پاکستان کشمیر بھی طالبان کے حوالے کر دے

332

چند دن قبل سید علی گیلانی کے انتقال کے بعد طالبان نے دنیا کو دو ٹوک پیغام دیا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہوگا وہاں طالبان مظلوموں مسلمان کی صرف اخلاقی نہیں دامے درمے سخنے ہر طرح کی مدد کر یں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے سابق سفیر عبد الباسط سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی پاکستان کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی آئی ہے جس کا عالمی برادری پر مثبت اثر نظر آ رہا ہے تو انہوں نے اس کو بھارتی لابینگ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’میں سرے سے اس موقف کو بے کار اور بے مقصد سمجھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کشمیریوں کی اپنی تحریک آزادی کو زائل کرنے کی ایک اور بھارتی سازش ہے جس پر پاکستان عمل کر رہا ہے۔ کشمیر کی سفارت کاری میں ہماری ناکامی کی وجہ ہمارا خوف اور مستحکم پالیسی کا فقدان رہا ہے کہ ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے کیا کر سکتے ہیں اور کیا کر رہے ہیں، حد سے زیادہ اور غیر ضروری بیان بازی یا انفرادی واقعات کو بڑا بنا کر پیش کرنے کو سفارت کاری کی ناکامی کہا جاتا ہے۔ سفارت کاری ایک مسلسل عمل ہے نہ کہ ایک واقعہ کا ذکر بار بار کیا جائے۔
سید علی گیلانی کی موت کے بعد جو کچھ ہوا اس پر پوری دنیا خاموش ہے یہ پاکستان کی سفارتی ناکامی کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ پاکستان نے 1990ء میں مغربی ملکوں میں کشمیر سے متعلق جو بعض اہم ادارے قائم کر دیے تھے جن کی نہ صرف اب مالی امداد روک دی گئی ہے بلکہ بیش تر کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ چند برسوں سے پاکستان نے اپنی کشمیر پالیسی کو ایک نئی سمت دی ہے جس کے بارے پاکستان کا کہنا تھا کہ سفارتی سطح پر عالمی برادری کو اپنے موقف سے آگاہ کرنا، کشمیر میں بھارتی جارحیت کے شواہد اور ثبوت پیش کرنا اور کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کی حمایت کے لیے معتبر ماہرین سیاسیات کی خدمات حاصل کرنا شامل ہے۔ لیکن اب تک کیا حاصل ہو سکا ہے۔
9/11 کے بعد دہشت گردی کے الزامات سے بچنے کے لیے پاکستان نے مسلح تحریک کی حمایت بند کر دی تھی، لیکن اس سب کے باوجود مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پاکستانی پیش کش کا بھارت نے ابھی تک مثبت جواب نہیں دیا ہے حالانکہ شملہ معاہدے کے تحت بھارت نے بات چیت سے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ سید علی گیلانی کشمیر کا وہ پاکستانی تھے جسے مجاہد ِ لاثانی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ہاں کشمیر کا پاکستانی، وہ عظیم حریت لیڈر جس نے بندوقوں کی نوک پر اور ڈنکے کی چوٹ پر ’ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘ کا نعرہ اپنی زندگی کا استعارہ بنایا اور ایک عظیم مجاہد کی حیثیت سے اپنی جان مال سب کچھ کشمیر پر نچھاور کردیا اور ذرا برابر تردد نہ کیا۔ سید علی گیلانی کشمیر میں پاکستان کی آواز تھے، جس نے اپنی زندگی کے آخری 12 سال بدترین علالت کی حالت میں سفاک دْشمن کی اسیری میں گزار دیے۔ انہوں نے آخری چند ماہ سخت علالت میں گزارے، ایسے وقت میں جب انہیں انتہائی نگہداشت کی ضرورت تھی بھارتی سرکار نے انہیں جبراً نظر بند کیے رکھا۔ اسی لیے گیلانی صاحب کی وفات کو بھی قتل اور اس کا ذمے دار بھارتی سرکار کو قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جان بوجھ کر انہیں طبی سہولتوں سے دور رکھا گیا۔
سید علی گیلانی مرحوم ہی کی بدولت آج ایسے وقت میں جب بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے جذبہ حریت اور فکرِ حریت پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریک گزشتہ 70 برسوں سے جاری ہے جس نے 90 کی دہائی میں مسلح تحریک کا رخ اختیار کیا۔ بھارت نے پاکستان پر کشمیری نوجوانوں کو اسلحہ اور تربیت دینے کا الزام عائد کیا جبکہ لبریشن فرنٹ کے قائد محمد یاسین ملک سمیت بیش تر کشمیری جنگجوؤں نے ازخود مسلح تحریک شروع کرنے کا کئی بار اعتراف کیا ہے۔
پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں کسی حد تک بار آور ثابت ہو رہی ہیں اور کئی مغربی ممالک پاکستانی موقف کی تائید کرنے لگے ہیں حالانکہ یہ ممالک پہلے بھارت کی کشمیر پالیسی کے حامی رہے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ اس سے آزادی بھی ممکن ہوسکے مکمل طور سے غلط ہے۔ دنیا کے سو سے زائد ممالک پانچ اگست 2019 کے کشمیر کی اندرونی خودمختاری ہٹانے کے بھارتی فیصلے پر تنقید کرتے رہے اور ان کہنا ہے کہ ’بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹا کر اپنے آئین اور اپنی جمہوریت کا گلہ گھونٹا ہے جس کو کسی بھی عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے مگر مودی کے دور میں بھارتی عدلیہ کی روح بھی مجروح دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن دنیا کے اکثر بھارت کے حامی نظر آرہے ہیں۔ بھارت کے بارے دنیا کے اکثر ممالک کا کہنا ہے کہ بھارت میں کسانوں کی حالت زار، مذہبی جنونیت ابھارنے اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی شدید پامالیوں پر بھارتی رویے پر تشویشناک حد تک خراب ہے لیکن پاکستان کی طرح بھارت سے قریبی تعلقات بھی جاری ہیں۔ اس لیے اب ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان کشمیر کی آزادی کا کام ’’طالبان کے حوالے کر دے‘‘۔