طالبان کو درپیش بڑے چیلنجز اور سفارتکاری

210

ہمارے پڑوس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات میں پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ طالبان نے امریکا کو افغانستان خالی کرنے کے لیے اگست ۳۱ کی ڈیڈ لائن تھی، امریکا نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی افغانستان سے اپنی فوج نکال لی۔ جیسے ویتنام کی جنگ کے بعد لوہے کی سیڑھی جو آج بھی امریکا میں موجود ہے، وہ امریکی شکست کا حوالہ رہے گی، بالکل اسی طرح یہ تصویر بھی امریکی شکست کا حوالہ رہے گی جس میں میجر جنرل کرسٹوفر ڈوناہو امریکی طیارے میں سوار ہو رہا تھا اور وہ آخری طیارہ افغانستان سے باہر جا رہا تھا۔ امریکی بڑی تعداد میں اپنا ساز و سامان چھوڑ کر بھاگے ہیں۔ طالبان کے لیے موجودہ صورت حال میں تین بڑے چیلنجز ہیں، جن میں سے ایک دنیا کو خواتین حقوق کے بارے میں مطمئن کرنا، دوسرا چیلنج افغان معیشت اور تیسرا سب سے بڑا چیلنج اس وقت داعش ہے۔
خواتین کے حقوق کے بارے میں دنیا بالخصوص امریکا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ جن امور کو معیار تسلیم کرتا ہے، انہیں افغان معاشرہ معیار تسلیم نہیں کرتا ہے۔ صرف امریکا میں ہر سال ۵ لاکھ سے زائد خواتین کا بے دردی سے ریپ کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ امریکی انڈر ورلڈ مافیا ہر سال تقریباً ۷۰ ہزار لڑکیوں کو ایشیا، افریقا کے غریب ممالک سے اغوا کر کے امریکا لاتا ہے اور انہیں قحبہ خانوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ امریکا میں سالانہ ۱ کروڑ سے زائد خواتین کو ’’ڈومیسٹک وائلنس‘‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اعداد شمار تو اور بہت سی چیزوں کے ذرائع ابلاغ پر بھرے پڑے ہیں، تاہم مختصراً عرض ہے کہ امریکا کو خود اپنے معاشرے کی فکر کرنی چاہیے۔ افغان معاشرے کی اپنی اقدار ہیں، یہ اُن کا حق ہے کہ وہ اپنی روایات کو کیسے لے کر چلتے ہیں۔ امریکا کو گلوبل پولیس مین بننے کا قطعاً کوئی اختیار نہیں ہے۔
بے گناہ پاکستانی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی قید میں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بدترین تشدد کی وجہ سے اُن کے ذہن کی حالت خراب ہو چکی ہے اور ابھی حال ہی میں جیل میں عافیہ صدیقی پر ایک قیدی نے حملہ کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گئی تھیں۔ یہ حملہ عین اس وقت میں ہوا تھا جب امریکی افواج انخلا کے مراحل میں تھیں تو گویا ہم کہ سکتے ہیں کہ امریکی معاشرے میں نفرت اس حد تک پروان چڑھ چکی ہے جس میں کہ اپنی بدترین شکست کو قبول کرنے کے بجائے انہوں نے جیل میں قید، بدترین تشدد کے باعث ذہنی طور پر تقریباً مفلوج اور نہتی عورت پر حملہ کر کے اپنا غصہ نکالا۔
دوسری جانب برطانوی صحافی یووان رِڈلے تھی، جسے طالبان نے قید کیا۔ ۱۱ روز بعد ان کو رِہا کیا اور حسن سلوک ایسا تھا کہ یووان نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اسلام کو پڑھا اور مسلمان ہوگئی۔ یووان رِڈلے قبول اسلام کی مکمل روداد مختلف انٹرویوز میں سنا چکی ہیں، وہ اپنی کتاب میں بھی یہ سب کچھ لکھ چکی ہیں۔ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو ان کے ذہن میں وہ تمام مغربی پراپیگنڈہ اپنی جگہ بنا چکا تھا، جس کے مطابق طالبان وحشی درندے تھے، لیکن بعد کے واقعات اور حالات، جو یووان رِڈلے نے خود دیکھے، نے طالبان کا سارا تاثر بدل دیا۔ وہ (طالبان) یووان کی جانب عزت اور احترام کے باعث دیکھتے تک نہیں تھے اور یہ اس مغربی عورت کے لیے حیرانگی کی بات تھی، جس کے معاشرے میں عورت کو آنکھوں سے پورا سکین کر کے پاتال میں پہنچایا جاتا ہے۔ یووان غصہ کرتی تھی، تو بھی ان کا ردعمل مہذب ہوتا تھا۔ خود یووان کے مطابق مجھے کسی نے نہیں چھوا، کسی نے مجھے غلط لمس نہیں دیا۔ یہ ان کا برتاؤ ہی تھا جس نے یووان کو اسلام کی جانب سفر کرنے پر مجبور کیا اور پھر وہ نہ صرف مسلمان ہوئی بلکہ طالبان کے بارے میں جھوٹی کہانیوں اور پراپیگنڈے کے مقابلے میں ایک توانا آواز بن کر سامنے آئیں۔ جس عافیہ صدیقی کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، اس کو کھوج نکالنے کا سہرا بھی یووان ہی کے سر ہے۔
آپ عافیہ صدیقی کی مثال نہیں بھی لینا چاہتے تو ان سیکڑوں لوگوں کی مثالیں لے لیجیے، جنہیں امریکا نے بدنام زمانہ جیل گوانتانامو میں قید کیا تھا۔ ان میں سے کئی نے بعد از رہائی اپنی روداد لکھی ہے، وہ پڑھیں، اُن پر ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ انسانیت شرما کر منہ چھپانے لگے۔
