انسانیت کی فلاح کی علم بردار جماعت

114

آج 26 اگست ہے آج ہی کے دن مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی اس عزم کے ساتھ کہ ایسے افراد تلاش کیے جائیں جن کے اندر مشنری جذبہ موجود ہو جو اپنے اندر یہ احساس رکھیں کہ ہم ایک مشنری قوم کے فرد ہیں ہمارا منصب یہ ہے کہ ہم کھڑے ہو کر تمام دنیا سے غیر اللہ کی حاکمیت مٹا دیں اور خدا کے بندوں پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت باقی نہ رہے۔ امت مسلمہ آج مجموعی طور پر جن آزمائشوں اور مغلوبیت کا شکار ہے ان کا حل اسوہ سیدنا حسینؓ کی پیروی میں ہے۔ ظلم و زیادتی کے خلاف جہاد کی تڑپ دلوں میں زندہ رکھنا، حق پر ثابت قدمی سے ڈٹ جانا، باطل سے سمجھوتا نہ کرنا ہی سیدنا حسینؓ کے سنہری اصول ہیں اور یہ کہ فتح کا دار ومدار اکثریت یا اقلیت پر نہیں بلکہ نظریہ اور نصب العین کی سچائی پر ہوتا ہے۔ عالمی منظر نامے میں طالبان کی جیت اسی سے عبارت ہے۔ مجموعی طور پر امت مسلمہ جن آزمائشوں کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ قربانی و ایثار کے جذبے کا ماند پڑ جانا ہے۔ آج کشمیر تا فلسطین امت مسلمہ لہو لہو ہے۔ جماعت اسلامی قوم پرست یا وطن پرست جماعت نہیں بلکہ اس کا نظریہ عالمگیر ہے اور پوری انسانیت کی فلاح اس کے پیش نظر ہے۔ جماعت اسلامی کا منشور و پیغام، اسلامی فلاحی ریاست کا قیام ہے۔ اسلامی اور خوشحال پاکستان کا قیام ہے۔ حصول پاکستان کے لیے دی گئی قربانیاں آج بھی ہم سے تکمیل پاکستان کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر آئے روز ہونے والے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تحریک کو آزمائشوں کا طویل سفر طے کرنا ہے۔ قربانی وایثار کے جذبے کے ساتھ تاریخ رقم کرنی ہے۔ ظلم و زیادتی کے خلاف جہاد کی تڑپ کو دلوں میں زندہ رکھنا، حق پر ثابت قدمی سے ڈٹ جانا اور باطل سے سمجھوتا نہ کرنا، نظریہ و نصب العین کی خاطر اپنے ہم خیال افراد کی تلاش جاری رکھنا ہی ایک داعی کا فرض ہے۔
صائمہ عبدالوحد، کراچی