پاکستان کے 6 پراسرار ترین مقامات

536

1) شہرِ روغان (بیلا)

اس جگہ کو جنوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں موجود پہاڑوں میں بےشمار غار بنے ہوئے ہیں۔ یہ غار کس نے بنائے اس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غار 1300 سال قبل بنائے گئے تھے۔ ان غاروں میں 1500 کمرے بھی بنے ہوئے ملے ہیں جن میں کھڑکیاں بھی لگی ہیں۔ ان پہاڑوں کے حوالے سے ایک قصہ مشہور ہے کہ اس شہر کا ایک بادشاہ تھا جس کی بیٹی پر جن حاوی ہوگیا تھا اور پھر ایک شہزادے نے اس شہزادی کو جن سے چھٹکارا دلایا تھا۔ اسی وقت سے جنات نے اس شہر میں بسیرا شروع کیا اور ان غاروں میں اب جنات بستے ہیں۔

2) پیر منگھو (منگھو پیر)

منگھو پیر کراچی کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس علاقے میں پیر خواجہ حسن سخی سلطان جن کو پیر منگھو بھی کہا جاتا ہے، کا مزار ہے جسکے احاطے میں انتہائی حیرت انگیز تالاب موجود ہے جس میں درجنوں مگرمچھ رہتے ہیں۔ مزار میں رہنے والے لوگ ان کے درمیان میں جاکر انہیں کھانا کھلاتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر آج تک کسی مگر مچھ نے ان کو یا کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچایا۔ کہا جاتا ہے کہ 13ویں صدی میں خواجہ حسن سخی سلطان عراق سے ہجرت کرکے اس جگہ پہنچے اور اسی تالاب کے پاس رہائش اختیار کی۔ مگرمچھ کہاں سے آئے اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ مگرمچھ یہاں پہلے سے ہی موجود تھے۔ اور پیر منگھو ان کے درمیان جاکر انہیں کھانا کھلاتے تھے۔ تاہم لوگوں میں واقعہ مشہور ہے کہ یہ پہلے جوئیں ہوا کرتی تھیں جنہیں خواجہ حسن سخی نے اپنی کرامت سے مگرمچھ میں تبدیل کردیا تھا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے یہ مگر مچھ ہزاروں سال سے یہیں ہیں۔ قدیم زمانے میں یہاں سیلاب آیا تھا جسکی وجہ سے یہ تالاب وجود میں آیا، مگر مچھ سیلاب میں بہہ کر یہاں پہنچے تھے۔؎

3) چوکنڈی قبرستان

یہ قبرستان کراچی سے تقریباً 29 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسے 15ویں صدی سے 18ویں صدی کے درمیان بنایا گیا تھا۔ اسے سندھ کا سب سے زیادہ آسیب زدہ مقام سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت قبریں گرم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور چیخوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ یہاں رات کو سفر کرنے سے بھی عام طور پر منع کیا جاتا ہے۔

4) جھیل سیف الملوک

مقامِ سیاحت اور خوبصورتی سے قطع نظر اس جھیل کے حوالے سے ایک عجیب و غریب کہانی بھی مشہور ہے اور وہ یہ ہے کہ مصر کے شہزادے سیف الملوک کو خواب میں ایک رات پری نظر آئی جس کا نام بدی الجمال تھا۔ یہ شہزادہ اس پری کی تلاش میں پوری دنیا میں 6 سال تک بھٹکتا رہا، آخرکار ایک بزرگ نے اسے اس جگہ کا بتایا۔ شہزادہ یہاں آیا اور اس نے 40 دن کا چلہ کاٹا اور پھر 14ویں کی رات کو پری بدی الجمال اس جھیل سے ظاہر ہوئی۔ اس جھیل کا نام اسی شہزادے کے نام پر رکھا گیا ہے۔

5) ‘پرنسس آف ہوپ’

بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے کے بیچ و بیچ پہاڑی چٹان کسی عورت کی طرح لگتی ہے جو گاؤن پہنے کھڑی ہو۔ اسی جگہ پر ایک اور پہاڑی چٹان ہے جو بالکل فرعونِ مصر کے زمانے کا انسان نما شیر کے مجسمے کی طرح لگتا ہے۔ یہ دونوں مجسمے کیسے بنے اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ پہاڑی چٹان کو یہ شکل قدرت نے دی ہے یعنی ہواؤں کے دباؤ سے، دوسری جانب اس کی تاریخ 750 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے دونوں مجسمے وہ بھی انسانی شکل کے آخر یہیں پر کیسے اور کیوں وجود میں آئے؟۔

6) شیخو پورہ قلعہ

شیخو پورہ شہر کو پہلے جہانگیر پورہ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ یہاں مغل بادشاہ اورنگزیب قیام کیا کرتا تھا۔ شیخو پورہ قلعہ جہانگیر کے زمانے میں ہی بنایا گیا تھا مگر بعد میں پھر یہاں سکھوں کی حکومت قائم ہوگئی اور پھر بعد میں انگریزوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس قلعے کے اندر ایک حویلی بھی موجود ہے۔ اس 6 منزلہ حویلی کے اندر بغیر اجازت جانا ممنوع ہے۔ اس حویلی سے متعلق مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس حویلی میں اور آس پاس انہوں نے بوڑھی عورتوں کو دیکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ درمیان میں اس قلعے کو ازسرِ نو تعمیر کرنے کا کام شروع ہوا تھا لیکن مزدوروں کے ساتھ کچھ عجیب و غریب واقعات پیش آئے جس کے بعد اس منصوبے کو ادھورا چھوڑ دیا گیا۔