ایمان، فتح اور غور و فکر کا مقام

381

افغانستان کی بیس سالہ جنگ میں امریکا اور ناٹو اتحادیوں کی شکست اور افغان طالبان کی عظیم الشان فتح پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور کئی دہائیوں تک لکھا جاتا رہے گا۔ راقم کی نظر میں امریکا اور اتحادیوں کی ہزیمت اور ذلت کے حوالے سے کئی باتوں میں سے ایک بڑی ذلت آمیز اور رسوا کن بات یہ ہے کہ جب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک امریکی میڈیا کے سوال کے جواب میں بیس سالہ پرانا موقف دہرا دیا۔ انہوں نے انتہائی خود اعتمادی سے کہا کہ ہمیں امریکا نے اسامہ بن لادن کے حوالے سے کبھی کوئی ثبوت نہیں دیے۔ یعنی اگر آج بیس سال کی صبر آزما، مہنگی، اور خونریز جنگ کے بعد بھی امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اس نے ایک جائز جنگ شروع کی تھی تو وہ غلطی پر ہے۔ یعنی یہ کہ اگر آج اسامہ بن لادن طالبان کے مہمان ہوتے تو طالبان آج بھی اسے امریکا کے حوالے نہیں کرتے۔ یہ ہے امریکی شکست کی ذلت کی گہرائی جو نہ صرف اس کی دنیا بھر میں بلکہ خاص طور پر اس کی اپنی عوام کے سامنے ہورہی ہے۔ جب ایک غیر ملکی مہمان کی حوالگی کے معاملے میں طالبان نے بدمست سپر پاور کا موقف تسلیم نہیں کیا تو وہ اْس کا افغانستان پر حملہ اور قبضہ، اسلام کے برخلاف نئے سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی منصوبے کیسے قبول کر لیتے۔ باقی 9 دن میں 20 سال کی مادہ پرستی میں ڈوبی ہوئی محنت کا ضائع ہونا اور انخلا کے وقت طالبان ہی سے سیکورٹی اور مدد مانگنا تو دنیا نے دیکھ ہی لیا۔
غورو فکر کا مقام یہ ہے کہ آخر طالبان نے امریکا و ناٹوکی دھونس، دھمکی اور بدمعاشی کو کیوں قبول نہیں کیا؟۔ بے تحاشا قربانیوں سے حاصل شدہ حکومت کو اصولوں پر قربان کیوں کیا؟۔ بغیر وسائل اور ٹیکنالوجی دنیا کا کامیاب مقابلہ کیسے کیا؟۔ آخر طالبان کے عزم و استقلال، قوت و جرأت، پامردی و شجاعت کا منبع و سرچشمہ کیا ہے؟۔ اس موضوع پر مادی سطح سے ہٹ کر اکا دکا ہی لوگ پاکستانی مین اسٹریم میڈیا میں بات کر رہے ہیں۔ کوئی پاکستانی اگر اس تاریخی تبدیلی کو نارمل لے رہا ہے اور اس کے عوامل اور وجوہات کو صرف افغانستان کی جغرافیائی انفرادیت، گوریلا وار فیر اور خالصتاً جنگی حکمت عملی کی نظر سے دیکھ رہا ہے تو راقم کی نظر میں وہ اپنے اندر ایمان کی کمی و ماہیت کا تجزیہ پہلے کرے۔ اللہ پر ایمان و یقین، صبرو استقامت کی قرآنی کیفیات اور توکل علی اللہ کا جو مظاہرہ افغان طالبان نے مجموعی طور پر کیا اس پر امریکا و یورپ میں کتابیں تو لکھی ہی جائیں گی لیکن اگر پاکستان کے حکمران، اشرافیہ اور عوام اس سے مثبت سبق نہیں سیکھ رہے اور ان بے نظیر واقعات سے ہمت اور کمر نہیں باندھ رہے تو اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات کیا ہوسکتی ہے۔
لبرل سیکولر دانش وروں، کالم نگاروں اور لکھاریوں کی علمی و فکری بددیانتی یا کج فہمی پر کیا بات کریں کہ انہوں اس فقیدالمثال تاریخی واقعہ پر بھی دجل کے پردے ڈالنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ایسا ڈراما رچایا جارہا ہے جیسے افغانستان گزشتہ چالیس سال سے کوئی جنت نظیر ملک تھا۔ طالبان کے انسانی حقوق کے معاملات پر یہ خواتین و حضرات ایسے نظر رکھے ہوئے ہیں جیسے دنیا میں ایک ہی ملک رہ گیا ہے جہاں خواتین اور اقلیتوں کا استیصال ہوسکتا ہے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ کتنی بار آپ نے یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ کے نائٹ کلبوں اور قحبہ خانوں میں عورت کے استیصال اور اس نظام کے سپلائی چین پر لکھا اور بولا ہے۔ اربوں ڈالر کی فحاشی کی انڈسٹری کیا خواتین کی عزت و آزادی و حقوق کی علامت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مغرب کی لبرل قدروں اور روایات میں سے جو اسلام کے نظریات و احکامات سے متصادم ہیں ان کا کھل کر ابطال کیا جائے۔ پاکستان کو اگر بعض بنیادی اسلامی احکامات کے حوالے سے قوانین بنانے کی توفیق نہیں ہوئی تو پھر بھی اسلام سے جڑے ہوئے مفکرین، علماء، صحافیوں اور لکھاریوں کو میدان میں آکر افغان طالبان کے شرعی فیصلوں کا علمی، اخلاقی اور منطقی لحاظ سے جواب دینا پڑے گا۔ اسلامی نظام کی برتری تمام نظاموں پر واضح کرنا ہوگی۔ سورہ صف میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ’’وہی تو ہے جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کردے اگرچہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔ سورہ التوبہ آیت ۳۳ میں بھی ہو بہو یہی الفاظ ہیں۔ اب دیکھ لیں اللہ اور اس کے رسولؐ کی شریعت پر کون لوگ خفا اور پریشان ہوتے ہیں۔
یہ اللہ نے ہم پاکستانیوں کو خاص طور پر بہترین موقع عطا کیا ہے کہ اللہ کی شریعت، اسلام کے احکامات، رسول اللہؐ اور دورِ خلفائے راشدین میں وضح کیے گئے نظام کی حکمتیں دنیا بھر میں واضح کریں۔ انسانی حقوق، آزادی اظہار، عورتوں اور مردوں کے حقوق اور دائرہ کار، سود سے پاک معاشی نظام کی اسلامی منطق اور فلسفہ کھول کھول کر بیان کریں۔ تحقیقات، مقالات اور دستاویزات کا انبار پہلے سے ہی دستیاب تھا لیکن طالبان کی عظیم فتح کے بعد لوگ اب طالبان کے نظریات و عقائد، قول و فعل کو سننے اور سمجھنے کے لیے ویسے ہی آمادہ اور راضی ہیں جیسے ایک فاتح گروہ، لشکر کے بارے میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔ فاتحین اپنا بیانیہ لاتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کا حال دیکھ لیں۔ مسجد و مدرسوں اور کچھ گوشوں کو چھوڑ کر کون سی ایسی جگہ، ادارہ یا نظام ہے جہاں انگریزوں نے اپنا نام، نظام اور فلسفہ نہ چھوڑا ہو۔ اور جس کا دفاع ہمارے مغرب زدہ لبرل دانشور نہ کرتے ہوں۔ غلامی کی زنجیریں ہم نے فخر سے پہن رکھی ہیں۔ لیکن اب کم از کم پڑوس کے فاتح کو تو دیکھا جاسکتا ہے جو ہمارا ہم مذہب و دین بھی ہے۔ اس کی کامیابی اور فتح کے نظریات کو تو جانچا جاسکتا ہے۔ کس عزم، کس مشن کی وجہ سے انہوں نے برسوں جان گسل قربانیا ں دیں، اس بات کا انصاف کے ساتھ تجزیہ تو کیا جاسکتا ہے۔ کیا ہے ان کے بیانیے، نظریات و عقائد اور قول و فعل کی جڑ اور بنیاد۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ شکست صرف امریکا کی نہیں پورے یورپ کی ہوئی ہے۔ اور اس کی عینی شاہد الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کی وجہ سے پوری دنیا ہے۔ مشرق سے لیکر مغرب تک۔ اور ان شاء اللہ طالبان کی یہ جنگی اور سیاسی فتح، معاشی، معاشرتی و سماجی میدانوں میں بھی ہوگی۔ باطل سیکولر اور غیر اسلامی لبرل نظریات کو شکست ہوگی۔
آخر میں پاکستانی مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال کا تجزیہ بحیثیت مخلص مسلمان اور پاکستانی کریں اور پاکستان کا سچا اور کھرا بیانیہ آئین ِ پاکستان اور قرارداد مقاصد کی روشنی میں پیش کریں۔ جس کو نہ صرف دھندلا بلکہ مسخ کرنے کی سازش 70 سال سے ہورہی ہے۔ ’’پیغام پاکستان‘‘ کا نیا انڈیشن جاری کیا جائے جس میں حکمرانوں اور اشرافیہ کی نفاق کو چھوتی ہوئی کمزوریوں، غفلت، تساہل اور بے وفائیوں کے معاملے کو علماء کرام کے فتوے کے پیچھے چھپانے کے بجائے دین اسلام کی طرف پیش قدمی کرنے کا واضح لائحہ عمل پیش کیا جائے۔ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے یا کسی اور طریقے سے علماء و دینی اسکالرز کے ساتھ فی الفور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ یہ کہہ کر کہ پاکستان کے پچانوے فی صد قوانین اسلامی ہیں پاکستانی عوام کو بے وقوف بنانے کے بجائے سود، کھلی بے حیائی و فحاشی، طبقاتی، علاقائی و لسانی نا انصافیاں جو جا بجا پاکستان کے سیاسی، معاشرتی اور معاشی نظام میں موجود ہیں، ان کے خاتمے کی صدق دل سے منصوبہ بندی کی جائے۔ یقین جانئے یہ اقدامات مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں بنیادی طور پر ممد و معاون ثابت ہوںگے۔