اب ہم کہ سکتے ہیں کہ مغرب کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے افغانستان کی صورتحال میں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہرگز لازمی نہیں ہے کہ جس بات کو وہ معیار سمجھتے ہیں، وہ ٹھیک بھی ہو۔ مثال کے طور پر مغرب میں بغیر شادی جنسی تعلقات انسانی حقوق تصور کیے جاتے ہیں بس اس کے لیے بالغ ہونا شرط ہے، وہاں بغیر شادی ایک ساتھ رہنا بھی کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ اب یہ امور افغانستان تو کیا، کسی بھی مہذب معاشرے میں درست نہیں کہلائے جا سکتے ہیں۔
افغانستان کی معاشی صورتحال بھی طالبان کے لیے ایک چیلنج ہے۔ افغان معیشت دستاویزی نہیں ہے، ہو بھی نہیں سکتی تھی کہ ۲۰ سال تو وہ جنگ میں رہے ہیں۔ اس دوران کٹھ پتلی حکومتیں اپنے بیرونی اکاؤنٹس بھرنے اور امریکا مار دھاڑ کے ساتھ وسائل لوٹنے میں مصروف رہا۔ حال ہی میں افغان حکومت کے ۹ ارب کے فارن ریزرو اکاونٹس بھی منجمد کردیے گئے ہیں، جس کا مقصد طالبان کو مشکلات سے دوچار کرنے کے سوا بھلا کیا ہو سکتا ہے؟۔ اسی طرح آئی ایم ایف نے ۴۵ کروڑ ڈالرز کی ایک قسط افغانستان کو جاری کرنی تھی، وہ بھی اس نے روک لی ہے۔ یہاں ایک بات اور اہم ہے کہ ماضی میں طالبان جب ابھرے تھے تو وہ ایک ردعمل کے باعث سامنے آئے تھے۔ آج کے طالبان ایک فاتح کے طور پر افغانستان میں سامنے آئے ہیں، لہٰذا ان کے مائنڈ سیٹ میں فرق ہے۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں مذاکرات کے میدان میں، یعنی اپنی سفارت کاری سے جس طرح دنیا کو حیران کیا ہے، عین ممکن ہے کہ وہ معیشت کے میدان میں بھی دنیا کو حیران کردیں، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنی سرحد طالبان کے ساتھ تجارت کے لیے کھول دی ہے۔ اسی طرح سے چین بھی طالبان کی مدد اور ان کی اکاؤنٹ بکس ٹھیک کرنے پر تیار ہے۔ ویسے بھی طالبان کے پاس ایسے افراد کی کمی نہیں، جنہوں نے جنگ کے طویل عرصے میں اربوں ڈالرز کا حساب کتاب خود ہی سادہ کاغذوں پر کیا ہے۔ افغانستان کو گندم اور چینی کی ضرورت ہے، جسے پورا کرنے کے لیے ان کے پاس پاکستان سمیت کئی دیگر ذرائع بھی دستیاب ہیں۔اس کے علاوہ ڈومیسٹک مارکیٹ کی صورت میں ایران اور پاکستان کی مارکیٹ موجود ہے، لہٰذا اس چیلنج سے نکلنے کے لیے معیشت کا دباؤ کم کرنے کی کئی صورتیں بن سکتی ہیں۔
طالبان کے لیے تیسرا بڑا چیلنج داعش ہے۔ اس معاملے پر امریکا اور طالبان کا اتفاق ہے کہ داعش کو افغانستان میں پھلنے پھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ داعش امریکا نے جان بوجھ کر افغانستان میں بنائی ہے۔ وہ اس بات کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ ماضی میں جب ہم داعش کو گھیر لیتے تھے تو کس کے ہیلی کاپٹرز آتے تھے اور داعش کو ریسکیو کرتے تھے؟ امریکا کے پاس اس سوال کا کوئی مدلل جواب نہیں ہے۔ داعش کے لیے بھی افغان پالیسی یہی ہے کہ جو ان میں سے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں آتے ہیں، ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن جو لڑنے پر آمادہ ہیں، ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ طالبان دو ٹوک الفاظ میں پوری دنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ افغان سرزمین اب کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ طالبان کے لیے افغانستان کا شمال پھر سے چیلنج بن رہا ہے، جہاں کے ازبک اور تاجک کو داعش کے ساتھ روکنا ترجیح ہے۔ طالبان کے حوصلے اور مورال تو بلند ہیں کہ انہوں نے استقامت کے ساتھ لڑتے ہوئے ایک سپر پاور کو بدترین شکست سے دوچار کرکے بھاگنے پر مجبور کیا ہے، لیکن اب ان کو اندرونی چیلنجز کا سامنا بہرحال ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں قیام امن کے لیے تمام فریق متحد ہوں۔ موجودہ صورت حال میں طالبان حکومت کے عالمی طاقتوں سے روابط بھی مستحکم مستقبل کا راستہ ہو سکتے ہیں۔ ایک جانب جہاں چین اور روس کی افغانستان سے اُمیدیں ہیں، وہیں اور رکی کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔بھارت تو ابتدا ہی سے خطے کا دشمن ہے، لہٰذا اس مکار سے امن کی بات کرنا بے سود ہو سکتا ہے۔ جب تک مودی سرکار آر ایس ایس جیسی دہشت گرد تنظیموں کی کٹھ پتلی بنی رہے گی، تب تک خطے خصوصاً اسلام دشمنی کی سازشیں بُنی جاتی رہیں گی اور بھارت ہمیشہ کی طرح اپنے منہ پر سیاہ داغ سجاتا رہے گا۔