایا، یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تو دست سوال دراز کرے اور قیامت کے دن جب تو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیرے چہرے پر بھیک کا نشان واضح ہو۔ (ابن ماجہ)
ہم اپنے بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ حکومتیں گداگری کو ختم کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ آئے دن شہر بھر سے گداگروں کو پکڑ کر ٹرکوں میں بھر بھر کر لے جا کر سلاخوں کے پیچھے ڈالا جاتا ہے۔ لیکن چند ہی گھنٹوں یا چند دنوں میں انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ پھر سے اپنے دھندے میں جُت جاتے ہیں۔ اور زیادہ تندہی سے اپنی روزی (بھیک مانگنے) کمانے میں مصروف ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنا نقصان جو دو طرح سے ہوا ہوتا ہے پورا کرنا ہوتا ہے۔ کیا اس طرح گداگری جیسے مذموم کام کو ختم کیا جاسکتا ہے، نہیں بالکل نہیں۔ بلکہ اس سے تو گداگری کے پیشے کو اور مہمیز ملتی ہے۔ یہ تو ان فقیروں کی بات ہے جو سڑکوں پر، مساجد
کے سامنے اور پارکوں وغیرہ میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی اتنے مالدار ہوتے ہیں کہ عام آدمی تصور نہیں کرسکتا۔ چند سال قبل اخبارات میں شائع شدہ خبر کے مطابق صدر کے علاقے میں ایک کمرے کی چھوٹی سی کھولی میں ایک بوڑھا فقیر مردہ پایا گیا۔ اس کی لاش سے تعفن اُٹھ رہا تھا۔ جب پولیس نے اس کھولی کی تلاشی لی تو وہاں پر نوٹوں سے بھری ہوئی بوری پائی گئی۔ ذرا غور کریں ایک اکیلا فرد لوگوں سے مانگ مانگ کر بوری بھرتا ہے، لیکن یہ دولت اس کے کس کام آئی۔ ہم نے فقیروں کی ایک جھونپڑا بستی کا سروے کیا تو ہمیں وہاں ان جھونپڑیوں میں تعیشات کا ایسا سامان نظر آیا جو ایک عام متوسط فرد کی پہنچ سے دور ہے۔ بعد میں اس بستی کو ختم کردیا گیا اور وہ گداگر کہاں نقل مکانی کرگئے کوئی نہیں جانتا۔ ان ہی فقیروں کی ایک قسم وہ ہوتی ہے جو آبائی گداگر ہوتے ہیں، جن کے آبائو اجداد نسل در نسل اس پیشہ سے وابستہ رہے ہیں۔ یہ اپنے بچوں کی شادیاں بھی گداگر گھرانوں میں ہی کرتے ہیں اور اپنے اس کام پر فخر بھی کرتے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت سے مالا مال ہیں، دولت سے لے کر صحت و تندرستی تک ہر شے سے بہرہ مند ہیں تو پھر گداگری کو چھوڑ کر کوئی اچھا کام کرکے باعزت زندگی کیوں نہیں گزارتے۔ تو ان کا جواب تھا اگر ہم اچھا کام کریں کوئی کاروبار کریں تو اس میں نفع کے ساتھ ہی نقصان کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ پھر ہم اس میں کتنا کما لیں گے۔ نہیں بھائی نہیں، ہمارا یہ دھندہ ہی اچھا ہے اس میں کسی قسم کے کسی نقصان کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔ پھر بچے سے لے کر بوڑھے، مرد و عورت سب ہی کماتے ہیں بلکہ بچے اور عورتیں زیادہ کماتی ہیں۔ ہم اپنا کاروبار نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ ایک خاتون ڈیفنس میں مختلف مساجد کے سامنے کھڑی ہو کر بھیک مانگتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ جبکہ ان خاتون کی قیوم آباد میں چار منزلہ بلڈنگ ہے جس کی وہ خود مالکہ ہیں۔ اسی طرح ایک صاحب کار میں آتے ہیں اپنی گاڑی ایک طرف کھڑی کرکے ڈیفنس کی مساجد کے سامنے کھڑے ہو کر بھیک مانگتے ہیں۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں مختلف دن مقرر کیے ہوئے ہیں۔ گداگروں کی ایک اور قسم ہے جو انتہائی درد ناک پہلو رکھتی ہے۔ یہ وہ بھکاری ہیں جن کو اغواء کرکے ہاتھ پائوں توڑ کر معذور بنا کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان گداگروں کی باقاعدہ خریدوفروخت ہوتی ہے۔ ایک قسم ان مانگنے والوں کی ہے جو خود اپنے جسم کے مختلف اعضاء کو مضروب کرکے ان کی نمائش کے ذریعے سے بھیک مانگتے ہیں۔ ہم نے ایک فقیر کو دیکھا اس کا ایک ہاتھ نہیں ہے، خالی آستین جھول رہی ہے۔ کسی نے ہمیں بتایا اس کا دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر بندھا ہوا ہے۔ ہم نے اس فقیر سے پوچھا جب تمہارا دوسرا ہاتھ موجود ہے صحیح سلامت ہے تو پھر یہ کیا کررہے ہو۔ تو اس نے کہا میاں بھیک دینی ہے تو دو، ورنہ میرا دھندہ خراب نہ کرو۔ ہمارے ایک کمپائونڈر دوست نے ایک عجیب و شرمناک واقعہ سنایا کہ ان کے پاس ایک صاحب آئے اور ہمارے کمپائونڈر دوست سے کہا کہ میرے گردوں کی جگہ پر کٹ لگا کر سلائی کردو۔ ایسا معلوم ہو کہ میرا ایک گردہ نہیں ہے۔ ہمارے دوست نے ان سے سوال کیا کہ تم ایسا کیوں کرنا چاہتے ہو تو ان صاحب نے جواب دیا کہ اس طرح لوگوں کو زیادہ ترس آتا ہے۔ بہرحال ہمارے دوست نے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر بھگا دیا۔ گداگروں کی ایک اور قسم سفید پوش بھکاریوں کی ہے۔ یہ لوگ ذرا بہتر انداز میں صاف ستھرے لباس میں ملبوس ہو کر آسودہ حال لوگوں کے سامنے اپنا دکھڑا روتے ہیں۔ اپنے مسائل بیان کرتے ہیں، پھر اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے امداد کی درخواست کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے والد، والدہ، بھائی، بہن حتیٰ کہ اپنے بیوی اور بچوں کو کسی نہ کسی انتہائی موذی مرض میں مبتلا ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی زندگی و موت کی ایسی بھیانک تصویر کشی کرتے ہیں کہ لوگ انہیں کچھ نہ کچھ دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کی مسجد میں ایسے ہی ایک خوش لباس شخص سے ملاقات ہوئی۔ جو بہت زیادہ افسردہ اور غمگین نظر آرہے تھے، وجہ پوچھنے پر ان صاحب نے بتایا کہ میری بیوی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے۔ وہ زندگی و موت کی کشمکش سے دوچار ہے۔ اس کا علاج بہت مہنگا ہے۔ میں غریب آدمی یہ خرچہ برداشت نہیں کرسکتا اور بیوی کو مرتے ہوئے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اسی لیے پریشان ہوں۔ ہمارے دوست نے مشورہ دیا کہ اگر ایسی بات ہے تو ان کا علاج سرکاری اسپتال میں کرائو۔ وہ کہنے لگا وہاں تو بہت لمبی قطاریں ہوتی ہیں، میری بیوی اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ہمارے دوست نے انہیں ایک اسپتال کا پتہ بتایا اور کہا کہ وہاں پر فلاں لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے جائو، وہاں نہ تو بھیڑ ہوگی اور نہ ہی لمبی قطار، تم صرف یہ کرنا کہ ان لیڈی ڈاکٹر صاحب سے میری فون پر بات کرادینا۔ علاج کا تمام خرچہ میرے ذمہ ہے۔ یہ سن کر وہ صاحب چلے گئے۔ کچھ دنوں بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوگئی تو ان سے پوچھا کہ بھائی میں نے آپ کو ڈاکٹر سے ملنے کا مشورہ دیا تھا۔ آپ وہاں کیوں نہیں گئے۔ وہ صاحب کہنے لگے وہاں تو صرف علاج ہی ہوگا۔ دیگر اور معاملات بھی ہیں اور میری بیوی کا کہنا ہے کہ ان کا جہاں علاج ہورہا ہے بس وہیں سے علاج کرانا ہے۔ ہمارے دوست سمجھ گئے کہ یہ شخص کیا چاہتا ہے۔ آپ کو اس طرح کے بہت سے لوگ نظر آئیں گے جن کی آپ مخلصانہ طور پر مدد کرکے درست سمت رہنمائی کرکے انہیں مشکلات سے نکالنے کی کوشش کریں گے تو وہ خود اس پر آمادہ نہیں ہوں گے، کیونکہ اس طرح ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا۔ گداگروں کی ایک اور قسم ہے جو انتہائی شرمناک پہلو رکھتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مذہبی چولا پہن کر مذہب کے نام پر لوگوں سے وصولیابی کرتے ہیں۔ ان میں جعلی پیر جو جھوٹے سچے کے ذریعے دھوکا دہی کرکے کماتے ہیں اور اس میں کچھ لوگ مختلف مساجد کی جھوٹی رسید بکیں بنوا کر تعمیر مسجد کے نام پر بسوں، دکانوں، دفتروں اور مختلف علاقوں میں گھروں پر جا کر چندہ وصول کرتے ہیں۔ ان ہی میں کچھ عناصر جمعہ کے روز گھروں پر جاتے ہیں کہ فلاں مسجد تعمیر ہوئی ہے، نمازیوں کے وضو کے لیے پانی کا ٹینکر ڈلوانا ہے، فلاح مدرسہ میں طالب علموں کے لیے رہائشی اخراجات اور کھانے کے لیے راشن کی مد میں رقم کی ضرورت ہے۔ اب ہم آپ کو گداگروں کی ایک اور قسم سے متعارف کراتے ہیں جو اشرافیہ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ انتہائی خطرناک ہیں۔ یہ معاشرے میں بہت زیادہ عزت و وقار کے مالک اور بے حد معزز گردانے جاتے ہیں۔ یہ مختلف سرکاری، نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں اعلیٰ کرسیوں پر متمکن ہوتے ہیں۔ صاحب اختیار بھی ہوتے ہیں اور ابروئے چشم کے روادار بھی ہوتے ہیں۔ جب کوئی پریشان حال اپنی کسی مشکل کے حل کے لیے ان کے پاس جاتا ہے۔ وہ اس کی قیمت طلب کرتے ہیں۔ جیسا کام ویسی ہی مانگ۔ جتنا بڑا معزز اتنا ہی بڑا…
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری